فراق گورکھپوری کی پچاس غزلیں

فراق گورکھپوری شاید روایتی انداز و اسلوب میں طویل ترین غزلیں کہنے والے ہمارے آخری شاعر تھے۔ ان کے بعد یا تو کسی نے اس قدر طویل غزل لکھی نہیں یا لکھی تو اس کی غزل اس قدر جچی نہیں۔ خود نئی نسل کا حال یہ ہے کہ وہ سات یا نو شعروں کو بھی طویل غزل سمجھتی ہے۔ یہ تو خیر ہمارے دور اور علم دونوں کی مجبوریاں ہیں کہ ہمیں سکڑنا زیادہ پسند ہے، ہم قافیوں کے دوہرانے کی نہ تو سکت رکھتے ہیں اور نہ ہی اسے پسند کرتے ہیں۔ لیکن فراق صاحب کی غزلیں اپنی طوالت اور روایت کی بھرپور شان کے ساتھ ایک بہترین اسلوب کی نمائندہ غزلیں ہیں، جس پر اردو شاعری کو ہمیشہ فخر رہے گا۔ میں نے ان کی یہ غزلیں اپنے ایک دوست کے پیش کیے گئے سو غزلوں کے انتخاب میں سے ٹائپ کی ہیں۔ تین دن کی محنت سے میں یہ کام کرسکا ہوں اور امید کرتا ہوں کہ اس میں آپ کو وہ مشہور اشعار بھی ضرور مل جائیں گے جو فراق صاحب کی غزل گوئی کا بنیادی حوالہ بن چکے ہیں اور وہ رنگ بھی دکھے گا جو اب تک ان پر کی گئی غیر سنجیدہ تنقید کے سبب چھپا رہا۔ شمیم حنفی صاحب نے ایک دفعہ بہت اہم بات کی تھی کہ فراق صاحب اپنی گفتگوئوں میں جتنا کھلے، اتنا اپنی تحریروں میں نہ کھل سکے، ضرور انہوں نے اپنی کسی گفتگو میں اپنی شاعری پر معاصرین کے کیے جانے والے اعتراضات کا جواب بھی دیا ہوگا، لیکن ان کی زندگی یا بعد میں کیے گئے اعتراضات کی حقیقت ان کی غزل کے سنجیدہ مطالعے سے ظاہر ہوجاتی ہے، جس میں فراق گورکھپوری کی شعر گوئی کا پلڑا بھاری رہا ہے اور ہمیشہ رہے گا۔ شکریہ


آج بھی قافلۂ عشق رواں ہے کہ جو تھا
وہی میل اور وہی سنگ نشاں ہے کہ جو تھا
پھر ترا غم وہی رسوائے جہاں ہے کہ جو تھا
پھر فسانہ بحدیثِ دگراں ہے کہ جو تھا
منزلیں گرد کے مانند اُڑی جاتی ہیں
وہی انداز جہانِ گذراں ہے کہ جو تھا
ظلمت و نور میں کچھ بھی نہ محبت کو ملا
آج تک ایک دھند لکے کا سماں ہے کہ جو تھا
یوں تو اس دَور میں بے کیف سی ہے بزم حیات
ایک ہنگامہ سرِ رطلِ گراں ہے کہ جو تھا
لاکھ کر جور و ستم لاکھ کر احسان و کرم
تجھ پہ اے دوست وہی وہم و گماں ہے کہ جو تھا
آج پھر عشق دو عالم سے جدا ہوتا ہے
آستینوں میں لئے کون و مکاں ہے کہ جو تھا
عشق افسردہ نہیں آج بھی افسردہ بہت
وہی کم کم اثرِ سوز نہاں ہے کہ جو تھا
قرب ہی کم ہے نہ دوری ہی زیادہ لیکن
آج وہ ربط کا اھساس کہاںہے کہ جو تھا
نظر آ جاتے ہیں تم کو تو بہت نازک بال
دل مرا کیا وہی اے شیشہ گراں ہے کہ جو تھا
جان دے بیٹھے تھے اک بار ہوس والے بھی
پھر وہی مرحلۂ سود و زیاں ہے کہ جو تھا
آج بھی صید گہ عشق میں حسن سفّاک
لئے ابرو کی لچکتی سی کماں ہے کہ جو تھا
پھر تری چشم سخن سنج نے چھیڑی کوئی بات
وہی جادو ہے وہی حسن بیاں ہے کہ جو تھا
تیرہ بختی نہیں جاتی دلِ سوزاں کی فراقؔ
شمع کے سر پہ وہی آج دھواں ہے کہ جو تھا
***

دورِ آغازِ جفا دل کا سہارا نکلا
حوصلہ کچھ نہ ہمارا نہ تمھارا نکلا
تیرا نام آتے ہی سکتے کا تھا عالم مجھ پر
جانے کس طرح یہ مذکور دوبارا نکلا
ہوش جاتا ہے ، جگر جاتا ہے، دل جاتا ہے
پردے ہی پردے میں کیا تیرا اشارا نکلا
ہے ترے کشف و کرامات کی دنیا قائل
تجھ سے اے دل نہ مگر کام ہمارا نکلا
کتنے سفاک سرِ قتل گہہِ عالم تھے
لاکھوں میں بس وہی اللہ کا پیارا نکلا
عبرت انگیز ہے کیا اُس کی جواں مرگی بھی
ہائے وہ دل جو ہمارا نہ تمھارا نکلا
عشق کی لَو سے فرشتوں کے بھی پر جلتے ہیں
رشکِ خورشیدِ قیامت یہ شرارا نکلا
سر بسر بے سر و ساماں جسے سمجھے تھے وہ دل
رشکِ جمشید و کَے و خسرو و دارا نکلا
رونے والے ہوئے چُپ ہجر کی دنیا بدلی
شمع بے نور ہوئی صبح کا تارا نکلا
اُنگلیاں اُٹھیں فراقؔ، وطن آوارہ پر
آج جس سمت سے وہ درد کا مارا نکلا
٭٭٭

دیدار میں اک طرفہ دیدار نظر آیا
ہر بار چھپا کوئی ہر بار نظر آیا
چھالوں کو بیاباں بھی گلزار نظر آیا
جب چھیڑ پر آمادہ ہر خار نظر آیا
صبحِ شبِ ہجراں کی وہ چاک گریبانی
اک عالمِ نیرنگی ہر تار نظر آیا
ہو صبر کہ بیتابی، اُمید کہ مایوسی
نیرنگِ محبت بھی بیکار نظر آیا
جب چشم سیہ تیری تھی چھائی ہوئی دل پر
اِس مُلک کا ہر خطّہ تاتار نظر آیا
تونے بھی تو دیکھی تھی وہ جاتی ہوئی دُنیا
کیا آخری لمحوں میں بیمار نظر آیا
غش کھاکے گرے موسیٰ اللہ ری مایوسی
ہلکا سا وہ پردہ بھی دیوار نظر آیا
ذرّہ ہو کہ قطرہ ہو خمخانہ ہستی میں
مخمور نظر آیا سرشار نظر آیا
کیا کچھ نہ ہوا غم سے کیا کچھ نہ کیا غم نے
اور یوں تو ہوا جو کچھ بیکار نظر آیا
اے عشق قسم تجھ کو معمورۂ عالم کی
کوئی غمِ فرقت میں غم خوار نظر آیا
شب کٹ گئی فرقت کی دیکھا نہ فراقؔ آخر
طولِ غمِ ہجراں بھی بیکار نظر آیا
٭٭٭

زیر و بم سے سازِ خلقت کے جہاں بنتا گیا
یہ زمیں بنتی گئی یہ آسماں بنتا گیا
داستانِ جور بے حد خوں سے لکھتا ہی رہا
قطرہ قطرہ اشکِ غم کا بے کراں بنتا گیا
عشقِ تنہا سے ہوئیں آباد کتنی منزلیں
اک مسافر کارواں در کارواں بنتا گیا
میں ترے جس غم کو اپنا جانتا تھا وہ بھی تو
زیبِ عنوانِ حدیثِ دیگراں بنتا گیا
بات نکلے بات سے جیسے وہ تھا تیرا بیاں
نام تیرا داستاں در داستاں بنتا گیا
ہم کو ہے معلوم سب رودادِ علمِ و فلسفہ
ہاں ہر ایمان و یقیں وہم و گماں بنتا گیا
میں کتاب دل میں اپنا حالِ غم لکھتا رہا
ہر ورق اک بابِ تاریخِ جہاں بنتا گیا
بس اسی کی ترجمانی ہے مرے اشعار میں
جو سکوتِ راز رنگیں داستاں بنتا گیا
میں نے سونپا تھا تجھے اک کام ساری عمر میں
وہ بگڑتا ہی گیا اے دل کہاں بنتا گیا
وارداتِ دل کو دل ہی میں جگہ دیتے رہے
ہر حسابِ غم حسابِ دوستاں بنتا گیا
میری گھٹی میں پڑی تھی ہو کے حل اردو زباں
جو بھی میں کہتا گیا حسنِ بیاں بنتا گیا
وقت کے ہاتھوں یہاں کیا کیا خزانے لٹ گئے
ایک تیرا غم کہ گنجِ شائگاں بنتا گیا
سر زمینِ ہند پر اقوامِ عالم کے فراقؔ
قافلے بستے گئے، ہندوستاں بنتا گیا
٭٭٭

طور تھا، کعبہ تھا، دل تھا ، جلوہ زارِ یار تھا
عشق سب کچھ تھا مگر پھر عالمِ اسرار تھا
نشۂ صد جام کیفِ انتظارِ یار تھا
ہجر میں ٹھہرا ہوا دل ساغرِ سرشار تھا
دل دُکھے روئے ہیں شاید اس جگہ اے کوئے دوست
خاک کا اتنا چمک جانا ذرا دشوار تھا
الوداع اے بزمِ انجم، ہجر کی شب الفراق
تابہ دَورِ زندگانی انتظارِ یار تھا
ذرّہ ذرّہ آئینہ تھا خود نمائی کا فراقؔ
سر بسر صحرائے عالم جلوہ زارِ یار تھا
٭٭٭

غم تراجلوہ دہِ کون و مکاں ہے کہ جو تھا
یعنی انسان وہی شعلہ بجاں ہے کہ جو تھا
پھر وہی رنگِ تکلم نگہہ ناز میں ہے
وہی انداز وہی حسن بیاں ہے کہ جو تھا
کب ہے انکار ترے لطف وکرم سے لیکن
تووہی دشمن دل دشمن جاں ہے کہ جو تھا
عشق افسردہ نہیں آج بھی افسر دہ بہت
وہی کم کم اثر سوز نہاں ہے کہ جو تھا
قرب ہی کم ہے نہ دوری ہی زیادہ لیکن
آج وہ ربط کااحساس کہاں ہے کہ جو تھا
نظر آجاتے ہیں تم کوتوبہت نازک بال
دل مراکیا وہی اے شیشہ گراں ہے کہ جو تھا
جان دے بیٹھے تھے اک بار ہوس والے بھی
پھر وہی مرحلہ سودوزیاں ہے کہ جو تھا
حسن کو کھینچ تولیتاہے ابھی تک لیکن
وہ اثر جذب محبت میں کہاں ہے کہ جو تھا
آج بھی صید گہہ عشق میں حسن سفاک
لئے ابروکی لچکتی سی کماں ہے کہ جو تھا
آج بھی کاوش پنہاں ہے محبت کی وہی
نشتراک آج رگ رگ میں رواں ہے کہ جو تھا
پھر تری چشم سخن سنج نے چھیڑی کوئی بات
وہی جادو ہے وہی حسن بیاں ہے کہ جو تھا
پھر سرمیکدۂ عشق ہے اک بارشِ نور
چھلکے جاموں سے چراغاں کا سماں ہے کہ جو تھا
پھر وہی خیرہ نگاہی ہے ترے جلوئوں سے
وہی عالم ترااے برق دماں ہے کہ جو تھا
آج بھی آگ دبی ہے دل انساں میں فراقؔ
آج بھی سینوں سے اٹھتا وہ دھوں ہے کہ جو تھا
٭٭٭

میکدے میں آج اک دنیا کو اِذنِ عام تھا
دَورِ جامِ بے خودی بے گانۂ ایام تھا
رُوح لرازاں، آنکھ محوِ دید دل ناکام تھا
عشق کا آغاز بھی شائستۂ انجام تھا
رفتہ رفتہ عشق کو تصویرِ غم کر ہی دیا
حسن بھی کتنا خرابِ گردشِ ایام تھا
غم کدے میں دہر کے یوں تو اندھیرا تھا مگر
عشق کا داغِ سیہ بختی چراغِ شام تھا
تیری دزدیدہ نگاہی یوں تو نا محسوس تھی
ہاں مگر دفتر کا دفتر حسن کا پیغام تھا
شاق اہلِ شوق پر تھیں اس کی عصمت داریاں
سچ ہے، لیکن حُسن در پردہ بہت بدنام تھا
محو تھے گلزارِ رنگا رنگ کے نقش و نگار
وحشتیں تھی، دل کے سنّاٹے تھے، دشتِ شام تھا
بے خطا تھا حُسن ہر جور و جفا کے بعد بھی
عشق کے سَر تا ابد الزام ہی الزام تھا
یوں گریباں چاک دنیا میں نہیں ہوتا کوئی
ہر کھِلا گلشن شہیدِ گردشِ ایام تھا
دیکھ حُسنِ شرمگیں درِپردہ کیا لایا ہے رنگ
عشق رسوائے جہاں بدنام ہی بدنام تھا
رونقِ بزمِ جہاں تھا گو دلِ غمگیں فراقؔ
سرد تھا، افسردہ تھا، محروم تھا، ناکام تھا
٭٭٭

نگاہِ ناز نے پردے اٹھائے ہیں کیا کیا
حجاب اہلِ محبت کو آئے ہیں کیا کیا
جہاں میں تھی بس اک افواہ تیرے جلوئوں کی
چراغ دیر و حرم جھلملائے ہیں کیا کیا
دو چار برقِ تجلی سے رہنے والوں نے
فریب نرم نگاہی کے کھائے ہیں کیا کیا
دلوں پہ کرتے ہوئے آج آتی جاتی چوٹ
تری نگاہ نے پہلو بچائے ہیں کیا کیا
نثار نرگس میگوں کہ آج پیمانے
لبوں تک آئے ہوئے تھر تھرائے ہیں کیا کیا
وہ اک ذرا سی جھلک برق کم نگاہی کی
جگر کے زخم نہاں مسکرائے ہیں کیا کیا
چراغ طور جلے آئینہ در آئینہ
حجاب برق ادا نے اٹھائے ہیں کیا کیا
بقدرِ ذوق نظر دید حسن کیا ہو مگر
نگاہِ شوق میں جلوے سمائے ہیں کیا کیا
کہیں چراغ، کہیں گل، کہیں دل برباد
خرامِ ناز نے فتنے اٹھائے ہیں کیا کیا
تغافل اور بڑھا اس غزال رعنا کا
فسونِ غم نے بھی جادو جگائے ہیں کیا کیا
ہزار فتنۂ بیدار خواب رنگیں میں
چمن میں غُنچہ گل رنگ لائے ہیں کیا کیا
ترے خلوص نہاں کا تو آہ کیا کہنا
سلوک اُچٹے بھی دل میں سمائے ہیں کیا کیا
نظر بچا کے ترے عشوہ ہائے پنہاں نے
دلوں میں درد محبت اٹھائے ہیں کیا کیا
پیام حسن، پیام جنوں، پیام فنا
تری نگہ نے فسانے سنائے ہیں کیا کیا
تمام حسن کے جلوے تمام محرومی
بھرم نگاہ نے اپنے گنوائے ہیں کیا کیا
فراقؔ راہ و فا میں سُبک روی تیری
بڑے بڑوں کے قدم ڈگمگائے ہیں کیا کیا
٭٭٭

ہجر و وصالِ یار کا پردہ اُٹھا دیا
خود بڑھ کے عشق نے مجھے میرا پتا دیا
گرد و غبارِ ہستیِ فانی اُڑا دیا
اے کیمیائے عشق مجھے کیا بنا دیا
وہ سامنے ہے اور نظر سے چھپا دیا
اے عشقِ بے حجاب مجھے کیا دکھا دیا
وہ شانِ خامشی کہ بہاریں ہیں منتظر
وہ رنگِ گفتگو کہ گلستاں کھِلا دیا
دم لے رہی تھیں حسن کی جب سحر کاریاں
اُن وقفہ ہائے کفر کو ایماں بنا دیا
معلوم کچھ مجھی کو ہیں ان کی روانیاں
جن قطرہ ہائے اشک کو دریا بنا دیا
اِک برقِ بے قرار تھی تمکینِ حُسن بھی
جس وقت عشق کو غمِ صبر آزما دیا
ساقی مجھے بھی یاد ہیں وہ تشنہ کامیاں
جن کو حریف ساغر و مینا بنا دیا
معلوم ہے حقیقتِ غمہائے روزگار
دُنیا کو تیرے درد نے دُنیا بنا دیا
اے شوخیِٔ نگاہِ کرم مدّتوں کے بعد
خوابِ گرانِ غم سے مجھے کیوں جگا دیا
کچھ شورشیں تغافلِ پنہاں میں تھیں جنھیں
ہنگامہ زارِ حشرِ تمنا بنا دیا
بڑھتا ہی جا رہا ہے جمالِ نظر فریب
حسنِ نظر کو حُسنِ خودآرا بنا دیا
پھر دیکھنا نگاہ لڑی کس سے عشق کی
گر حُسن نے حجابِ تغافل اُٹھا دیا
جب خون ہو چکا دلِ ہستیِ اعتبار
کچھ ورد بچ رہے جنھیں انساں بنا دیا
گُم کروۂ و فورِ غمِ انتظار ہوں
تو کیا چھپا کہ مجھ کو مجھی سے چھپا دیا
رات اب حریفِ صبحِ قیامت ہی کیوں نہ ہو
جو کچھ بھی ہو اس آنکھ کو اب تو جگا دیا
اب میں ہوں اور لطف و کرم کے تکلّفات
یہ کیوں حجابِ رنجشِ بیجا بنا دیا
تھی یوںتو شامِ ہجر مگر پچھلی رات کو
وہ درد اُٹھا فراقؔ کہ میں مسکرادیا
٭٭٭

سُنا تو ہے کہ کبھی بے نیازِ غم تھی حیات
دلائی یاد نگاہوں نے تیری کب کی بات
زماں مکاں ہیں فقط مدّ و جزرِ جوشِ حیات
بس ایک موج کی ہیں جھلکیاں قرار و ثبات
حیات بن گئی تھی جن میں ایک خوابِ حیات
ارے دوام و ابد تھے وہی تو کچھ لمحات
حیات دوزخیاں بھی تمام مبہم ہے
عذاب بھی نہ میسّر ہوا کہاں کی نجات
تری نگاہ کی صبحیں، نگاہ کی شامیں
حریم راز یہ دنیا، جہاں نہ دن ہیں نہ رات
بس اک شرابِ کہن کے کرشمے ہیں ساقی!
نئے زمانے، نئی مستیاں، نئی برسات
کسی پہ ظلم بُرا ہے، مگر یہ کہتا ہوں
کہ آدمی پہ ہو احسان آدمی، ہیہات
سکوتِ راز وہی ہے جو داستاں بن جائے
نگاہ ناز وہی جو نکالے بات میں بات
غم و نشاط محبت کی چھوڑ دے لالچ
ہر اک سے اُٹھتے نہیں یہ عذاب یہ برکات
تمام عکس ہے دنیا تمام عکسِ عدم
کہاں تک آئینہ در آئینہ حیات و ممات
فضا میں مہکی ہوئی چاندنی کہ نغمۂ راز
کہ اُتریں سینۂ شاعر میں جس طرح نغمات
بس ایک راز تسلسل بس اک تسلسل راز
کہاں پہنچ کے ہوئی ختم بحث ذات و صفات
چمکتے درد، کھلے چہرے، مسکراتے اشک
سجائی جائے گی اب طرزِ نو سے بزمِ حیات
جسے سب اہل جہاں زندگی سمجھتے ہیں
کبھی کبھی تو ملے ایسی زندگی سے نجات
اگر خدا بھی ملے تو نہ لے، کہ او ناداں
ہے تو ہی کعبۂ دیں، تو ہی قبلۂ حاجات
تمام خستگی و ماندگی ہے عالم ہجر
تھکے تھکے سے یہ تارے تھکی تھکی سی یہ رات
تری غزل تو نئی روح پھونک دیتی ہے
فراقؔ دیر سے چھوٹی ہوئی ہے نبض حیات
٭٭٭

یہ نرم نرم ہوا جھلملا رہے ہیں چراغ
ترے خیال کی خوشبو سے بس رہے ہیں دماغ
دلوں کو تیرے تبسّم کی یاد یوں آئی
کہ جگمگا اٹھیں جس طرح مندروں میں چراغ
جھلکتی ہے کھنچی شمشیر میں نئی دُنیا
حیات و موت کے ملتے نہیں ہیں آج دماغ
حریفِ سینۂ مجروح و آتشِ غم عشق
نہ گل کی چاک گریبانیاں نہ لالے کے داغ
وہ جن کے حال میں لو دے اٹھے غمِ فردا
وہی ہیں انجمنِ زندگی کے چشم و چراغ
تمام شعلۂ گل ہے تمام موجِ بہار
کہ تا حدِ نگہہِ شوق لہلہاتے ہیں باغ
نئی زمین، نیا آسماں، نئی دنیا
سنا تو ہے کہ محبت کو ان دنوں ہے فراغ
جو تہمتیں نہ اٹھیں اک جہاں سے اُن کے سمیت
گناہگارِ محبت نکل گئے بے داغ
جو چھپ کے تاروں کی آنکھوں سے پائوں دھرتا ہے
اسی کے نقشِ کفِ پاسے جل اٹھے ہیں چراغ
جہان راز ہوئی جا رہی ہے آنکھ تری
کچھ اس طرح وہ دلوں کا لگا رہی ہے سُراغ
زمانہ کود پڑا آگ میں یہی کہہ کر
کہ خون چاٹ کے ہو جائے گی ،یہ آگ بھی باغ
نگاہیں مطلعِ نو پر ہیں ایک عالم کی
کہ مل رہا ہے کسی پھوٹتی کرن کا سراغ
دلوں میں داغِ محبت کا اب یہ عالم ہے
کہ جیسے نیند میں ڈوبے ہوں پچھلی رات چراغ
فراقؔ دیکھ چراغاں ہے محفلِ ساقی
سجے ہیں پگھلی ہوئی آگ سے چھلکتے ایاغ
٭٭٭
اب اکثر چپ چپ سے رہیں ہیں یو ں ہی کبھو لب کھولیں ہیں
پہلے فراقؔ کو دیکھا ہوتا اب تو بہت کم بولیں ہیں
دن میں ہم کو دیکھنے والو اپنے اپنے ہیں اوقات
جائو نہ تم ان خشک آنکھوں پر ہم راتوں کو رولیں ہیں
فطرت میری عشق و محبت قسمت میری تنہائی
کہنے کی نوبت ہی نہ آئی ہم بھی کسو کے ہولیں ہیں
خنک سیہ مہکے ہوئے سائے پھیل جائیں ہیں جل تھل پر
کن جتنوں سے میری غزلیں رات کا جوڑا کھولیں ہیں
اُف وہ لبوں پر موجِ تبسّم جیسے کروٹیں لیں کوندے
ہائے وہ عالمِ جنبشِ مثرگاں جب فتنے پر تولیں ہیں
نقش و نگارِ غزل میں جو تم یہ شادابی پائو ہو
ہم اشکوں میں کائنات کے نوکِ قلم کو ڈبولیں ہیں
ان راتوں کو حریمِ ناز کا اک عالم ہوئے ندیم
خلوت میں وہ نرم انگلیاں بندِ قبا جب کھولیں ہیں
غم کا فسانہ سننے والو آخرِ شب آرام کرو
کل یہ کہانی پھر چھیڑیں گے ہم بھی ذرا اب سولیں ہیں
ہم لوگ اب تو پرائے سے ہیں کچھ تو بتائو حالِ فراقؔ
اب تو تمھیں کو پیار کریں ہیں اب تو تمھیں سے بولیں ہیں
٭٭٭

آئی ہے کچھ نہ پوچھ قیامت کہاں کہاں
اُف لے گئی ہے مجھ کو محبت کہاں کہاں
بیتابی و سکوں کی ہوئیں منزلیں تمام
بہلائے تجھ سے چھُٹ کے طبیعت کہاں کہاں
فرقت ہو یا وصال وہی اضطراب ہے
تیرا اثر ہے اے غمِ فرقت کہاں کہاں
ہر جنبشِ نگاہ میں صد کیفِ بیخودی
بھرتی پھرے گی حسن کی نیت کہاں کہاں
راہِ طلب میں چھوڑ دیا دل کا ساتھ بھی
پھرتے لیے ہوئے یہ مصیبت کہاں کہاں
دل کے اُفق تک اب تو ہیں پرچھائیاں تری
لے جائے اب تو دیکھ یہ وحشت کہاں کہاں
اے نرگسِ سیاہ بتا دے ترے نثار
کس کس کو ہے یہ ہوش یہ غفلت کہاں کہاں؟
نیرنگِ عشق کی ہے کوئی انتہا کہ یہ
یہ غم کہاں کہاں یہ مسرت کہاں کہاں
بیگانگی پر اس کی زمانے سے احتراز
در پردہ اس ادا کی شکایت کہاں کہاں
فرق آ گیا تھا دورِ حیات و ممات میں
آئی ہے آج یاد وہ صورت کہاں کہاں
جیسے فنا بقا میںبھی کوئی کمی سی ہو
مجھ کو پڑی ہے تیری ضرورت کہاں کہاں
دنیا سے اے دل اتنی طبیعت بھری نہ تھی
تیرے لئے اُٹھائی ندامت کہاں کہاں!
اب امتیازِ عشق و ہوس بھی نہیں رہا
ہوتی ہے تیری چشمِ عنایت کہاں کہاں
ہر گام پر طریق محبت میں موت تھی
اس راہ میں کھلے درِ رحمت کہاں کہاں
ہوش و جنوں بھی اب تو بس اک بات ہیں فراقؔ
ہوتی ہے اس نظر کی شرارت کہاں کہاں
٭٭٭

بستیاں ڈھونڈھ رہی ہیں انھیں ویرانوں میں
وحشتیں بڑھ گئیں حد سے ترے دیوانوں میں
نگہِ ناز نہ دیوانوں نہ فرزانوں میں
جان کار ایک وہی ہے مگر انجانوں میں
بزم مے بے خود و بے تاب نہ کیوں ہو ساقی
موج بادہ ہے کہ درد اٹھتا ہے پیمانوں میں
میں تو میں چونک اٹھی ہے یہ فضائے خاموش
یہ صدا کب کی سنی آتی ہے پھر کانوں میں
سیر کر اُجڑے دلوں کی جو طبیعت ہے اُداس
جی بہل جاتے ہیں اکثر انھیں ویرانوں میں
جان ایمانِ جنوں سلسلہ جنبانِ جنوں
کچھ کشش ہائے نہاں جذب ہیں ویرانوں میں
خندۂ صبح ازل تیرگیِ شامِ ابد
دونوں عالم ہیں چھلکتے ہوئے پیمانوں میں
دیکھ جب عالمِ ہُو کو تو نیاَ عالم ہے
بستیاں بھی نظر آنے لگیں ویرانوں میں
جس جگہ بیٹھ گئے آگ لگا کر اُٹھے
گرمیاں ہیں ابھی کچھ سوختہ سامانوں میں
وحشتیں بھی نظر آتی ہیں سرِ پردۂ ناز
دامنوں میں ہے یہ عالم نہ گریبانوں میں
ایک رنگینیِ ظاہر ہے گلستاں میں اگر
ایک شادابیِ پنہاں ہے بیابانوں میں
جوہر غنچہ و گل میں ہے اک انداز جنوں
کچھ بیاباں نظر آئے ہیں گریبانوں میں
٭٭٭
بہت پہلے سے ان قدموں کی آہٹ جان لیتے ہیں
تجھے اے زندگی ہم دور سے پہچان لیتے ہیں
مری نظریں بھی ایسے کافروں کی جان و ایماں ہیں
نگاہیں ملتے ہی جو جان اور ایمان لیتے ہیں
جسے کہتی ہے دنیا کامیابی وائے نادانی
اسے کن قیمتوں پر کامیاب انسان لیتے ہیں
نگاہِ بادہ گوں یوں تو تری باتوں کا کیا کہنا
تری ہر بات لیکن احتیاطاً چھان لیتے ہیں
طبیعت اپنی گھبراتی ہے جب سنسان راتوں میں
ہم ایسے میں تری یادوں کی چادر تان لیتے ہیں
خود اپنا فیصلہ بھی عشق میں کافی نہیں ہوتا
اسے بھی کیسے کر گزریں جو دل میں ٹھان لیتے ہیں
حیاتِ عشق کااک اک نفس جامِ شہادت ہے
وہ جانِ ناز برداراں کوئی آسان لیتے ہیں
ہم آہنگی میں بھی اک چاشنی ہے اختلافوں کی
مری باتیں بہ عنوانِ دگر، وہ مان لیتے ہیں
تری مقبولیت کی وجہ واحد تیری رمزیت
کہ اس کو مانتے ہی کب ہیں جس کو جان لیتے ہیں
اب اس کو کفر مانیں یا بلندیِ نظر جانیں
خدائے دوجہاں کو دے کے ہم انسان لیتے ہیں
جسے صورت بتاتے ہیں پتہ دیتی ہے سیرت کا
عبارت دیکھ کر جس طرح معنی جان لیتے ہیں
تجھے گھاٹا نہ ہونے دیں گے کاروبارِ الفت میں
ہم اپنے سر ترا اے دوست ہر نقصان لیتے ہیں
ہماری ہر نظر تجھ سے نئی سوگند کھاتی ہے
تو تیری ہر نظر سے ہم نیا پیمان لیتے ہیں
رفیقِ زندگی تھی اب انیسِ وقتِ آخر ہے
ترا اے موت ہم یہ دوسرا احسان لیتے ہیں
زمانہ وارداتِ قلب سننے کو ترستا ہے
اسی سے تو سر آنکھوں پر مرا دیوان لیتے ہیں
فراقؔ اکثر بدل کر بھیس ملتا ہے کوئی کافر
کبھی ہم جان لیتے ہیں کبھی پہچان لیتے ہیں
٭٭٭

تمھیں کیونکر بتائیں زندگی کو کیا سمجھتے ہیں
سمجھ لو سانس لینا خود کشی کرنا سمجھتے ہیں
کسی بدمست کو راز آشنا سب کا سمجھتے ہیں
نگاہِ یار تجھ کو کیا بتائیں کیا سمجھتے ہیں
بس اتنے پر ہمیں سب لوگ دیوانہ سمجھتے ہیں
کہ اس دنیا کو ہم اک دوسری دنیا سمجھتے ہیں
کہاں کا وصل تنہائی نے شاید بھیس بدلا ہے
ترے دم بھر کے مِل جانے کو ہم بھی کیا سمجھتے ہیں
امیدوں میں بھی ان کی ایک شان بے نیازی ہے
ہر آسانی کو جو دشوار ہو جانا سمجھتے ہیں
یہی ضد ہے تو خیر آنکھیں اُٹھاتے ہیں ہم اُس جانب
مگر اے دل ہم اس میں جان کا کھٹکا سمجھتے ہیں
کہیں ہو تیرے دیوانے ٹھہر جائیں تو زنداں ہے
جدھر کو مُنہ اُٹھا کر چل پڑے صحرا سمجھتے ہیں
جہاں کی فطرتِ بیگانہ میں جو کیفِ غم بھردیں
وہی جینا سمجھتے ہیں وہی مرنا سمجھتے ہیں
ہمارا ذکر کیا ہم کو تو ہوش آیا محبت میں
مگر ہم قیس کا دیوانہ ہو جانا سمجھتے ہیں
نہ شوخی شوخ ہے اتنی نہ پُرکار اتنی پُرکاری
نہ جانے لوگ تیری سادگی کو کیا سمجھتے ہیں
بھلا دیں ایک مدت کی جفائیں اُس نے یہ کہہ کر
تجھے اپنا سمجھتے تھے تجھے اپنا سمجھتے ہیں
یہ کہہ کر آبلہ پاروندتے جاتے ہیں کانٹوں کو
جسے تلوؤں میں کر لیں جذب اسے صحرا سمجھتے ہیں
یہ ہستی نیستی سب موج خیزی ہے محبت کی
نہ ہم قطرہ سمجھتے ہیں نہ ہم دریا سمجھتے ہیں
فراقؔ اس گردشِ ایّام سے کب کام نکلا ہے
سحر ہونے کو بھی ہم رات کٹ جانا سمجھتے ہیں
٭٭٭

جنونِ کارگر ہے اور میں ہوں
حیاتِ بے خبر ہے اور میں ہوں
مٹا کر دل نگاہِ اوّلیں سے
تقاضائے دگر ہے اور میں ہوں
مبارک یاد ایّامِ اسیری
غمِ دیوار و در ہے اور میںہوں
تری جمعیتیں ہیں اور تو ہے
حیاتِ منتشر ہے اور میں ہوں
ٹھکانا ہے کچھ اِس عذرِ ستم کا
تری نیچی نظر ہے اور میں ہوں
فراقؔ ایک ایک حسرت مٹ رہی ہے
یہ ماتم رات بھر ہے اور میں ہوں
٭٭٭

ستاروں سے اُلجھتا جا رہا ہوں
شبِ فرقت بہت گھبرا رہا ہوں
ترے غم کو بھی کچھ بہلا رہا ہوں
جہاں کو بھی سمجھتا جا رہا ہوں
یقیں یہ ہے حقیقت کھل رہی ہے
گماں یہ ہے کہ دھوکے کھا رہا ہوں
اگر ممکن ہولے لے اپنی آہٹ
خبر دو حسن کو میں آ رہا ہوں
حدیں حسن و محبت کی ملا کر
قیا مت پر قیامت ڈھا رہا ہوں
خبر ہے تجھ کو اے ضبطِ محبت
ترے ہاتھوں میں لٹتا جا رہا ہوں
اثر بھی لے رہا ہوں تیری چپ کا
تجھے قائل بھی کرتا جا رہا ہوں
بھرم تیرے ستم کا کھل چکا ہے
میں تجھ سے آج کیوں شرما رہا ہوں
انھیں میں راز ہیں گلباریوں کے
میں جو چنگاریاں برسا رہا ہوں
جو ان معصوم آنکھوں نے دیے تھے
وہ دھوکے آج تک میں کھا رہا ہوں
ترے پہلو میں کیوں ہوتا ہے محسوس
کہ تجھ سے دور ہوتا جا رہا ہوں
حدِ جور و کرم سے بڑھ چلا حُسن
نگاہِ یار کو یاد آ رہا ہوں
جو اُلجھی تھی کبھی آدم کے ہاتھوں
وہ گتھّی آج تک سلجھا رہا ہوں
محبت اب محبت ہو چلی ہے
تجھے کچھ بھولتا سا جا رہا ہوں
اجل بھی جن کو سن کر جھومتی ہے
وہ نغمے زندگی کے گا رہا ہوں
یہ سنّاٹا ہے میرے پائوں کی چھاپ
فراقؔ اپنی کچھ آہٹ پا رہا ہوں
٭٭٭

سر میں سودا بھی نہیں دل میں تمنا بھی نہیں
لیکن اِس ترک محبت کا بھروسا بھی نہیں
دل کی گنتی نہ یگانوں میں نہ بیگانوں میں
لیکن اس جلوہ گہِ ناز سے اٹھتا بھی نہیں
شکوۂ جَور کرے کیا کوئی اُس شوخ سے جو
صاف قائل بھی نہیں صاف مکرتا بھی نہیں
مہربانی کو محبت نہیں کہتے اے دوست
آہ اب مجھ سے تری رنجش بیجا بھی نہیں
ایک مدت سے تری یاد بھی آئی نہ ہمیں
اور ہم بھول گئے ہوں تجھے ایسا بھی نہیں
آج غفلت بھی اُن آنکھوں میں ہے پہلے سے سوا
آج ہی خاطِرِ بیمار شکیبا بھی نہیں
بات یہ ہے کہ سکونِ دل وحشی کا مقام
کنج زنداں بھی نہیں وسعت صحرا بھی نہیں
’’ارے صیاد ہمیں گل ہیں ہمیں بلبل ہیں‘‘
تونے کچھ آہ سنا بھی نہیں دیکھا بھی نہیں
آہ یہ مجمع احباب یہ بزمِ خاموش
آج محفل میں فراقِؔ سخن آرا بھی نہیں
٭٭٭

عشق کی مایوسیوں میں سوزِ پنہاں کچھ نہیں
اِس ہوا میں یہ چراغِ زیرِ اماں کچھ نہیں
کیا ہے دیکھو حسرتِ سیرِ گلستاں کچھ نہیں
کچھ نہیں اے ساکنانِ کُنجِ زنداں کچھ نہیں
عشق کی ہے خود نمائی عشق کی آشفتگی
روئے تاباں کچھ نہیں زلفِ پریشاں کچھ نہیں
یاد آ ہی جاتی ہے اکثر دلِ برباد کی
یوں تو سچ ہے چند ذراتِ پریشاں کچھ نہیں
سچ ہے جو کچھ بھی ہے وہ ہے گرمیِ بازارِ حسن
اہلِ دل کا سوزِ پنہاں کچھ نہیں ہاں کچھ نہیں
اور اُن کی زندگی ہے اور عنوانِ حیات
خود فراموشوں کو تیرے عہد و پیماں کچھ نہیں
ایک ہو جائے نہ جب تک سرحدِ ہوش و جنوں
ایک ہو کر چاکِ دامان و گریباں کچھ نہیں
جو نہ ہو جائے وہ کم ہے جو بھی ہو جائے بہت
کار زارِ عشق میں دشوار و آساں کچھ نہیں
دیکھنی تھی دیکھ لی اس چھیڑ کی بھی سادگی
بے دلوں میں یہ تبسّم ہائے پنہاں کچھ نہیں
کاش اپنے درد سے بیتاب ہوتے اے فراقؔ
دوسرے کے ہاتھوں یہ حالِ پریشاں کچھ نہیں
٭٭٭

کمی نہ کی ترے وحشی نے خاک اڑانے میں
جنوں کا نام اُچھلتا رہا زمانے میں
فراقؔ دوڑ گئی روح سی زمانے میں
کہاں کا درد بھرا تھا مرے فسانے میں
جنوں سے بھول ہوئی دل پہ چوٹ کھانے میں
فراقؔ دیر ابھی تھی بہار آنے میں
وہ کوئی رنگ ہے جو اُڑ نہ جائے اے گلِ تر
وہ کوئی بو ہے جو رسوا نہ ہو زمانے میں
وہ آستیں ہے کوئی جو لہو نہ دے نکلے
وہ کوئی حُسن ہے جھجکے جو رنگ لانے میں
یہ گُل کھِلے ہیں کہ چوٹیں جگر کی اُبھری ہیں
نہاں بہار تھی بلبل ترے ترانے میں
بیانِ شمع ہے حاصل یہی ہے جلنے کا
فنا کی کیفیتں دیکھ جھلملانے میں
کِسی کی حالتِ دل سُن کے اُٹھ گئیں آنکھیں
کہ جان پڑ گئی حسرت بھرے فسانے میں
غرض کہ کاٹ دیئے زندگی کے دن اے دوست
وہ تیری یاد میں ہوں یا تجھے بھلانے میں
ہمیں ہیں گل ہمیں بلبل ہمیں ہوائے چمن
فراقؔ خواب یہ دیکھا ہے قید خانے میں
٭٭٭

نرم فضا کی کروٹیں دل کو دکھا کے رہ گئیں
ٹھنڈی ہوائیں بھی تری یاد دلا کے رہ گئیں
شام بھی تھی دھواں دھواں حُسن بھی تھا اداس اداس
دل کو کئی کہانیاں یاد سی آکے رہ گئیں
مجھ کو خراب کر گئیں نیم نگاہیاں تری
مجھ سے حیات و موت بھی آنکھیں چرا کے رہ گئیں
حسنِ نظر فریب میں کس کو کلام تھا مگر
تیری ادائیں آج تو دل میں سما کے رہ گئیں
تب کہیں کچھ پتہ چلا صدق و خلوص حُسن کا
جب وہ نگاہیں عشق سے باتیں بنا کے رہ گئیں
تیرے خرامِ ناز سے آج وہاں چمن کھِلے
فصلیں بہار کی جہاں خاک اُڑا کے رہ گئیں
پوچھ نہ اُن نگاہوں کی طرفہ کرشمہ سازیاں
فتنے سلا کے رہ گئیں فتنے جگا کے رہ گئیں
تاروں کی آنکھ بھی بھر آئی میری صدائے درد پر
اُن کی نگاہیں بھی ترا نام بتا کے رہ گئیں
اُف یہ زمیں کی گردشیں، آہ یہ غم کی ٹھوکریں
یہ بھی تو بختِ خفتہ کے شانے ہلا کے رہ گئیں
اور تو اہلِ درد کو، کون سنبھالتا، بھلا
ہاں، تیری شادمانیاں اُن کو رُلا کے رہ گئیں
یاد کچھ آئیں اس طرح بھولی ہوئی کہانیاں
کھوئے ہوئے دلوں میں آج درد اُٹھا کے رہ گئیں
سازِ نشاطِ زندگی آج لرز لرز اُٹھا
کس کی نگاہیں عشق کا درد سُنا کے رہ گئیں
تم نہیں آئے اور رات رہ گئی راہ دیکھتی
تاروں کی محفلیں بھی آج آنکھیں بچھا کے رہ گئیں
جھوم کے پھر چلیں ہوائیں وجد میں آئیں پھر فضائیں
پھر تری یاد کی گھٹائیں سینوں پہ چھا کے رہ گئیں
قلب و نگاہ کی یہ عید ، اُف یہ مآلِ قرب و دید
چرخ کی گردشیں تجھے مجھ سے چھپا کے رہ گئیں
پھر ہیں وہی اُداسیاں پھر وہی سونی کائنات
اہلِ طرب کی محفلیں رنگ جما کے رہ گئیں
کون سکون دے سکا، غم زدگانِ عشق کو
بھیگتی راتیں بھی فراقؔ آگ لگا کے رہ گئیں
٭٭٭

وہ چپ چاپ آنسو بہانے کی راتیں
وہ اک شخص کے یاد آنے کی راتیں
شبِ مہ کی وہ ٹھنڈی آنچیں وہ شبنم
ترے حسن کے رسمسانے کی راتیں
جوانی کی دوشیزگی کا تبسّم
گلِ راز کے وہ کھلانے کی راتیں
پھواریں سی نغموں کی پڑتی ہوں جیسے
کچھ اس لب سے سننے سنانے کی باتیں
مجھے یاد ہے تیری ہر صبحِ رخصت
مجھے یاد ہیں تیرے آنے کی راتیں
پُر اسرار سی میری عرض تمنّا
وہ کچھ زیرِ لب مسکرانے کی راتیں
سرِ شام سے رتجگہ کے وہ ساماں
وہ پچھلے پہر نیند آنے کی راتیں
سرِ شام سے تا سحر قُرب جاناں
نہ جانے وہ تھیں کس زمانے کی راتیں
سرِ مے کدہ تشنگی کی وہ قسمیں
وہ ساقی سے باتیں بنانے کی راتیں
ہم آغوشیاں شاہدِ مہرباں کی
زمانے کے غم بھول جانے کی راتیں
فراقؔ اپنی قسمت میں شاید نہیں تھے
ٹھکانے کے دن یا ٹھکانے کی راتیں
٭٭٭

رسم و راہِ دہر کیا جوش محبت بھی تو ہو
ٹوٹ جاتی ہے ہر اک زنجیر وحشت بھی تو ہو
زندگی کیا، موت کیا، دو کروٹیں ہیں عشق کی
سونے والے چونک اٹھیں گے قیامت بھی تو ہو
’’ہر چہ باداباد‘‘کے نعروںسے دنیا کانپ اٹھی
عشق کے اتنا کوئی برگشتہ قسمت بھی تو ہو
کار زارِ دہر میں ہر کیف ہر مستی بجا
کچھ شریک بیخودی رندانہ جرأت بھی تو ہو
کم نہیں اہلِ ہوس کی بھی خیال آرائیاں
یہ فناکی حد سے بھی بڑھ جائیں ہمت بھی تو ہو
کچھ اشاراتِ نہاں ہوں تو نگاہ ناز کے
بھانپ لیں گے ہم یہ محفل رشکِ خلوت بھی تو ہو
اب توکچھ اہل رضا بھی ہو چلے مایوس سے
ہر جفائے ناروا کی کچھ نہایت بھی تو ہو
ہرنفس سے آئے بوئے آتشِ سیالِ عشق
آگ وہ دل میں لہومیں وہ حرارت بھی تو ہو
یہ ترے جلوے یہ چشمِ شوق کی حیرانیاں
برقِ حسنِ یار نظارے کی فرصت بھی تو ہو
گردشِ دوراں میں اک دن آرہے گا ہوش بھی !
ختم اے چشم سیہ یہ دور غفلت بھی تو ہو
ہر دلِ افسردہ سے چنگاریاں اڑ جائیں گی
کچھ تری معصوم آنکھوںمیں شرارت بھی تو ہو
اب وہ اتنا بھی نہیں بیگانہ وجہ ملال
پرسش غم اس کو آتی ہے ضرورت بھی تو ہو
ایک سی ہیں اب تو حسن وعشق کی مجبوریاں
ہم ہوں یا تم ہو وہ عہدِ بافراغت بھی تو ہو
دیکھ کر رنگِ مزاج یار کیا کہیے فراقؔ
اس میں کچھ گنجائشِ شکر و شکایت بھی تو ہو
٭٭٭

شامِ غم کچھ اس نگاہِ ناز کی باتیں کرو
بے خودی بڑھتی چلی ہے راز کی باتیں کرو
یہ سکوتِ ناز یہ دل کی رگوں کا ٹوٹنا
خامشی میں کچھ شکستِ ساز کی باتیں کرو
نکہت زلفِ پریشاں داستانِ شام غم
صبح ہونے تک اسی انداز کی باتیں کرو
ہر رگِ دل و جد میں آتی رہے دکھتی رہے
یونہی اس کے جا و بیجا ناز کی باتیں کرو
جو عدم کی جان ہے جو ہے پیام زندگی
اُس سکوتِ راز اس آواز کی باتیں کرو
عشق رسوا ہو چلا بے کیف سا بیزار سا
آج اس کی نرگس غماّز کی باتیں کرو
نام بھی لینا ہے جس کا اک جہانِ رنگ و بو
دوستو! اس نو بہارِ ناز کی باتیں کرو
کس لئے عذرِ تغافل کس لئے الزامِ عشق
آج چرخِ تفرقہ پرواز کی باتیں کرو
کچھ قفس کی تیلیوں سے چھن رہا ہے نو رسا
کچھ فضا کچھ حسرتِ پرواز کی باتیں کرو
جو حیاتِ جاوداں ہے جو ہے مرگِ ناگہاں
آج کچھ اُس ناز اس انداز کی باتیں کرو
عشق بے پروا بھی اب کچھ ناشکیبا ہو چلا
شوخیِ حسنِ کرشمہ ساز کی باتیں کرو
جس کی فرقت نے پلٹ دی عشق کی کایا فراقؔ
آج اس عیسیٰ نفس دم ساز کی باتیں کرو
٭٭٭

اب دور آسماں ہے نہ دور حیات ہے
اے درد ہجر تو ہی بتا کتنی رات ہے
ہر کائنات سے یہ الگ کائنات ہے
حیرت سرائے عشق میں دن ہے نہ رات ہے
جینا جو آگیا تو اجل بھی حیات ہے
اور یوں تو عمر خضر بھی کیا، بے ثبات ہے
کیوں انتہائے ہوش کو کہتے ہیں بیخودی
خورشید ہی کی آخری منزل تو رات ہے
ہستی کو جس نے زلزلہ ساماں بنا دیا
وہ دل قرار پائے مقدر کی بات ہے
یہ موشگافیاں ہیں گراں طبع عشق پر
کس کو دماغ کاوش ذات و صفات ہے
توڑا ہے لا مکاں کی حدوں کو بھی عشق نے
زندانِ عقل تیری تو کیا کائنات ہے
گردوں! شرار برق دلِ بے قرار دیکھ
جن سے یہ تیری تاروں بھری رات رات ہے
گم ہو کے ہر جگہ ہیں زخود رفتگانِ عشق
ان کی بھی اہل کشف و کرامات ذات ہے
ہستی بجز ، فنائے مسلسل کے کچھ نہیں
پھر کس لئے یہ فکر قرار و ثبات ہے
اس جانِ دوستی کے خلوص نہاں نہ پوچھ
جس کا ستم بھی غیرت صدا التفات ہے
یوں تو ہزار درد سے روتے ہیں بد نصیب
تم دل دُکھا دو وقت مصیبت تو بات ہے
عنوان غفلتوں کے ہیں فرقت ہو یا وصال
بس فرصتِ حیات فراقؔ ایک رات ہے
٭٭٭

اپنے غم کا مجھے کہاں غم ہے
اے کہ تری خوشی مقدم ہے
آگ میں جو پڑا وہ آگ ہوا
حسنِ سوزِ نہاں مجسم ہے
اس کی شیطان کو کہاں توفیق
عشق کرنا گناہِ آدم ہے
دل کے دھڑکوں میں زورِ ضربِ کلیم
کس قدر اس حباب میں دم ہے
ہے وہی عشق زندہ و جاوید
جسے آبِ حیات بھی سم ہے
اس میں ٹھہرائو یا سکون کہاں
زندگی انقلابِ پیہم ہے
اک تڑپ موجِ تہہ نشیں کی طرح
زندگی کی بنائے محکم ہے
رہتی دنیا میں عشق کی دنیا
نئے عنوان سے منظم ہے
اٹھنے والی ہے بزم ماضی کی
روشنی کم ہے زندگی کم ہے
یہ بھی نظمِ حیات ہے کوئی
زندگی زندگی کا ماتم ہے
اک معمہ ہے زندگی اے دوست
یہ بھی تیری ادائے مبہم ہے
اے محبت تو اک عذاب سہی
زندگی بے ترے جہنم ہے
اک تلاطم سا رنگ ونکہت کا
پیکرِ ناز میں دما دم ہے
پھرنے کو ہے رسیلی نیم نگاہ
آہوئے ناز مائلِ رم ہے
روپ کی جوت زیرِ پیراہن
گلستاں پر ردائے شبنم ہے
میرے سینے سے لگ کے سوجائو
پلکیں بھاری ہیں رات بھی کم ہے
آہ یہ مہربانیاں تیری
شادمانی کی آنکھ پُرنم ہے
جیسے اچھلے جنوں کی پہلی شام
اس اداسے وہ زلف برہم ہے
نرم و دوشیزہ کس قدر ہے نگاہ
ہر نظر داستانِ مریم ہے
یوں بھی دل میں نہیں وہ پہلی امنگ
اور تیری نگاہ بھی کم ہے
اورکیوں چھیڑتی ہے گرد شِ چرخ
وہ نظر پھر گئی یہ کیا کم ہے
روکشِ صد حریمِ دل ہے فضا
وہ جہاں ہیں عجیب عالم ہے
مہر و مہ شعلہ ہائے سازِ جمال
جس کی جھنکار اتنی مدہم ہے
دییے جاتی ہے تو صدائے فراق
ہاں وہی سوز و ساز کم کم ہے
٭٭٭

ایک روز ہوئے تھے کچھ اشاراتِ خفی سے
عاشق ہیں ہم اس نرگسِ رعناکے جبھی سے
کرنے کوہیں دور آج تویہ روگ ہی جی سے
اب رکھیں گے ہم پیار نہ تم سے نہ کسی سے
احباب سے رکھتاہوں کچھ امیدِ شرافت
رہتے ہیں خفا مجھ سے بہت لوگ اسی سے
کہتا ہوں اسے میں تو خصوصیت پنہاں
کچھ تم کو شکایت ہے کسی سے تو مجھی سے
اشعار نہیں ہیں یہ مری روح کی ہے پیاس
جاری ہوئے سرچشمے مری تشنہ لبی سے
آنسو کو مرے کھیل تماشا نہ سمجھنا
کٹ جاتاہے پتھر اسی ہیرے کی کنی سے
یادِ لبِ جاناں ہے چراغِ دلِ رنجور
روشن ہے یہ گھرآج اسی لعلِ یمنی سے
افلاک کی محراب ہے آئی ہوئی انگڑائی
بے کیف کچھ آفاق کی اعضاشکنی سے
کچھ زیرِ لب الفاظ کھنکتے ہیں فضامیں
گونجی ہوئی ہے بزم تری کم سخنی سے
آج انجمن عشق نہیں انجمن عشق
کس درجہ کمی بزم میں ہے تیری کمی سے
اس وادیِ ویراں میں ہے سرچشمۂ دل بھی
ہستی مری سیراب ہے آنکھوں کی نمی سے
خود مجھ کو بھی تادیر خبر ہو نہیں پائی
آج آئی تری یاداس آہستہ روی سے
وہ ڈھونڈھنے نکلی ہے تری نکہتِ گیسو
اک روز ملا تھا میں نسیمِ سحری سے
سب کچھ وہ دلادے مجھے سب کچھ وہ بنادے
اے دوست نہیں دور تری کم نگہی سے
میعاو دوام و ابد اک نیند ہے اس کی
ہم منتہائے جلوۂ جاناں ہیں ابھی سے
اک دل کے سوا، پاس ہمارے نہیں کچھ بھی
جو کام ہولے لیتے ہیں ہم لوگ اسی سے
معلوم ہوا اور ہے اک عالمِ اسرار
آئینۂ ہستی کی پریشاں نظری سے
اس سے تو کہیں بیٹھ رہے توڑ کے اب پائوں
مل جائے نجات عشق کواس دربدری سے
رہتا ہوں فراقؔ اس لیے وارفتہ کہ دنیا
کچھ ہوش میں آجائے مری بے خبری سے
٭٭٭

آنکھوں میں جو بات ہو گئی ہے
اک شرحِ حیات ہو گئی ہے
جب دل کی وفات ہو گئی ہے
ہر چیز کی رات ہو گئی ہے
غم سے چھٹ کر یہ غم ہے مجھ کو
کیوں غم سے نجات ہو گئی ہے
مدت سے خبر ملی نہ دل کی
شاید کوئی بات ہو گئی ہے
جس شے پہ نظر پڑی ہے تیری
تصویر حیات ہو گئی ہے
اب ہو مجھے دیکھیے کہاں صبح
ان زلفوں میں رات ہو گئی ہے
دل میں تجھ سے تھی جو شکایت
اب غم کے نکات ہو گئی ہے
اقرارِ گناہِ عشق سن لو
مجھ سے اک بات ہو گئی ہے
جو چیز بھی مجھ کو ہاتھ آئی
تیری سوغات ہو گئی ہے
کیا جانیے موت پہلے کیا تھی
اب میری حیات ہو گئی ہے
گھٹتے گھٹتے تری عنایت
میری اوقات ہو گئی ہے
اس چشمِ سیہ کی یاد یکسر
شامِ ظلمات ہو گئی ہے
اس دور میں زندگی بشر کی
بیمار کی رات ہو گئی ہے
جیتی ہوئی بازیِ محبت
کھیلا ہوں تو مات ہو گئی ہے
مٹنے لگیں زندگی کی قدریں
جب غم سے نجات ہو گئی ہے
وہ چاہیں تو وقت بھی بدل جائے
جب آئے ہیں رات ہو گئی ہے
دنیا ہے کتنی بے ٹھکانہ
عاشق کی برات ہو گئی ہے
پہلے وہ نگاہ اک کرن تھی
اب برق صفات ہو گئی ہے
جس چیز کو چھو دیا ہے تونے
اک برگِ نبات ہو گئی ہے
اکّا دُکّا صدائے زنجیر
زنداں میں رات ہو گئی ہے
ایک ایک صفت فراقؔ اُس کی
دیکھا ہے تو ذات ہو گئی ہے
٭٭٭

بحثیں چھڑی ہوئی ہیں حیات و ممات کی
سو بات بن گئی ہے فراقؔ ایک بات کی
سازِ نوائے درد حجاباتِ دہر ہیں
کتنی دُکھی ہوئی ہیں رگیں کائنات کی
رکھ لی جنھوں نے کشمکشِ زندگی کی لاج
بیدر دیاں نہ پوچھئے ان سے حیات کی
یوں فرطِ بیخودی سے محبت میں جان دے
تجھ کو بھی کچھ خبر نہ ہو اس واردات کی
ہے عشق اِس تبسّمِ جاں بخش کا شہید
رنگیناں لئے ہے جو صبحِ حیات کی
چھیڑا ہے دردِ عشق نے تارِ رگِ عدم
صورت پکڑ چلی ہیں نوائیں حیات کی
شامِ ابد کو جلوۂ صبحِ بہار دے
روداد چھیڑ زندگیِ بے ثبات کی
اس بزمِ بیخودی میں وجود و عدم کہاں
چلتی نہیں ہے سانس حیات و ممات کی
سو درد اک تبسّمِ پنہاں میں بند ہیں
تصویر ہوں فراقؔ نشاطِ حیات کی
٭٭٭

تیز احساسِ خودی درکار ہے
زندگی کوزندگی درکار ہے
جو چڑھا جائے خمستانِ جہاں
ہاں وہی لب تشنگی درکار ہے
دیوتائوں کو خدا سے ہوگا کام
آدمی کو آدمی درکار ہے
سو گلستاں جس اُداسی پر نثار
مجھ کو وہ افسردگی درکار ہے
شاعری ہے سربسر تہذیبِ قلب
اس کو غم شائستگی درکار ہے
شعلہ میں لاتاہے جو سوز و گداز
وہ خلوصِ باطنی درکار ہے
خوبیِ لفظ و بیاں سے کچھ سوا
شاعری کو ساحری درکار ہے
قادرِ مطلق کو بھی انسان کی
سنتے ہیں بے چار گی درکار ہے
اورہوں گے طالبِ مدحِ جہاں
مجھ کوبس تیری خوشی درکار ہے
عقل میں یوں تو نہیں کوئی کمی
اک ذرا دیوانگی درکار ہے
ہوش والوں کو بھی میری رائے میں
ایک گونہ بے خودی درکار ہے
خطرۂ بسیار دانی کی قسم
علم میں بھی کچھ کمی درکار ہے
دوستو کافی نہیں چشمِ خرد
عشق کو بھی روشنی درکار ہے
میری غزلوںمیں حقائق ہیں فقط
آپ کو تو ’’شاعری‘‘ درکار ہے
تیرے پاس آیاہوں کہنے ایک بات
مجھ کو تیری دوستی درکار ہے
میں جفائوں کا نہ کرتا یوں گلہ
آج تیری ناخوشی درکار ہے
اس کی زلف آراستہ پیراستہ
اک ذرا سی برہمی درکار ہے
زندہ دل تھا تازہ دم تھا ہجر میں
آج مجھ کو بے دلی درکار ہے
حلقہ حلقہ گیسوئے شب رنگِ یار
مجھ کو تیری ابتری درکار ہے
عقل نے کل میرے کانوںمیں کہا
مجھ کو تیری زندگی درکار ہے
تیز رو تہذیبِ عالم کو فراقؔ
اک ذرا آہستگی درکار ہے
٭٭٭

جو روبے مہریِ اغماض پہ کیا روتا ہے
مہرباں بھی کوئی ہوجائے گا جلدی کیا ہے
کھو دیا تجھ کو توہم پوچھتے پھرتے ہیں یہی
جس کی تقدیر بگڑ جائے وہ کرتا کیا ہے
دل کا اک کام جو ہوتا نہیں اک مدت سے
تم ذرا ہاتھ لگا دو تو ہوا رکھا ہے
نگہہِ شوخ میں اور دل میں ہیں چوٹیں کیا کیا
آج تک ہم نہ سمجھ پائے کہ جھگڑا کیا ہے
عشق سے تو بہ بھی ہے حسن سے شکوے بھی ہزار
کہیے تو حضرت دل آپ کا منشا کیاہے
زینتِ دوش ترا نامۂ اعمال نہ ہو
تیری دستار سے واعظ یہ لٹکتا کیاہے
ہاں ابھی وقت کا آئینہ دکھائے کیا کیا
دیکھتے جائو زمانہ ابھی دیکھا کیا ہے
نہ یگانے ہیں نہ بیگانے تری محفل میں
نہ کوئی غیر یہاں ہے نہ کوئی اپنا ہے
نگہہِ مست کو جنبش نہ ہوئی گو سرِ بزم
کچھ تو اس جامِ لبالب سے ابھی چھلکا ہے
رات دن پھرتی ہے پلکوںکے جوسائے سائے
دل مرا اُس نگہ ناز کا دیوانا ہے
ہم جدائی سے بھی کچھ کام تولے ہی لیں گے
بے نیازانہ تعلق ہی چھٹا اچھاہے
ان سے بڑھ چڑھ کے تو، اے دوست، ہیںیادیں ان کی
ناز و انداز و ادا میں تری رکھا کیا ہے
ایسی باتوں سے بدلتی ہے کہیں فطرتِ حسن
جان بھی دے دے اگر کوئی توکیا ہوتاہے
تری آنکھوں کو بھی انکار تری زلف کو بھی
کس نے یہ عشق کو دیوانہ بنا رکھا ہے
دل ترا جان تری آہ تری اشک ترے
جو ہے اے دوست وہ تیراہے ہمارا کیا ہے
در دولت پہ دعائیں سی سنی ہیں میں نے
دیکھیے آج فقیروں کا کدھر پھیرا ہے
تجھ کو ہو جائیں گے شیطان کے درشن واعظ
ڈال کرمنہ کو گریباںمیں کبھی دیکھاہے
ہم کہے دیتے ہیں چالوںمیں نہ آئو ان کی
ثروت و جاہ کے عشوئوں سے بچو دھوکا ہے
یہی گر آنکھ میں رہ جائے تو ہے چنگاری
قطرۂ اشک جو بہہ جائے تواک دریا ہے
زلف شب گوںکے سوا، نرگسِ جادو کے سوا
دل کو کچھ اور بلائوں نے بھی آگھیرا ہے
لبِ اعجاز کی سوگند یہ جھنکار تھی کیا
تیری خاموشی کے مانند ابھی کچھ ٹوٹا ہے
دار پر گاہ نظر گاہ سوئے شہرِ نگار
کچھ سنیں ہم بھی توائے عشق ارادہ کیاہے
آکہ غربت کدۂ دہر میں جی بہلائیں
اے دل اس جلوہ گہہِ ناز میں کیا رکھا ہے
لے اب اے کوچۂ محبوب فقیروں کا سلام
پڑ رہیں گے کہیں ہم اور ہمارا کیا ہے
زخم ہی زخم ہوں میں صبح کے مانند فراقؔ
رات بھر ہجر کی لذت سے مزا لوٹا ہے
٭٭٭

رات بھی، نیند بھی، کہانی بھی
ہائے کیا چیز ہے جوانی بھی
ایک پیغامِ زندگانی بھی
عاشقی مرگِ ناگہانی بھی
اس ادا کا تری جواب نہیں
مہر بانی بھی سرگرانی بھی
دل کو اپنے بھی غم تھے دنیا میں
کچھ بلائیں تھیں آسمانی بھی
منصبِ دل خوشی لٹانا ہے
غمِ پنہاں کی پاسبانی بھی
دل کو شعلوں سے کرتی ہے سیراب
زندگی آگ بھی ہے پانی بھی
شاد کاموں کو یہ نہیں توفیق
دلِ غم گیں کی شادمانی بھی
لاکھ حسنِ یقیں سے بڑھ کر ہے
ان نگاہوں کی بدگمانی بھی
تنگنائے دلِ ملول میں ہے
بحرِ ہستی کی بے کرانی بھی
عشق ناکام کی ہے پرچھائیں
شادمانی بھی کامرانی بھی
دیکھ دل کے نگار خانے میں
زخمِ پنہاں کی ہے نشانی بھی
خلق کیا کیا مجھے نہیں کہتی
کچھ سنوں میں تری زبانی بھی
آئے تاریخِ عشق میں سو بار
موت کے دورِ درمیانی بھی
اپنی معصومیت کے پردے میں
ہو گئی وہ نظر سیانی بھی
دن کو سورج مکھی ہے وہ نو گل
رات کو ہے وہ رات رانی بھی
دلِ بدنام تیرے بارے میں
لوگ کہتے ہیں اک کہانی بھی
وضع کرتے کوئی نئی دنیا
کہ یہ دنیا ہوئی پرانی بھی
دل کو آدابِ بندگی بھی نہ آئے
کر گئے لوگ حکمرانی بھی
جور کم کم کا شکریہ بس ہے
آپ کی اتنی مہربانی بھی
دل میں اک ہوک بھی اٹھی اے دوست
یاد آئی تری جوانی بھی
سر سے پا تک سپردگی کی ادا
ایک اندازِ ترکمانی بھی
پاس رہنا کسی کا رات کی رات
میہمانی بھی میزبانی بھی
ہو نہ عکسِ جبینِ ناز کہ ہے
دل میں اک نورِ کہکشانی بھی
زندگی عینِ دید یار فراقؔ
زندگی ہجر کی کہانی بھی
٭٭٭

زندگی درد کی کہانی ہے
چشمِ انجم میں بھی تو پانی ہے
بے نیازانہ سن لیا غمِ دل
مہربانی ہے مہربانی ہے
وہ بھلا میری بات کیا مانے
اس نے اپنی بھی بات مانی ہے؟
شعلۂ دل ہے یہ کہ شعلہٗ ساز
یا ترا شعلۂ جوانی ہے
وہ کبھی رنگ وہ کبھی خوشبو
گاہ گل گاہ رات رانی ہے
بن کے معصوم سب کو تاڑگئی
آنکھ اس کی بڑی سیانی ہے
آپ بیتی کہوںکہ جگ بیتی
ہرکہانی مری کہانی ہے
دونوں عالم ہیں جس کے زیرِنگیں
دل اُسی غم کی راجدھانی ہے
ہم تو خوش ہیں تری جفا پر بھی
بے سبب تیری سرگرانی ہے
سربہ سر یہ فرازِ مہر و قمر
تیری اٹھتی ہوئی جوانی ہے
آج بھی سن رہے ہیں قصۂ عشق
گوکہانی بہت پرانی ہے
ضبط کیجیے تودل ہے انگارا
اور اگر روئیے تو پانی ہے
ہے ٹھکانا یہ در ہی اس کا بھی
دل بھی تیرا ہی آستانی ہے
ان سے ایسے میں جونہ ہوجائے
نو جوانی ہے نو جوانی ہے
دل مرا اور یہ غمِ دنیا
کیاترے غم کی پاسبانی ہے
گردشِ چشمِ ساقیِ دوراں
دورِ افلاک کی بھی پانی ہے
اے لبِ ناز کیا ہیں وہ اسرار
خامشی جن کی ترجمانی ہے
مے کدوںکے بھی ہوش اڑنے لگے
کیا تری آنکھ کی جوانی ہے
خودکشی پر ہے آج آمادہ
ارے دنیا بڑی دوانی ہے
کوئی اظہار ناخوشی بھی نہیں
بدگمانی سی بدگمانی ہے
مجھ سے کہتا تھا کل فرشتۂ عشق
زندگی ہجرکی کہانی ہے
بحرِ ہستی بھی جس میں کھوجائے
بوندمیں بھی وہ بیکرانی ہے
مل گئے خاک میں ترے عشاق
یہ بھی اک امرآسمانی ہے
زندگی انتظار ہے تیرا
ہم نے اک بات آج جانی ہے
کیوں نہ ہوغم سے ہی قماش اس کا
حسن تصویرِ شادمانی ہے
سونی دنیامیں اب تومیں ہوںاور
ماتمِ عشق آں جہا نی ہے
کچھ نہ پوچھو فراقؔ عہد شباب
رات ہے نیند ہے کہانی ہے
٭٭٭

سمجھتا ہوں کہ تو مجھ سے جدا ہے
شبِ فرقت مجھے کیا ہوگیا ہے
ترا غم کیاہے؟ بس یہ جانتا ہوں
کہ میری زندگی مجھ سے خفا ہے
کبھی خوش کرگئی مجھ کو تری یاد
کبھی آنکھوں میں آنسو آگیا ہے
فضاکی سانس جیسے گُھٹ رہی ہو
شبِ غم جی بہت گھبرا گیا ہے
حجابوں کو سمجھ بیٹھا میں جلوہ
نگاہوں کو بڑا دھوکا ہوا ہے
بہت دوراب ہے دل سے یاد تیری
محبت کا زمانہ آ رہا ہے
نہ جی خوش کر سکا تیرا کرم بھی
محبت کو بڑا دھوکا رہا ہے
کبھی تڑپا گیا ہے دل ترا غم
کبھی دل کو سہارا دے گیا ہے
شکایت تیری دل سے کرتے کرتے
اچانک پیار تجھ پر آگیا ہے
جسے چونکا کے تونے پھیرلی آنکھ
وہ تیرا درد اب تک جاگتا ہے
جہاں ہے موجزن رنگینیِ حسن
وہیں دل کا کنول لہرا رہا ہے
گلابی ہوتی جاتی ہیں فضائیں
کوئی اس رنگ سے شرما رہا ہے
محبت تجھ سے تھی قبل از محبت
کچھ ایسا یاد مجھ کو آرہا ہے
جدا آغاز سے انجام سے دور
محبت اک مسلسل ماجرا ہے
خُدا حافظ مگر اب زندگی میں
فقط اپنا سہارا رہ گیا ہے
محبت میں فراقؔ اتنانہ غم کر
زمانے میں یہی ہوتا رہا ہے
٭٭٭

فراقؔ اک نئی صورت نکل توسکتی ہے
بقول اس آنکھ کے دنیا بدل توسکتی ہے
ترے خیال کوکچھ چپ سی لگ گئی ورنہ
کہانیوں سے شب ِغم بہل تو سکتی ہے
عروسِ دہر چلے کھاکے ٹھوکریں لیکن
قدم قدم پہ جوانی اُبل تو سکتی ہے
پلٹ پڑے نہ کہیں اس نگاہ کاجادو
کہ ڈوب کریہ چھری کچھ اچھل توسکتی ہے
بجھے ہوئے نہیں اتنے بجھے ہوئے دل بھی
فسردگی میں طبیعت مچل تو سکتی ہے
اگر توچا ہے تو غم والے شادماں ہوجائیں
نگاہِ یار، یہ حسرت نکل توسکتی ہے
اب اتنی بند نہیں غم کدوں کی بھی راہیں
ہوائے کوچۂ محبوب چل تو سکتی ہے
کڑے ہیں کوس بہت منزل ِمحبت کے
ملے نہ چھائوں مگر دھوپ ڈھل تو سکتی ہے
حیات لو تہِ دامانِ مرگ دے اٹھی
ہوا کی راہ میں یہ شمع جل تو سکتی ہے
کچھ اور مصلحتِ جذبِ عشق ہے ورنہ
کسی سے چھٹ کے طبیعت سنبھل تو سکتی ہے
ازل سے سوئی ہے تقدیر عشق موت کی نیند
اگر جگایئے کروٹ بدل توسکتی ہے
غمِ زمانہ و سوزِ نہاں کی آنچ تودے
اگر نہ ٹوٹے یہ زنجیر گل تو سکتی ہے
شریکِ شرم و حیا کچھ ہے بدگمانی حسن
نظر اٹھایہ جھجک سی نکل تو سکتی ہے
کبھی وہ مل نہ سکے گی میں یہ نہیں کہتا
وہ آنکھ آنکھ میں پڑکر بدل تو سکتی ہے
بدلتا جائے غمِ روزگار کا مرکز
یہ چال گردشِ ایام چل تو سکتی ہے
وہ بے نیاز سہی دل متاعِ ہیچ سہی
مگر کسی کی جوانی مچل تو سکتی ہے
تری نگاہ سہارانہ دے توبات ہے اور
کہ گر تے گرتے بھی دنیا سنبھل تو سکتی ہے
یہ زور و شور سلامت تری جوانی بھی
بقول عشق کے سانچے میں ڈھل تو سکتی ہے
سنا ہے برف کے ٹکڑے ہیں دل حسینوں کے
کچھ آنچ پاکے یہ چاندی پگھل توسکتی ہے
ہنسی ہنسی میں لہو تھوکتے ہیں دل والے
یہ سرزمین مگر لعل اگل تو سکتی ہے
جو تونے ترکِ محبت کو اہلِ دل سے کہا
ہزار نرم ہو یہ بات کھل تو سکتی ہے
ارے وہ موت ہو یا زندگی، محبت پر
نہ کچھ سہی کفِ افسوس مل تو سکتی ہے
ہیں جس کے بل پہ کھڑے سرکشوں کووہ دھرتی
اگر کچل نہیں سکتی نگل تو سکتی ہے
ہوئی ہے گرم لہوپی کے عشق کی تلوار
یوں ہی جلائے جا،یہ شاخ پھل تو سکتی ہے
گذر رہی ہے دبے پائوں عشق کی دیوی
سبک روی سے جہاں کو مسل تو سکتی ہے
حیات سے نگہہِ واپسیں ہے کچھ مانوس
مرے خیال سے آنکھوں میں پل تو سکتی ہے
نہ بھولنا یہ ہے تاخیر حسن کی تاخیر
فراقؔ آئی ہوئی موت ٹل تو سکتی ہے
٭٭٭

کچھ نہ کچھ عشق کی تاثیر کا اقرار تو ہے
اُس کو الزامِ تغافل پہ کچھ انکار تو ہے
دیکھ لیتے ہیں سبھی کچھ ترے مشتاقِ جمال
اُنہیں دیدار نہ ہو حسرتِ دیدار تو ہے
معرکے سر ہوں اِسی برقِ نظر سے اے حُسن
یہ چمکتی ہوئی چلتی ہوئی تلوار تو ہے
عشق کا شکوۂ بے جا بھی نہ بیکار گیا
نہ سہی جور مگر جَور کا اقرار تو ہے
تجھ سے ہمّت تو پڑی عشق کو کچھ کہنے کی
خیر شکوہ نہ سہی شکر کا اظہار تو ہے
اِس میں بھی رابطۂ خاص کی ملتی ہے جھلک
خیر اقرارِ محبت نہ ہو انکار تو ہے
کیوں جھپک جاتی ہے رہ رہ کے تری برق نگاہ
یہ جھجک کس لئے اِک کشتۂ دیدار تو ہے
کئی عنوان ہیں ممنونِ کرم کرنے کے
عشق میںکچھ نہ سہی زندگی بیکار تو ہے
چونک اُٹھتے ہیں فراقؔ آتے ہی اُس شوخ کا نام
کچھ سراسیمگیِ عشق کا اقرار تو ہے
٭٭٭

کسی کا یوں تو ہوا کون عمر بھر پھر بھی
یہ حسن و عشق تو دھوکا ہے سب مگر پھر بھی
ہزار بار زمانہ اِدھر سے گزرا ہے
نئی نئی سی ہے کچھ تیری رہ گذر پھر بھی
کہوں یہ کیسے اِدھر دیکھ یا نہ دیکھ اِدھر
کہ درد درد ہے پھر بھی نظر نظر پھر بھی
خوشا اشارۂ پیہم زہے سکوتِ نظر
دراز ہو کے فسانہ ہے مختصر پھر بھی
جھپک رہی ہیں زمان و مکاں کی بھی آنکھیں
مگر ہے قافلہ آمادۂ سفر پھر بھی
شبِ فراق سے آگے ہے آج میری نظر
کہ کٹ ہی جا ئے گی یہ شام بے سحر پھر بھی
کہیں یہی تو نہیں کاشفِ حیات و ممات
یہ حسن و عشق بظاہر ہیں بے خبر پھر بھی
پلٹ رہے ہیں غریب الوطن، پلٹنا تھا
وہ کوچہ روکشِ جنّت ہو گھر ہے گھر پھر بھی
لٹا ہوا چمنِ عشق ہے نگاہوں کو
دکھا گیا وہی کیا کیا گل و ثمر پھر بھی
خراب ہو کے بھی سوچا کیے ترے مہجور
یہی کہ تیری نظر ہے تری نظر پھر بھی
ہو بے نیاز اثر بھی کبھی تری مٹی
وہ کیمیا ہی سہی رہ گئی کسر پھر بھی
لپٹ گیا ترا دیوانہ گرچہ منزل سے
اُڑی اُڑی سی ہے یہ خاکِ رہ گذر پھر بھی
تری نگاہ سے بچنے میں عمر گزری ہے
اتر گیا رگِ جاں میں یہ نیشتر پھر بھی
غمِ فراق کے کشتوں کا حشر کیا ہوگا؟
یہ شامِ ہجر تو ہو جائے گی سحر پھر بھی
فنا بھی ہو کے گراں باریِ حیات نہ پوچھ
اٹھائے اٹھ نہیں سکتا یہ دردِ سر پھر بھی
ستم کے رنگ ہیں ہر التفاتِ پنہاں میں
کرم نما ہیں ترے جور سر بسر پھر بھی
خطا معاف ترا عفو بھی ہے مثل سزا
تری سزا میں ہے اک شانِ در گزر پھر بھی
اگر چہ بے خودیِ عشق کو زمانہ ہوا
فراقؔ کرتی رہی کام وہ نظر پھر بھی
٭٭٭

کوئی پیغامِ محبت لبِِ اعجاز تو دے
موت کی آنکھ بھی کھل جائے گی، آواز تو دے
مقصدِ عشق ہم آہنگیِ جزو و کل ہے
درد ہی درد سہی دل بوئے د م ساز تو دے
چشمِ مخمور کے عنوانِ نظر کچھ تو کھُلیں
دلِ رنجور دھڑکنے کا کچھ انداز تو دے
اک ذرا ہو نشۂ حسن میں اندازِ خمار
اک جھلک عشق کے انجام کی آغاز تو دے
جو چھپائے نہ چھپے اور بتائے نہ بنے
دلِ عاشق کو ان آنکھوں سے کوئی راز تو دے
منتظر اتنی کبھی تھی نہ فضائے آفاق
چھیڑنے ہی کو ہوں پُردرد غزل ساز تو دے
ہم اسیرانِ قفس آگ لگا سکتے ہیں
فرصتِ نغمہ کبھی حسرتِ پرواز تو دے
عشق اک بار مشیت کو بدل سکتا ہے
عند یہ اپنا مگر کچھ نگہہِ ناز تو دے
قرب و دیدار تو معلوم کسی کا ، پھر بھی
کچھ پتہ سا فلکِ تفرقہ پرداز تو دے
منزلیں گرد کی مانند اڑی جاتی ہیں
ابلقِ دہر کچھ اندازِ تگ و تاز تو دے
کان سے ہم تو فراقؔ آنکھ کا ،لے لیتے ہیں کام
آج چھپ کر کوئی آواز پر آواز تو دے
٭٭٭

لطفِ ساماں عتابِ یار بھی ہے
مجرمِ عشق شرمسار بھی ہے
سُست پیمان وبے نیاز سہی
حسنِ تصویرِ انتظار بھی ہے
کیاکرے وہ نگاہِ لطف ،کہ عشق
شاد ماں بھی ہے سوگوار بھی ہے
گلشنِ عشق ہوں خزاں میری
وجہِ رنگینیِ بہار بھی ہے
عقدۂ عشق کو نہ تو سمجھا
یہی عقدہ کشود کار بھی ہے
اپنی تقدیر اپنے ہاتھ میں لے
شاملِ جبر اختیار بھی ہے
آپ اپنا چڑھائو اپنا اُتار
زندگی نشہ ہے خمار بھی ہے
ان نگاہوں میں ہے شکایت سی
عشق شاید جفا شعار بھی ہے
دل سے ہے دور بھی نگاہ تری
دل کے اندرہے دل کے پار بھی ہے
سر بسر غرقِ نور ہو لیکن
زندگی اکتسابِ نار بھی ہے
کون ترغیبِ ہوش دے کہ جنوں
بے خبر بھی ہے ہوشیار بھی ہے
خلوتِ حسن وعشق بھی ہے اداس
سردکچھ بزمِ روز گار بھی ہے
راز اس آنکھ کا نہیں کھلتا
دل شکیبا بھی بے قرار بھی ہے
خود تجھے بھی ہوئی نہ جن کی خبر
ان جفائوں کاکچھ شمار بھی ہے
اس میں لاکھوں نظامِ شمسی ہیں
یوں تودل تیرہ روز گار بھی ہے
اس کی ضو،اس کی گرمیاں ،مت پوچھ
زندگی نور بھی ہے نار بھی ہے
عشقِ ہجراں نصیب کابھی ہے دھیان
ترے وعدے کا اعتبار بھی ہے
عشق ہی سے ہیں منزلیں آباد
کارواں کارواں پکار بھی ہے
کوئی سمجھا اسے نہ دیکھ سکا
نگہہِ شوخ شرمسار بھی ہے
اس سے چھٹ کریہ سوچتا ہوں فراقؔ
اس میں کچھ اپنا اختیار بھی ہے
٭٭٭

مجھ کو مارا ہے ہر اک درد و دوا سے پہلے
دی سزا عشق نے ہر جرم و خطا سے پہلے
آتشِ عشق بھڑکتی ہے ہوا سے پہلے
ہونٹ جلتے ہیں محبت میں دُعا سے پہلے
فتنے برپا ہوئے ہر غنچۂ سر بستہ سے
کھل گیا راز چمن چاکِ قبا سے پہلے
چال ہے بادۂ ہستی کا چھلکتا ہوا جام
ہم کہاں تھے ترے نقشِ کفِ پا سے پہلے
اب کمی کیا ہے ترے بے سرو سامانوں کو
کچھ نہ تھا تیری قسم ترک و فنا سے پہلے
عشقِ بیباک کو دعوے تھے بہت خلوت میں
کھو دیا سارا بھرم شرم و حیا سے پہلے
خود بخود چاک ہوئے پیرہنِ لالہ و گل
چل گئی کون ہوا بادِ صبا سے پہلے
ہمسفر راہِ عدم میں نہ ہو تاروں بھری رات
ہم پہنچ جائیں گے اس آبلہ پا سے پہلے
پردۂ شرم میں صد برقِ تبسّم کے نثار
ہوش جاتے رہے نیرنگ حیا سے پہلے
موت کے نام سے ڈرتے تھے ہم اے شوقِ حیات
تونے تو مار ہی ڈالا تھا قضا سے پہلے
بے تکلّف بھی ترا حسنِ خود آرا تھا کبھی
اک ادا اور بھی تھی حسنِ ادا سے پہلے
غفلتیں ہستیِ فانی کی بتادیں گی تجھے
جو مرا حال تھا احساسِ فنا سے پہلے
ہم انھیں پا کے فراقؔ اور بھی کچھ کھوئے گئے
یہ تکلّف تو نہ تھے عہد وفا سے پہلے
٭٭٭

ہاتھ آئے تو وہی دامنِ جاناں ہوجائے
چھوٹ جائے تو وہی اپناگربیاں ہوجائے
عشق اب بھی ہے وہی محرمِ بیگانہ نما
حسن یوں لاکھ چھپے لاکھ نمایا ں ہوجائے
ہوش و غفلت سے بہت دور ہے کیفیتِ عشق
اس کی ہربے خبری منزلِ عرفاں ہوجائے
یاد آتی ہے جب اپنی توتڑپ جاتاہوں
میری ہستی ترا بھولا ہوا پیماں ہوجائے
آنکھ وہ ہے جو تری جلوہ گہہِ نازبنے
دل وہی ہے جو سراپا ترا ارماں ہوجائے
پاک بازانِ محبت میں جو بے باکی ہے
حسن گر اُس کو سمجھ لے تو پشیماں ہوجائے
سہل ہوکر ہوئی دشوار محبت تیری
اسے مشکل جو بنالیں توکچھ آساں ہوجائے
عشق پھر عشق ہے جس روپ میں جس بھیس میں ہو
عشرتِ وصل بنے یا غمِ ہجراں ہوجائے
کچھ مداوا بھی ہو مجروح دلوں کا اے دوست
مرہمِ زخم ترا جور پشیماں ہوجائے
یہ بھی سچ ہے کوئی الفت میں پریشاں کیوں ہو
یہ بھی سچ ہے کہ کوئی کیوں کر نہ پریشاں ہوجا ئے
عشق کو عرض ِتمنامیں بھی لاکھوں پس وپیش
حسن کے واسطے انکار بھی آساں ہوجائے
جھلملاتی ہے سرِبزمِ جہاں شمعِ خودی
جویہ بجھ جائے چراغ ِرہ ِعرفاں ہوجا ئے
سرِشوریدہ دیا، دشت و بیاباں بھی دیے
یہ مری خوبی قسمت کہ وہ زنداں ہوجا ئے
عقدۂ عشق عجب عقدہ مہمل ہے فراقؔ
کبھی لاحل کبھی مشکل کبھی آساں ہوجائے
٭٭٭

ہر نالہ تیرے درد سے اب اور ہی کچھ ہے
ہر نغمہ سرِ بزمِ طرب اور ہی کچھ ہے
اربابِ وفا جان بھی دینے کو ہیں تیار
ہستی کا مگر حسنِ طلب اور ہی کچھ ہے
یہ کام نہ لے نالہ و فریاد و فغاں سے
افلاک الٹ دینے کا ڈھب اور ہی کچھ ہے
اک سلسلۂ راز ہے جیناکہ ہو مرنا
جب اور ہی کچھ تھا مگر اب اور ہی کچھ ہے
کچھ مہرِ قیامت ہے، نہ کچھ نارِ جہنم
ہشیار کہ وہ قہر و غضب اور ہی کچھ ہے
مذہب کی خرابی ہے، نہ اخلاق کی پستی
دنیا کے مصائب کا سبب اور ہی کچھ ہے
بیہودہ سری، سجدے میں ہے جان کھپانا
آئینِ محبت میں ادب اور ہی کچھ ہے
کیاحسن کے اندازِ تغافل کی شکایت
پیمانِ وفا عشق کا جب اور ہی کچھ ہے
دنیا کو جگا دے جو عدم کو بھی سلادے
سنتے ہیں کہ وہ روز وہ شب اورہی کچھ ہے
آنکھوں نے فراق آج نہ پوچھو جو دکھایا
جو کچھ نظر آتا ہے وہ سب اور ہی کچھ ہے
٭٭٭

وقت غروب آج کرامات ہوگئی
زلفوں کو اس نے کھول دیا رات ہوگئی
اُس زلف خم بہ خم سے ملاقات ہوگئی
اللہ زندگی کو کہاں رات ہوگئی
کچھ میں نہ کہہ سکانہ انھوں نے کچھ کہا
چپ چاپ ان کو دیکھ لیا بات ہوگئی
میں بھی قصوروارِ محبت ہوں آج سے
کردے معاف مجھ سے بھی اک بات ہوگئی
ہم تم توبے خبرسے تھے آغازِعشق سے
اے دوست کس طرف سے شروعات ہوگئی
کل تک تواس میں ایسی کرامت نہ تھی کوئی
وہ آنکھ آج قبلۂ حاجات ہوگئی
یہ کام عشق کا ہو کہ ہو دورچرخ کا
یہ جانِ زار مورِد آفات ہوگئی
نوبت نہ آئی چال کی شطرنج عشق میں
بازی ابھی بچھی بھی نہ تھی مات ہوگئی
اے سوزِ عشق تونے مجھے کیا بنادیا
میری ہی ایک سانس مناجات ہوگئی
کل تک ہراس کی بات تھی واضح سی اور آج
وہ چشمِ ناز رمز و کنایات ہوگئی
اوچھی نگاہ ڈال کے اک سمت رکھ دیا
دل کیا دیا غریب کی سوغات ہوگئی
اے شامِ ہجر کاش ہم اتنا سمجھ سکیں
آئے نہ وہ یہاں توکوئی بات ہوگئی
آکر کوئی ملاہے تو محسوس یہ ہوا
گویامجھی سے میری ملاقات ہوگئی
کچھ چشمِ غیب کوبھی یہاں سوجھتا نہیں
اے زندگی تجھے بھی کہاں رات ہوگئی
اے دوست مجھ سے تیری وہ آنکھیں نہیں رہیں
کھلتا نہیں یہ راز کہ کیا بات ہوگئی
امیدوار شکر ہیں کہہ کے برا بھلا
جھڑکی ہر ایک کی تری صلوات ہوگئی
کچھ یاد آگئی تھی وہ زلفِ شکن شکن
ہستی تمام چشمۂ ظلمات ہوگئی
اب لوگ کچھ اتار رہے ہیں صلیب سے
لو جرمِ عاشقی کی مکا فات ہوگئی
میں سوچتاہوں سن کے ہرافواہ جنگ کی
اے زندگی ابھی سے تری رات ہوگئی
اتنا بڑا گناہ نہیں ذکرِ حسنِ دوست
جانے بھی دوجوعشق سے اک بات ہوگئی
تم بھی توکچھ سنوکہ مری زندگیِ عشق
اک داستانِ مرگِ مفا جات ہوگئی
ہم قوم اسے سمجھتے نہیں اہلِ مرتبہ
اب عاشقی بھی ذات سے بے ذات ہوگئی
اہلِ وطن سے دور جدائی میں یارکی
صبر آگیا فراقؔ کرامات ہوگئی
٭٭٭

یہ موت و عدم، کون و مکاں اور ہی کچھ ہے
سن لے کہ مرانا م ونشاںاورہی کچھ ہے
اتنا تو یقیں ہے کہ وہی ہیں تری آنکھیں
اس پربھی مگر وہم وگماں اورہی کچھ ہے
شعلوں میں وہ انداز کہاں سوز ِنہاں کے
اٹھتا ہے جودل سے وہ دھواں اور ہی کچھ ہے
اک کیفیتِ راز ہے غم ہے نہ مسرت
اس بزم ِمحبت میں سماں اور ہی کچھ ہے
جو مرحلۂ قربت و دوری سے گذر جائے
سنتے ہیں کہ وہ جذبِ نہاں اور ہی کچھ ہے
یا درد کے نغموںمیں بھی ہے تیری ہی آواز
یا پردۂ سازِ رگ ِجاں اور ہی کچھ ہے
یہ نیند کا جھونکا تو نہیں بے خودیِ عشق
ہشیار کہ وہ خوابِ گراں اورہی کچھ ہے
اب موت بھی ہے گردرہِ کوچۂ جاناں
ان منزلوں میں عمررواں اور ہی کچھ ہے
اچھے ہیں جہاں ہیں مگراے دامنِ جاناں
پاتے ہیں جو تجھ میں وہ اماں اور ہی کچھ ہے
بجلی کے چمکنے میں کہاں عشق کی گرمی؟
وہ شعلۂ لرزاں و تپاں اور ہی کچھ ہے
جو زخم کھلا دے جو مرا رنگ اڑادے
وہ فصل گل وفصل خزاں اورہی کچھ ہے
اک خواب پریشاں سے ہیں اس دور کے آثار
ہشیار کہ اب رنگِ جہاں اورہی کچھ ہے
اک چیز ہے نیرنگیِ رودادِ محبت
لیکن بحدیثِِ دگراں اور ہی کچھ ہے
شاعر ہیں فراقؔ اور بھی اس دور میں لیکن
یہ رنگ بیاں رنگ زباں اور ہی کچھ ہے
٭٭٭

رُکی رُکی سی شبِ مرگ ختم پر آئی
وہ پو پھٹی وہ نئی زندگی نظر آئی
یہ موڑ وہ ہے کہ پرچھائیاں بھی دیں گی، نہ ساتھ
مسافروں سے کہو اُس کی رہ گزر آئی
فضا تبسّمِ صبحِ بہار تھی لیکن
پہنچ کے منزلِ جاناں پہ آنکھ بھر آئی
کہیں زمان و مکاں میں ہے نام کو بھی سکوں
مگر یہ بات محبت کی بات پر آئی
کسی کی بزمِ طرب میں حیات بٹتی تھی
امید واروں میں کل موت بھی نظر آئی
کہاں ہر ایک سے انسانیت کا بار اٹھا
کہ یہ بلا بھی ترے عاشقوں کے سر آئی
دلوں میں آج تیری یاد مدّتوں کے بعد
بہ چہرۂ متبسّم، بہ چشمِ تر آئی
نیا نہیں ہے مجھے مرگِ ناگہاں کا پیام
ہزار رنگ سے اپنی مجھے خبر آئی
فضا کو جیسے کوئی راگ چیرتا جائے
تری نگاہ دلوں میں یوں ہی اُتر آئی
ذرا وصال کے بعد آئینہ تو دیکھ اے دوست
ترے جمال کی دوشیزگی نکھر آئی
تیرا ہی عکس سرشکِ غمِ زمانہ تھا
نگاہ میں تری تصویر سی اُتر آئی
عجب نہیں کہ چمن در چمن بنے ہر پھول
کلی کلی کی صبا جاکے گود بھر آئی
شبِ فراقؔ اُٹھے دل میں اور بھی کچھ درد
کہوں یہ کیسے تیری یاد رات بھر آئی
٭٭٭

نگاہ بھی نہ اٹھی اور عشق رسوا ہے
فراقؔ اتنی بھی حیرت نہ کر، یہ دنیا ہے
کیا ہے قید محبت کو رسمِ دنیا نے
اٹھا کے توڑ دے زنجیر دیکھتا کیا ہے
تری تلاش تری جستجو کہاں لائی
ارے یہاں تو نہ دنیا ہی ہے نہ عقبیٰ ہے
طلسمِ ہوش ہے عالم، فریبِ غفلت بھی
عجیب جلوہ گری ہے عجیب پرداہے
بہت دنوں پہ تجھے مہربان پاتا ہوں
کہ یہ بھی وہم ہے دل کا، نظر کادھوکاہے؟
شکستِ سازِ چمن نغمۂ بہار بنی
تجھے خبر بھی ہے یہ سازِ رنگ و بو کیا ہے
ازل سے تابہ ابد،عشق ایک حال میں ہے
سزا جزا میں قیامت کے دن دھرا کیا ہے
ہر ایک محرمِ بیگانہ ہے محبت میں
نہ کوئی غیر یہاں ہے نہ کوئی اپنا ہے
ضرور چوٹ کوئی رہ گئی کہیں نہ کہیں
کہ آج تک دل ِہستی میں درد اٹھتا ہے
جہاں ہیں سیکڑوں ہنگامے اپنی بھی کہہ دے
سنائے جا، یہ فسانہ بھی کون سنتاہے!
میں کہہ رہا ہوں نبھے گی نہ مجھ سے شرطِ وفا
وہ روٹھ بھی نہیں جاتے یہ ماجرا کیا ہے
زمانے کا ہے یہ عالم تیرے تلوّن سے
جہاں نے رنگ بدلنا تجھی سے سیکھا ہے
ترا جمال وہی ہے وہی ہوں میں لیکن
نظر اٹھاتے ہوئے آج دل دھڑکتا ہے
اگرچہ کون کہے کیاہے حاصلِ غمِ عشق
سنا تو ہے کہ مصیبت میں کام آتا ہے
٭٭٭

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

اردو کی شہوانی شاعری/ڈاکٹر سید امجد حسین