منگل، 9 اگست، 2016

غلام محمد قاصر کی غزلیں

غلام محمد قاصر (1941-1999)کی قریب پچاس غزلوں کا انتخاب پیش خدمت ہے۔ غلام محمد قاصر کا شمار اردو کے ایسے شعرا میں ہوتا ہے جنہوں نے اپنے اسلوب کو ہی اپنی شناخت بنایا۔ عام طور پر ان کی پہچان ان کے ایک شعر کے ساتھ مربوط کردی گئی ہے جس کا پہلا مصرع ہے ’کروں گا کیا جو محبت میں ہوگیا ناکام‘۔کبھی کبھی کسی شاعر کا ایک شعر اس قدر مشہور ہوتا ہے کہ اس کا باقی کلام اس شہرت کے دھوئیں کے پیچھے چھپ جاتا ہے۔حالانکہ ان کا کلیات قریب دو ڈھائی سال پہلے ہی شائع ہوچکا ہے اور اس کا بہت غور سے مطالعہ کیے جانے پر معلوم ہوتا ہے کہ وہ اپنے عہد کے تمام شاعروں میں اپنی ایک الگ اور منفرد پہچان کیونکر قائم کرگئے۔ان کے ساتھ جدیدیت کی تحریک سے وابستہ یا مابعد جدیدیت کی جھنڈی جھلانے والے نقادوں نے وہی سلوک کیا، جو اپنے اپنے قبیلوں سے الگ تھلگ رہنے والے تخلیق کاروں کے ساتھ کیا گیا تھا، حالانکہ کم از کم ایک پس ساختیاتی مطالعہ تو ایسے عزلت نشینوں کا بھی کیا جانا چاہیے تھا۔ الغرض ان کے تعلق سے ہر بڑے شاعر نے یہ بات تسلیم کی کہ وہ نہ صرف ایک اہم شاعر تھے، بلکہ ان کی شاعری کئی معنیٰ میں اپنے ہم عصروں سے بہتر بھی معلوم ہوتی تھی۔مجھے ان کی غزلوں کو ادبی دنیا پر اپلوڈ کرتے ہوئے خوشی ہورہی ہے، میں ان کے ہی ایک شعر کے ساتھ آپ کو ان کے مزاج زندگی اور مزاج شعر دونوں کے بارے میں ان غزلوں کا مطالعہ کرنے کی درخواست کرتا ہوں، شعر ہے’کون غلام محمد قاصر بے چارے سے کرتا بات، یہ چالاکوں کی بستی تھی اور حضرت شرمیلے تھے‘۔


بغیر اس کے اب آرام بھی نہیں آتا
وہ شخص جس کا مجھے نام بھی نہیں آتا
اسی کی شکل مجھے چاند میں نظر آئے
وہ ماہ رخ جو لب بام بھی نہیں آتا
کروں گا کیا جو محبت میں ہوگیا ناکام
مجھے تو اور کوئی کام بھی نہیں آتا
بٹھادیا مجھے دریا کے اس کنارے پر
جدھر حباب تہہ جام بھی نہیں آتا
چرا کے خواب وہ آنکھوں کو رہن رکھتا ہے
اور اس کے سر کوئی الزام بھی نہیں آتا
۰۰۰
بن سے فصیل شہر تک کوئی سوار بھی نہیں
کس کو بٹھائیں تخت پر گرد و غبار بھی نہیں
برگ و گل و طیور سب شاخوں کی سمت اڑ گئے
قصر جہاں پناہ میں نقش و نگار بھی نہیں
سایوں کی زد میں آگئیں ساری غلام گردشیں
اب تو کنیز کے لیے راہ فرار بھی نہیں
میلے لباس کی دعا پہنچے شبیہ شاخ تک
شاہوں کے پائیں باغ میں ایسا مزار بھی نہیں
کل ہمہ تن جمال تھے آئنے حسب حال تھے
سنتے ہیں اب وہ خال و خد عکس کے پار بھی نہیں
۰۰۰
بن میں ویراں تھی نظر شہر میں دل روتا ہے
زندگی سے یہ مرا دوسرا سمجھوتہ ہے
لہلہاتے ہوئے خوابوں سے مری آنکھوں تک
رت جگے کاشت نہ کرلے تو وہ کب سوتا ہے
جس کو اس فصل میں ہونا ہے برابر کا شریک
میرے احساس میں تنہائیاں کیوں بوتا ہے
نام لکھ لکھ کے ترا پھول بنانے والا
آج پھر شبنمیں آنکھوں سے ورق دھوتا ہے
تیرے بخشے ہوئے اک غم کا کرشمہ ہے کہ اب
جو بھی غم ہو مرے معیار سے کم ہوتا ہے
سوگئے شہر محبت کے سبھی داغ و چراغ
ایک سایہ پس دیوار ابھی روتا ہے
یہ بھی اک رنگ ہے شاید مری محرومی کا
کوئی ہنس دے تو محبت کا گماں ہوتا ہے
۰۰۰
بیابیاں دور تک میں نے سجایا تھا
مگر وہ شہر کے رستے سے آیا تھا
دیے کی آرزو کو جب بجھایا تھا
پھر اس کے بعد آہٹ تھی نہ سایہ تھا
اسے جب دیکھنے کے بعد دیکھا تو
وہ خود بھی دل ہی دل میں مسکرایا تھا
دل و دیوار تھے اک نام کی زد پر
کہیں لکھا کہیں میں نے مٹایا تھا
ہزاروں اس میں رہنے کے لیے آئے
مکاں میں نے تصور میں بنایا تھا
جہاں نے مجھ کو پہلے ہی خبر کردی
کبوتر دیر سے پیغام لایا تھا
چلے ملاح کشتی گیت امیدیں
کہ جیسے سب کو ساحل نے بلایا تھا
۰۰۰
پھر تو اس بے نام سفر میں کچھ بھی نہ اپنے پاس رہا
تیری سمت چلا ہوں جب تک سمتوں کا احساس رہا
تیری گلی میں ٹوٹ گئے سب جرم و سزا کے پیمانے
ایک تبسم دیکھنے والا ساری عمر اداس رہا
گلچیں کے چہرے کی رنگت روز بدلتی رہتی تھی
رنج و خوشی کے ہر موسم میں پھول کا ایک لباس رہا
جن کی درد بھری باتوں سے ایک زمانہ رام ہوا
قاصر ایسے فن کاروں کی قسمت میں بن باس رہا
۰۰۰
پھر وہ دریا ہے کناروں سے چھلکنے والا
شہر میں کوئی نہیں آنکھ جھپکنے والا
جس سے ہر شاخ پہ پھوٹی ترے آنے کی مہک
آم کے پیڑ پہ وہ بور ہے پکنے والا
یوں تو آنگن میں چراغوں کی فراوانی ہے
بجھتا جاتا ہے وہ اک نام چمکنے والا
پھر کہانی میں نشانی کی طرح چھوڑ گیا
دل کی دہلیز پہ اک درد دھڑکنے والا
ہجر ٹکسال میں ڈھالے گا غزل کے سکے
تیری محفل میں کبھی بول نہ سکنے والا
۰۰۰
پھر وہی کہنے لگے تو مرے گھر آیا تھا
چاند جن چار گواہوں کو نظر آیا تھا
رنگ پھولوں نے چنے آپ سے ملتے جلتے
اور بتاتے بھی نہیں کون ادھر آیا تھا
بوند بھی تشنہ ابابیل پہ نازل نہ ہوئی
ورنہ بادل تو بلندی سے اتر آیا تھا
تو نے دیکھا ہی نہیں ورنہ وفا کا مجرم
اپنی آنکھیں تری دہلیز پہ دھر آیا تھا
بھول بیٹھے ہیں نئے خواب کی سرشاری میں
اس سے پہلے بھی تو اک خواب نظر آیا تھا
۰۰۰
پہلے اک شخص میری ذات بنا
اور پھر پوری کائنات بنا
حسن نے خود کہا مصور سے
پاؤں پر میرے کوئی ہاتھ بنا
پیاس کی سلطنت نہیں مٹتی
لاکھ دجلے بنا فرات بنا
غم کا سورج وہ دے گیا تجھ کو
چاہے اب دن بنا کہ رات بنا
شعر اک مشغلہ تھا قاصر کا
اب یہی مقصد حیات بنا
۰۰۰
جذبوں کو کیا زنجیر تو کیا تاروں کو کیا تسخیر تو کیا
وہ شخص نظر بھر رک نہ سکا احساس تھا دامن گیر تو کیا
کچھ بنتے مٹتے دائرے سے اک شکل ہزاروں تصویریں
سب نقش و نگار عروج پہ تھے آنکھیں تھیں زوال پذیر تو کیا
خوش ہوں کہ کسی کی محفل میں ارزاں تھی متاع بیداری
اب آنکھیں ہیں بے خواب تو کیا اب خواب ہیں بے تعبیر تو کیا
خواہش کے مسافر تو اب تک تاریکئ جاں میں چلتے ہیں
اک دل کے نہاں خانے میں جلتا ہے چراغ ضمیر تو کیا
صحرائے تمنا میں جس کے جینے کا جواز ہی جھونکے ہوں
اس ریت کے ذروں نے مل کر اک نام کیا تحریر تو کیا
لکھتا ہوں تو پوروں سے دل تک اک چاندنی سی چھاجاتی ہے
قاصر وہ ہلال حرف کبھی ہوپائے نہ ماہ منیر تو کیا
۰۰۰
خاموش تھے تم اور بولتا تھا بس ایک ستارہ آنکھوں میں
میں کیسے نہ رکتا چلنے لگا جب سرخ اشارہ آنکھوں میں
منظر میں کناروں سے باہر دریائے محبت بہتا ہے
اور پس منظر میں نیلے سے آنچل کا کنارا آنکھوں میں
ہر سال بہار سے پہلے میں پانی پر پھول بناتا ہوں
پھر چاروں موسم لکھ جاتے ہیں نام تمہارا آنکھوں میں
اب کہنے والے کہتے ہیں اس شہر میں رات نہیں ہوتی
اک ایسا دن تھا وہ چہرہ جب میں نے اتارا آنکھوں میں
سوچا ہے تمہاری آنکھوں سے اب میں ان کو ملوا ہی دوں
کچھ خواب جو ڈھونڈتے پھرتے ہیں جینے کا سہارا آنکھوں میں
۰۰۰
خواب کہاں سے ٹوٹا ہے زنجیر سے پوچھتے ہیں
قیدی سب کچھ بھول گیا زنجیر سے پوچھتے ہیں
جام جم لایا ہے گھر گھر دنیا کے حالات
دل کی باتیں ہم تیری تصویر سے پوچھتے ہیں
دنیا کب کروٹ بدلے گی کب جاگیں گے شہر
کیسی باتیں سوئے ہوئے ضمیر سے پوچھتے ہیں
ہم سے نہ پوچھو کس جذبے نے تمہیں کیا ناکام
بادشاہ ایسی باتیں اپنے وزیر سے پوچھتے ہیں
عہد سے کون مکر جائے گا تاروں کو کیا علم
لکھی نہیں جو تونے اس تحریر سے پوچھتے ہیں
قاصر نے تو دیکھا ہے اب تک فاقوں کا رقص
جوہری طاقت کیا ہے جوہر میر سے پوچھتے ہیں
۰۰۰
ذہن میں دائرے سے بناتا رہا دور ہی دور سے مسکراتا رہا
میں سمندر نہیں چاند کو علم ہے رات بھر پھر بھی مجھ کو بلاتا رہا
آنکھ میں خیمہ زن نیلگوں وسعتیں اپنا پہلا قدم ہی خلاؤں میں ہے
جو جفا کے جزیرہ نماؤں میں ہے دل کا اس خاک خستہ سے ناتا رہا
کج ادائی کی چادر سے منہ ڈھانپ کر سونے والا سرشام ہی سوگیا
خشک یادوں کے پتوں بھرے کھیت میں سانپ سا رات بھر سرسراتا رہا
دیر تک زرد آندھی سی چلتی رہی سانس بجھتی رہی شمع جلتی رہی
جاں پگھلتی رہی رات ڈھلتی رہی میں نہ روٹھا مگر وہ مناتا رہا
ان سنی سی صداؤں کے گھیرے میں تھا دیکھتے دیکھتے گھپ اندھیرے میں تھا
وہ مجھے پاکے دنیا کے بخشے ہوئے سب کے سب کھوٹے سکے چلاتا رہا
آزمائش میں ہے وہ گھڑی عید کی چاند نے جس کے آنے کی تائید کی
اک پھٹے پیرہن پر پسینے کی تہہ ایک گھر خوشبوؤں میں نہاتا رہا
۰۰۰
رات اس کے سامنے میرے سوا بھی میں ہی تھا
سب سے پہلے میں گیا تھا دوسرا بھی میں ہی تھا
میں مخالف سمت میں چلتا رہا ہوں عمر بھر
اور جو اس تک گیا وہ راستہ بھی میں ہی تھا
سب سے کٹ کر رہ گیا خود میں سمٹ کر رہ گیا
سلسلہ ٹوٹا کہاں سے سوچتا بھی میں ہی تھا
سب سے اچھا کہہ کے اس نے مجھ کو رخصت کردیا
جب یہاں آیا تو پھر سب سے برا بھی میں ہی تھا
وقت کے محراب میں جو بے سبب جلتا رہا
رات نے مجھ کو بتایا وہ دیا بھی میں ہی تھا
خود سے ملنے کی تمنا پر زوال آنے کے بعد
وہ سمجھتا ہے کہ اس کا آئنہ بھی میں ہی تھا
۰۰۰
رات کا ہر اک منظر رنجشوں سے بوجھل تھا
چاند بھی ادھورا تھا میں بھی نامکمل تھا
آنکھ کی منڈیروں پر آرزو نہیں لرزی
اک چراغ کی لو سے اک چراغ اوجھل تھا
جا ملا ترے در کے گم شدہ زمانوں میں
میری عمر کا حاصل پیار کا جو اک پل تھا
کیوں سلگتی آوازیں بھیگ بھیگ جاتی تھیں
دشت نارسائی میں دھوپ تھی نہ بادل تھا
دور تو نہ تھا اتنا خیمہ اس کے خوابوں کا
راستے میں اپنی ہی خواہشوں کا جنگل تھا
۰۰۰
سب رنگ ناتمام ہوں ہلکا لباس ہو
شفاف پانیوں پہ کنول کا لباس ہو
اشکوں سے بن کے مرثیہ پہنا دیا گیا
اب زندگی کے تن پہ غزل کا لباس ہو
ہر ایک آدمی کو ملے خلعت بشر
ہر ایک جھونپڑی پہ محل کا لباس ہو
سن لے جو آنے والے زمانے کی آہٹیں
کیسے کہے کہ آج بھی کل کا لباس ہو
یارب کسی صدی کے افق پر ٹھہر نہ جائے
اک ایسی صبح جس کا دھندلکا لباس ہو
اجلا رہے گا صرف محبت کے جسم پر
صدیوں کا پیرہن ہو کہ پل کا لباس ہو
۰۰۰
سوئے ہوئے جذبوں کو جگانا ہی نہیں تھا
اے دل وہ محبت کا زمانہ ہی نہیں تھا
مہکے تھے چراغ اور دہک اٹھی تھیں کلیاں
گو سب کو خبر تھی اسے آنا ہی نہیں تھا
دیوار پہ وعدوں کی امر بیل چڑھا دی
رخصت کے لیے اور بہانہ ہی نہیں تھا
اڑتی ہوئی چنگاریاں سونے نہیں دیتیں
روٹھے ہوئے اس خط کو جلانا ہی نہیں تھا
نیندیں بھی نظر بند ہیں تعبیر بھی قیدی
زنداں میں کوئی خواب سنانا ہی نہیں تھا
پانی تو ہے کم نقل مکانی ہے زیادہ
یہ شہر سرابوں میں بسانا ہی نہیں تھا
۰۰۰
سوتے ہیں وہ آئینہ لے کر خوابوں میں بال بناتے ہیں
سادہ سے پرندے کی خاطر کیا ریشمی جال بناتے ہیں
امید کی سوکھتی شاخوں سے سارے پتے جھڑ جائیں گے
اس خوف سے اپنی تصویریں ہم سال بہ سال بناتے ہیں
زخموں کو چھپانے کی خاطر کپڑے ہی بدلنا چھوڑ دیا
پوچھو تو سہی ہم کس کے لیے اپنا یہ حال بناتے ہیں
وہ بولتی آنکھیں ملتے ہی جھک جاتی ہیں خاموشی سے
ہم ان کے جواب سے پھر اپنا اک اور سوال بناتے ہیں
۰۰۰
سینہ مدفن بن جاتا ہے جیتے جاگتے رازوں کا
جانچنا زخموں کی گہرائی کام نہیں اندازوں کا
ساری چابیاں میرے حوالے کیں اور اس نے اتنا کہا
آٹھوں پہر حفاظت کرنا شہر ہے نودروازوں کا
سامنے کی آواز سے میرے ہر اک رابطے میں حائل
دائیں بائیں پھیلا لشکر انجانی آوازوں کا
آنکھیں آگے بڑھنا چاہیں پیچھے رہ جاتی ہے نظر
پلکوں کے جھالر پہ نمایاں کام ستارہ سازوں کا
یوں تو ایک زمانہ گزرا دل دریا کو خشک ہوئے
پھر بھی کسی نے سراغ نہ پایا ڈوبے ہوئے جہازوں کا
۰۰۰
شوق برہنہ پا چلتا تھا اور رستے پتھریلے تھے
گھستے گھستے گھس گئے آخر کنکر جو نوکیلے تھے
خار چمن تھے شبنم شبنم پھول بھی سارے گیلے تھے
شاخ سے ٹوٹ کے گرنے والے پتے پھر بھی پیلے تھے
سرد ہواؤں سے تو تھے ساحل کے ریت کے یارانے
لو کے تھپیڑے سہنے والے صحراؤں کے ٹیلے تھے
تابندہ تاروں کا تحفہ صبح کی خدمت میں پہنچا
رات نے چاند کی نذر کیے جو تارے کم چمکیلے تھے
سارے سپیرے ویرانوں میں گھوم رہے ہیں بین لیے
آبادی میں رہنے والے سانپ بڑے زہریلے تھے
تم یوں ہی ناراض ہوئے ہو ورنہ مے خانے کا پتا
ہم نے ہر اس شخص سے پوچھا جس کے نین نشیلے تھے
کون غلام محمد قاصر بے چارے سے کرتا بات
یہ چالاکوں کی بستی تھی اور حضرت شرمیلے تھے
۰۰۰
عکس کی صورت دکھا کر آپ کا ثانی مجھے
ساتھ اپنے لے گیا بہتا ہوا پانی مجھے
میں بدن کو درد کے ملبوس پہناتا رہا
روح تک پھیلی ہوئی ملتی ہے عریانی مجھے
اس طرح قحط ہوا کی زد میں ہے میرا وجود
آندھیاں پہچان لیتی ہیں بہ آسانی مجھے
بڑھ گیا اس رت میں شاید نکہتوں کا اعتبار
دن کے آنگن میں لبھائے رات کی رانی مجھے
منجمد سجدوں کی یخ بستہ مناجاتوں کی خیر
آگ کے نزدیک لے آئی ہے پیشانی مجھے
۰۰۰
گلابوں کے نشیمن سے مرے محبوب کے سر تک
سفر لمبا تھا خوشبو کا مگر آہی گئی گھر تک
وفا کی سلطنت اقلیم وعدہ سرزمین دل
نظر کی زد میں ہے خوابوں سے تعبیروں کے کشور تک
کہیں بھی سرنگوں ہوتا نہیں اخلاص کا پرچم
جدائی کے جزیرے سے محبت کے سمندر تک
محبت اے محبت ایک جذبے کی مسافت ہے
مرے آوارہ سجدے سے تری چوکھٹ کے پتھر تک
اداسی مو قلم ہے نقش میں رنگ ملال ابھرا
تمناؤں کے پس منظر سے دل کے پیش منظر تک
۰۰۰
گلیوں کی اداسی پوچھتی ہے گھر کا سناٹا کہتا ہے
اس شہر کا ہر رہنے والا کیوں دوسرے شہر میں رہتا ہے
اک خواب نما بیداری میں جاتے ہوئے اس کو دیکھا تھا
احساس کی لہروں میں اب تک حیرت کا سفینہ بہتا ہے
پھر جسم کے منظر نامے میں سوئے ہوئے رنگ نہ جاگ اٹھیں
اس خوف سے وہ پوشاک نہیں بس خواب بدلتا رہتا ہے
چھ دن تو بڑی سچائی سے سانسوں نے پیام رسانی کی
آرام کا دن ہے کس سے کہیں دل آج جو صدمے سہتا ہے
ہر عہد نے زندہ غزلوں کے کتنے ہی جہاں آباد کیے
پر تجھ کو دیکھ کے سوچتا ہوں اک شعر ابھی تک رہتا ہے
۰۰۰
لب پہ سرخی کی جگہ جو مسکراہٹ مل رہے ہیں
حسرتوں کا بوجھ شانوں پر اٹھا کر چل رہے ہیں
زندگی کی دوڑ میں پیچھے نہ رہ جائیں کسی سے
خوف و خواہش کے یہ پیکر نیند میں بھی چل رہے ہیں
خوف و خواہش کے یہ پیکر نیند میں بھی چل رہے ہیں
دل میں خیمہ زن اندھیرو کتنی جلدی میں ہے سورج
جسم تک جاگے نہیں ہیں اور سائے ڈھل رہے ہیں
میرے قصے میں اچانک جگنوؤں کا ذکر آیا
آسماں پر میرے حصے کے ستارے جل رہے ہیں
راکھ ہوتے جارہے ہیں ماہ و سال زندگانی
جگمگا اٹھا جہاں ہم ساتھ پل دو پل رہے ہیں
مائل سجدہ غلامی بھول جا خوئے سلامی
آج وہ بادل کہاں سایہ فگن جو کل رہے ہیں
۰۰۰
محبت کی گواہی اپنے ہونے کی خبر لے جا
جدھر وہ شخص رہتا ہے مجھے اے دل! ادھر لے جا
سجی ہے بزم شبنم تو تبسم کام آئے گا
تعارف پھول کا درپیش ہے تو چشم تر لے جا
اندھیرے میں گیا وہ روشنی میں لوٹ آئے گا
دیا جو دل میں جلتا ہے اسی کو بام پر لے جا
اڑانوں آسمانوں آشیانوں کے لیے طائر!
یہ پر ٹوٹے ہوئے میرے یہ معیار نظر لے جا
زمانوں کو اڑانیں برق کو رفتار دیتا تھا
مگر مجھ سے کہا ٹھہرے ہوئے شام و سحر لے جا
کوئی منہ پھیر لیتا ہے تو قاصر اب شکایت کیا
تجھے کس نے کہا تھا آئنے کو توڑ کر لے جا
۰۰۰
ملنے کی ہر آس کے پیچھے ان دیکھی مجبوری تھی
راہ میں دشت نہیں پڑتا تھا چار گھروں کی دوری تھی
جذبوں کا دم گھٹنے لگا ہے لفظوں کے انبار تلے
پہلے نشاں زد کرلینا تھا جتنی بات ضروری تھی
تیری شکل کے ایک ستارے نے پل بھر سرگوشی کی
شاید ماہ و سال وفا کی بس اتنی مزدوری تھی
پیار گیا تو کیسے ملتے رنگ سے رنگ اور خواب سے خواب
ایک مکمل گھر کے اندر ہر تصویر ادھوری تھی
ایک غزال کو دور سے دیکھا اور غزل تیار ہوئی
سہمے سہمے سے لفظوں میں ہلکی سی کستوری تھی
۰۰۰
نظر نظر میں ادائے جمال رکھتے تھے
ہم ایک شخص کا کتنا خیال رکھتے تھے
جبیں پہ آنے نہ دیتے تھے اک شکن بھی کبھی
اگرچہ دل میں ہزاروں ملال رکھتے تھے
خوشی اسی کی ہمیشہ نظر میں رہتی تھی
اور اپنی قوت غم بھی بحال رکھتے تھے
بس اشتیاق تکلم میں بارہا ہم لوگ
جواب دل میں زباں پر سوال رکھتے تھے
اسی سے کرتے تھے ہم روز و شب کا اندازہ
زمیں پہ رہ کے وہ سورج کی چال رکھتے تھے
جنوں کا جام محبت کی مے خرد کا خمار
ہمیں تھے وہ جو یہ سارے کمال رکھتے تھے
چھپا کے اپنی سسکتی سلگتی سوچوں سے
محبتوں کے عروج و زوال رکھتے تھے
کچھ ان کا حسن بھی تھا ماورا مثالوں سے
کچھ اپنا عشق بھی ہم بے مثال رکھتے تھے
خطا نہیں جو کھلے پھول راہ صرصر میں
یہ جرم ہے کہ وہ فکر مآل رکھتے تھے
۰۰۰
وعدے یخ بستہ کمروں کے اندر گرتے ہیں
میرے صحن میں جھلسے ہوئے کبوتر گرتے ہیں
کہتے ہیں ان شاخوں پر پھل پھول بھی آتے تھے
اب تو پتے جھڑتے ہیں یا پتھر گرتے ہیں
خوں کے یہ دھارے ہم نے پہلی بار نہیں دیکھے
لیکن اب ان دریاؤں میں سمندر گرتے ہیں
سن لیتے ہیں سرگوشی کو چپ میں ڈھلتے ہوئے
چن لیتے ہیں تیر جو اپنے برابر گرتے ہیں
ذکر ہمارا ہونے لگا اب ایسی مثالوں میں
دریاؤں کے رخ پہ بنے گھر اکثر گرتے ہیں
جانے کیسے زلزلے ان آنکھوں میں آن بسے
پردہ اٹھنے لگتا ہے تو منظر گرتے ہیں
۰۰۰
وہ بے دلی میں کبھی ہاتھ چھوڑ دیتے ہیں
تو ہم بھی سیر سماوات چھوڑ دیتے ہیں
جب ان کے گرد کہانی طواف کرنے لگے
تو درمیاں سے کوئی بات چھوڑ دیتے ہیں
دعا کریں گے مگر اس مقام سے آگے
تمام لفظ جہاں ساتھ چھوڑ دیتے ہیں
دیے ہوں اتنے کہ خوابوں کو راستہ نہ ملے
تو شہر اپنی روایات چھوڑ دیتے ہیں
ہر ایک شاخ پہ جب سانپ کا گماں گزرے
فقیر کشف و کرامات چھوڑ دیتے ہیں
جمال اپنے نظاروں میں کھوگیا اے دل
سو اس ک میز پہ سوغات چھوڑ دیتے ہیں
۰۰۰
کتاب آرزو کے گم شدہ کچھ باب رکھے ہیں
ترے تکیے کے نیچے بھی ہمارے خواب رکھے ہیں
مکاں تو سطح دریا پر بنائے ہیں حبابوں نے
اثاثے گھر کے لیکن سب نے زیر آب رکھے ہیں
یہ کنکر ان سے پہلے ہاتھ پر لہریں بنالے گا
ہماری راہ میں چاہت نے جو تالاب رکھے ہیں
کناروں پہر پہنچ کر تیرنے لگتی ہیں تصویریں
سمندر نے سفینے تو پس گرداب رکھے ہیں
ہمارے گھر کی بنیادوں کے پتھر کیا ہوئے آخر
کہیں طوفان کے ٹکڑے کہیں سیلاب رکھے ہیں
ترے آنے سے پہلے جن کو مرجھانے کی جلدی تھی
وہی پتے ہوائے ہجر نے شاداب رکھے ہیں
۰۰۰
کشتی بھی نہیں بدلی دریا بھی نہیں بدلا
اور ڈوبنے والوں کا جذبہ بھی نہیں بدلا
تصویر نہیں بدلی شیشہ بھی نہیں بدلا
نظریں بھی سلامت ہیں چہرہ بھی نہیں بدلا
ہے شوق سفر ایسا اک عمر سے یاروں نے
منزل بھی نہیں پائی رستہ بھی نہیں بدلا
بے کار گیا بن میں سونا مرا صدیوں کا
اس شہر میں تو اب سکہ بھی نہیں بدلا
بے سمت ہواؤں نے ہر لہر سے سازش کی
خوابوں کے جزیرے کا نقشہ بھی نہیں بدلا
۰۰۰
کہیں لوگ تنہا کہیں گھر اکیلے
کہاں تک ہیں دیکھوں یہ منظر اکیلے
گلی میں ہواؤں کی سرگوشیاں ہیں
گھروں میں مگر سب صنوبر اکیلے
نمائش ہزاروں نگاہوں نے دیکھی
مگر پھول پہلے سے بڑھ کر اکیلے
اب اک تیر بھی ہولیا ساتھ ورنہ
پرندہ چلا تھا سفر پر اکیلے
جو دیکھو تو اک لہر میں جارہے ہیں
جو سوچو تو سارے شناور اکیلے
تری یاد کی برف باری کا موسم
سلگتا رہا دل کے اندر اکیلے
ارادہ تھا جی لوں گا تجھ سے بچھڑ کر
گزرتا نہیں اک دسمبر اکیلے
زمانے سے قاصر خفا تو نہیں ہیں
کہ دیکھے گئے ہیں وہ اکثر اکیلے
۰۰۰
ہجر کے تپتے موسم میں بھی دل ان سے وابستہ ہے
اب تک یاد کا پتا پتا ڈالی سے پیوستہ ہے
مدت گزری دور سے میں نے ایک سفینہ دیکھا تھا
اب تک خواب میں آکر شب بھر دریا مجھ کو ڈستا ہے
شام ابد تک ٹکرانے کا اذن نہیں ہے دونوں کو
چاند اسی پر گرم سفر ہے جو سورج کا رستہ ہے
تیز نہیں گر آنچ بدن کی جم جاؤگے رستے میں
اس بستی کو جانے والی پگڈنڈی یخ بستہ ہے
آیا ہے اک راہ نما کے استقبال کو اک بچہ
پیٹ ہے خالی آنکھ میں حسرت ہاتھوں میں گلدستہ ہے
لفظوں کا بیوپار نہ آیا اس کو کسی مہنگائی میں
کل بھی قاصر کم قیمت تھا آج بھی قاصر سستا ہے
۰۰۰
ہر ایک پل کی اداسی کو جانتا ہے تو آ
مرے وجود کو تو دل سے مانتا ہے تو آ
وفا کے شہر میں اب لوگ جھوٹ بولتے ہیں
تو آرہا ہے مگر سچ کو مانتا ہے تو آ
مرے دیے نے اندھیرے سے دوستی کرلی
مجھے تو اپنے اجالے میں جانتا ہے تو آ
حیات صرف ترے موتیوں کا نام نہیں
دلوں کی بکھری ہوئی خاک چھانتا ہے تو آ
تو میرے گاؤں کے حصے کی چھاؤں بھی لے جا
مگر بدن پہ کبھی دھوپ تانتا ہے تو آ
۰۰۰
ہم نے تو بے شمار بہانے بنائے ہیں
کہتا ہے دل کہ بت بھی خدا نے بنائے ہیں
لے لے کے تیرا نام ان آنکھوں نے رات بھر
تسبیح انتظار کے دانے بنائے ہیں
ہم نے تمہارے غم کو حقیقت بنادیا
تم نے ہمارے غم کے فسانے بنائے ہیں
وہ لوگ مطمئن ہیں کہ پتھر ہیں ان کے پاس
ہم خوش کہ ہم نے آئنہ خانے بنائے ہیں
بھونرے انہی پہ چل کے کریں گے طواف گل
جو دائرے چمن میں صبا نے بنائے ہیں
ہم تو وہاں پہنچ نہیں سکتے تمام عمر
آنکھوں نے اتنی دور ٹھکانے بنائے ہیں
آج اس بدن پہ بھی نظر آئے طلب کے داغ
دیوار پر بھی نقش وفا نے بنائے ہیں
۰۰۰
یاد اشکوں میں بہادی ہم نے
آ کہ ہر بات بھلادی ہم نے
گلشن دل سے گزرنے کے لیے
غم کو رفتار صبا دی ہم نے
اب اسی آگ میں جلتے ہیں جسے
اپنے دامن سے ہوادی ہم نے
دن اندھیروں کی طلب میں گزرا
رات کو شمع جلادی ہم نے
رہگزر بجتی ہے پائل کی طرح
کس کی آہٹ کو صدا دی ہم نے
قصر معنی کے مکیں تھے پھر بھی
طے نہ کی لفظ کی وادی ہم نے
غم کی تشریح بہت مشکل تھی
اپنی تصویر دکھادی ہم نے
۰۰۰
یوں تو صدائے زخم بڑی دور تک گئی
اک چارہ گر کے شہر میں جاکر بھٹک گئی
خوشبو گرفت عکس میں لایا اور اس کے بعد
میں دیکھتا رہا تری تصویر تھک گئی
گل کو برہنہ دیکھ کے جھونکا نسیم کا
جگنو بجھا رہا تھا کہ تتلی چمک گئی
میں نے پڑھا تھا چاند کو انجیل کی طرح
اور چاندنی صلیب پہ آکر لٹک گئی
روتی رہی لپٹ کے ہر اک سنگ میل سے
مجبور ہوکے شہر کے اندر سڑک گئی
قاتل کو آج صاحب اعجاز مان کر
دیوار عدل اپنی جگہ سے سرک گئی
۰۰۰
یہ جہاں نورد کی داستاں یہ فسانہ ڈولتے سائے کا
مرے سربریدہ خیال ہیں کہ دھواں ہے سونی سرائے کا
وہ ہوا کا چپکے سے جھانکنا کسی بھولے بسرے مدار سے
کہیں گھر میں شہر کی ظلمتیں کہیں چھت پہ چاند کرائے کا
گل ماہ گھومتے چاک پر کف کوزہ گر سے پھسل گئی
کہ بساط گردش سال و سن یہی فرق اپنے پرائے کا
مرا نطق بھی ہے نگاہ بھی مری شاعری کا گواہ بھی
تری دوستی کے محاذ پر وہ لرزتا عکس کنائے کا
کہ اسی کے نام تک آئے تھے یہ صدا و صدق کے سلسلے
وہی شخص جس نے ترے لیے کیا قتل سوچتی رائے کا
۰۰۰

1 تبصرہ:

Abdul Qayyum کہا...

بہت ہی بہترین اور بہت ہی عمدہ شاعری ہے واااہ
ایک دم زبردست

رابطہ فارم

نام

ای میل *

پیغام *