نسیم سید کی نظمیں

نسیم سید ہمارے دور کی ایک الگ اور منفرد مزاج شاعر ہیں۔ان کا سوچنے، سمجھنے اور دنیا کو دیکھنے کا تجربہ جب نظم میں ڈھلتا ہے تو محسوس ہوتا ہے کہ وہ 'دکھی'ہیں۔دکھ انسان کا مقدر ہے اگر وہ بے بسی کے اس احساس میں شریک ہے جس میں دنیا کی تاریکی کو بڑھاوا دینے والے اور اس تاریکی میں خاموش رہنے والوں کی من مرضیاں شامل ہیں۔ میں نے ان کی نظم 'بدن کی اپنی شریعتیں ہیں' کافی پہلے پڑھی تھی اور تبھی اسے بہت پسند کیا تھا، اس نظم کا حقیقی رخ اور باغیانہ تیور، اخلاقیات کی اوندھی دھار پر اس کا طمانچہ ایک قسم کا ایسا تاثر پیدا کرتا ہے کہ پڑھنے والا شاعر کو اس آواز اٹھانے کی ہمت پر داد دیے بغیر نہیں رہ سکتا۔نسیم سید کے موضوعات مختلف ہیں، بعض اوقات رومانیت، بعض اوقات جھلاہٹ اسی لیے کبھی تیزی و تندی، کبھی بلا کی نرمی ان کے اسلوب کا حصہ ہیں۔ میں چاہتا ہوں کہ ان نظموں پر تفصیلی گفتگو کی جائے۔ان کے پاس ایک بہت ہوشمندانہ اور تنقیدی مزاج کا حامل دماغ بھی ہے، جسے میں نے ن۔م۔راشد کی کسی نظم پر حاشیہ میں ہونے والی ایک بحث کے دوران پڑھنے کی کوشش کی تھی۔میں نے ان سے بہت باتیں کی ہیں، ان کے شعری تجربے، سماجی قوانین و رسوم ، مذہب اور دوسرے کئی موضوعات ان باتوں میں زیر بحث آئے ہیں، کبھی موقع ملا تو یہ خطوط سامنے لائے جاسکتے ہیں۔جس میں ذاتی مسائل کے بکھان کے علاوہ بھی بہت کچھ ہے اور جس سے نسیم سید کے شعری رویے پر بھی روشنی ڈالی جاسکتی ہے۔

وہ مٹی پال لگائی ہے

جو چیزیں تم کو بھیجی ہیں
یہ میرے بیتے موسم ہیں
یہ عشق ہیں
یہ پاگل پن ہیں
تم ہنسنا مت!!
یہ دارجلنگ کی چائے کی پتی
اس کی مہک
بالکل ویسی ہے
جیسے تمہارے حرف
تمہاری نظمیں، باتیں
ایک کتاب ہے
اس پر میرا نام لکھا تھا
اپنے نام کو کاٹ دیا ہے
اور تمہارا نام لکھا ہے
"آنکھیں آہن پوش ہوئیں" کے
کچھ اوراق ہیں
اس کا خالق۔۔۔۔۔
یہ سمجھو،،، بس یہ بھی پرانا عشق ہے میرا
اس کے لکھے
سارے اوراق کی کھوج ہے
شاید۔۔۔۔
میری کھوج میں اب تم بھی شامل ہوجائو
The LZu Dancer
میری پسندیدہ یہ کہانی
مجھ کو تمہیں سنانی تھی
اس کا خالق
پاسوناری۔۔۔۔
اس کی تحریروں کے عشق میں
تین سال تک جاپانی کو سیکھا
عشق کہو یا پاگل پن۔۔۔۔
اس بے ربطی سے عشق رہا
اس عشق میں سب برباد کیا
اب ہاتھ سنے ہیں مٹی میں
اور چاک پہ ڈھلتی سوچیں ہیں اطراف مرے
اب ایک نئی بے چینی ہے
اک سوچ کو چاک پہ ڈھلنا ہے
اک پیالہ ابھی بنانا ہے
لیکن یوں ہے۔۔۔۔۔
٭٭٭

تو آیا تھا

بھور کرن
نوبت باجی تھی
دھوپ شگن
گھنگھرو چھنکے تھے
انگنائی میں
اس کونے سے اس کونے تک
پون کی پائل چہک رہی تھی
تو آیا تھا
تو آٰیا تو
بھوبل میں دہکی چنگاری
سرک کے تھوڑا باہر آئی
ہم دونوں کے ہونٹوں پر
سرشار سی چپ کو
جوڑ جوڑ کے
چنگاری نے آگ بنائی
آگ کی ترچھی سی بوچھار میں
بھیگتی خوشیاں
پنکھ چھپکتی ناچ رہی تھیں
تو آیا تھا۔۔۔
تو آیا تو
عشق کی گبرو چھائوں سے ٹک کے
خوابوں کے سوندھے کلہڑ میں
ہم دونوں نے
گھونٹ گھونٹ اپنے کو پیا تھا
اپنا جیون ذائقہ
ہونٹوں نے چکھا تھا
ایک سانس نے
ہم دونوں کی ساری عمر کو جی ڈالا تھا
تو آیا تھا
٭٭٭

تو بھی رویا تھا مالک

دیکھا تو نے کچھ مالک؟
آرٹ گیلری تیری
اور یہ اس کی تصویریں
بے رحم رواجوں کی
مکڑیوں کے جالوں میں
نیم جاں مناظر کی
ڈھیر پر سے کوڑے کے
روٹی چنتے بچوں کی
شہر کے سلم نامی
بے نصب ٹھکانوں کی
کتنی بے وقعت ہیں یہ
جب تلک پکاسو سا
کوئی اک مصور ان
بھوک کھائے ڈھانچوں کو
پینٹنگ میں نا جڑ دے
کیمرہ کوئی جب تک
ان سلم ٹھکانوں کو
اوسکر میں نا دھردے
آج کی نمائش میں
نامور مصور کے
فن یہ اونچی بولی کا
وہ جو اک تماشہ تھا
تو نے دیکھا تھا مالک؟
میرے بھوکے ہاتھوں میں
کوڑے والی روٹی کا
وہ جو ایک ٹکڑا تھا
سوکھے پھول کے جیسا
وہ جو میرا چہرہ تھا
آج کی نمائش میں
کتنا قیمتی تھا وہ
آج اک مصور نے
کتنا مہنگا بیچا تھا
میری گندی بستی کے
غم زدہ سلم نے جو
صرف چند لمحوں کا
افتکار جیتا تھا
تو نے دیکھا تھا مالک؟
تو بھی تھا وہاں مالک؟
تو بھی رویا تھا مالک؟
٭٭٭

نئے سلیقے کا جشن غم ہے

تمہارے جملوں میں
چھوٹی چھوٹی یہ سلوٹیں سی
تمہاری باتوں میں
لمبے وقفوں کی
کچھ گرہیں سی
تمہارے آداب دنیاداری کے
پرتکلف، گھنیرے موسم
تمہارے وعدوں کے
الجھے الجھے یہ کچے ریشم
نہ جانے کیا کچھ
جتارہے ہیں۔۔۔بتارہے ہیں
مگر ہم اپنی
پرانی باتیں
گلاب کے کنج کو
ابھی تک سنارہے ہیں
بدلتے موسم کی
زرد چادر پہ دھانی سوچیں
بچھارہے ہیں
نئے سلیقے کا
جشن غم ہے
نئے طریقے سے
چشم پر نم سجارہے ہیں
٭٭٭

یہ موسم نیا رہے

برستے رنگ
اور بھیگتے یہ سبز پیرہن
غزال دشت جاں دلاں!
یہ کیسا اہتمام ہے؟
کنار چشم نم جو یہ سجا ہے
کوئی خواب ہے؟
کہ خواب کا سراب ہے؟
غزال دشت رائگاں
بتا یہ آج کیا ہوا؟
کہ سبز بخت ہجر کے سحاب
اپنے راستے بدل گئے
زمیں پہ سرخ، سبز، کاسنی بھنور کے رقص میں
دمکتی پتیوں کے جسم گھل گئے
ہوا نے شاخ شاخ سے
گلاب توڑ توڑ کے
وہ راستے سجادیے
جو انتظار کی ملول دھول سے خراب تھے
شفق پگھل کے
چمپئی شہاب رنگ دھڑکنوں میں ڈھل گئی
دلاں سنا؟
یہ موسم نیا رہے
لہو میں اک سنہری آگ جل گئی
تو کیا ہوا؟
جو وقت اپنے ہجر بے کنار میں اتر گیا
سو کیا کریں؟ جو مہلتوں کے بادباں کھل گئے
غزال دشت رائگاں
تجھے اس ایک سانس کی نوید ہو
یہ ایک گھونٹ ساعت مراد
با نصیب ہو
یہ موسم نیا رہے
دلاں! تجھے نوید ہو
٭٭٭

تمہارے بس میں یہ کب ہے
(ایک دھواں دھار گفتگو کے بعد)

تم
ہماری لکھنے والی انگلیوں کی
شمعیں گل کردو
ہمارے قد و قامت کو کتر کے
دھجی دھجی کرکے
ردی کاغذوں میں
کوڑے کرکٹ میں دبادو
ہماری بات
دیواروں میں چنوادو
تمہارے بس میں ہے
ہم جانتے ہیں
مانتے ہیں
سب تمہارے بس میں ہے
لیکن
ہماری سوچ پر تالا لگاتے
اور اپنی چابیوں کے بھاری گچھے میں
یہ چابی ڈال کے مٹھی دبالیتے
کہیں تہہ میں سمندر کی اچھال آتے
تمہارے بس میں یہ کب ہے؟
٭٭٭

ہوائیں پچرنگی چنریوں کو سکھارہی ہیں
(شمالی امریکہ کی خزاں)

ہوائیں پچ رنگی چنریوں کو سکھارہی ہیں
سہاگنیں موسموں کی
سبزہ پہ سات رنگوں سے جھلملاتے
شگن کے چھاپے لگارہی ہیں
کٹورے بھر کے گلال کے
کوئی رکھ گیا ہے
فضائیں ہر سبز پیرہن کو
تلک سے، سیندور سے، حنا سے سجارہی ہیں
سمیک و میپل، جنیپر و برچ
رنگ کھیلیں گے
مے اچھالیں گے، رقص ہوگا
بہار کے جاتے موسموں کو
سلامتی کی دعائیں ہونگی
خزاں کی آمد کا جشن ہوگا
٭٭٭

ورق ورق جو سرافرازیوں کے قصے ہیں

یہ اپنی مدح و ثنا
شان و شوکت اجداد
ورق ورق جو
سر افرازیوں کے قصے ہیں
یہ اس قلم سے لکھے ہیں
مرے مورخ نے
حضور شاہ جو
اک عمر دست بستہ رہا
برائے پرورش فکر و بودباش حروف
جو والیان ریاست کے منہ کو
تکتا رہا
یہ تاج و تخت و عمارات و باغ اور محل
بہت غرور سے
یہ جن کا ذکر کرتا ہے
ان ہی کے فرش کے نیچے ہیں
اسے تہہ خانے
جہاں دھرے ہیں
وہ فرمان شاہزادوں کے
جو اپنے پیاروں کے ایک ایک
قطرہ خون سے
برائے تخت
اطاعت کشید کرتے تھے
جو پیل پیل کو کولہو میں
زندہ جسموں کو
خمار و نشہ عشرت کشید کرتے تھے
قصیدے تخت نشینوں کے
اس قلم نے لکھے
دھرے تھے تخت کے نیچے جو سر
نہیں دیکھے
دہکتی تیلیاں
آنکھوں میں کتنی
پھیری گئیں
یہ غار چہروں کے
اس نے مگر نہیں دیکھے
ہم اس قلم کی وراثت
اٹھائے پھرتے ہیں
یہ خفیہ خانے
یہ فرمان
کتنی نسلوں سے
ہم اپنے سینوں میں
اب تک چھپائے پھرتے ہیں
اور اپنے وحشی و بدبخت جنگلی جذبوں پر
غلاف خانہء کعبہ چڑھائے پھرتے ہیں
٭٭٭

وہ لاشیں ڈھو رہا ہوگا

خدا گر وہ ہے
جو تم کہہ رہے ہو
ہے
تو پھر اس کو
دعائوں کے قبول و رد کی فرصت ہی کہاں ہوگی؟
وہ۔۔۔۔
انسانوں کے مقتل میں
دو زانو ہچکیوں سے رورہا ہوگا
وہ۔۔۔۔
ملبے میں دبی معصوم چیخیں
انگلیوں سے کھودتا ہوگا
وہ۔۔۔۔
لاشیں ڈھورہا ہوگا
زمیں پہ ہر طرف بکھری ہوئی انسانیت کی
دھجیاں
بازو پہ باندھے
خون چہرے پر ملے
اس قتل گہ میں
ناصر بنصرنا
ھل من ناصر بنصرنا
کہہ کے چیختا ہوگا
٭٭٭

رات جلتی رہی

زندگی قطرہ قطرہ پگھلتی رہی
رات سے بات تیری نکلتی رہی
چاندنی کے روپہلے دیے
تیری آواز کی جھیل میں
جل کے بجھتے رہے
بجھ کے جلتے رہے
وقت کے نیل میں
ساتھ بہتے کنارے
رواجوں کی بھاری صلیبیں اٹھائے ہوئے
ساتھ چلتے رہے
ہاتھ ملتے رہے
سیلی سیلی سی
تھم تھم کے جلتی دعائوں کا
کڑوا دھواں
اور آنکھوں کے افسردہ صحرائوں میں
ایک ایک کرکے گم ہوتے
خوابوں کی ویرانیاں
سیل غم۔۔موج درموج
سر سے گزرتی رہی
دور بیٹھی ہوئی خود سے میں
خالی خالی سی آنکھوں سے
چپ چاپ تکتی رہی
رات جلتی رہی
زندگی قطرہ قطرہ پگھلتی رہی
شمع کے ساتھ یونہی
رات پگھلتی جائے
مرے احاس کے کشکول میں
گرتا جائے
آج خیرات پہ مائل ہے
محبت کی نظر
آج یہ کاسہء امید
چھلک جانے دو
کل پہ خیرات
برے وقت میں کام آئے گی
پھر اٹھالیں گے، دھریں گے
یہی گزرا ہوا وقت
گزراوقات کی صورت نکل تو آتی ہے
٭٭٭

کیسا عالم ہے یہ جو عالم ہے

ابر کے
نیم وا دریچے سے
چھن رہا ہے
جمال ماہ تمام
ڈھل رہا ہے
خمار و نشہ و کیف
سچ رہی ہے
سلونی سانولی شام
چاندنی کی
مہین سی چادر
کورے پنڈے سے
دل کے لپٹٰ ہے
ان کہی بات کی
انار کلی
کچھ کھلی سی
کچھ ادھ کھلی سی
دھڑکنوں میں
ترے لبوں کی نبات
مہکی مہکی
گھلی گھلی سی ہے
کیسا عالم ہے
یہ جو عالم ہے
یہ بیک وقت
میری پلکوں پر
دھوپ سی کیوں ہے
کیوں نمی سی ہے؟
٭٭٭

بدن کی اپنی شریعتیں ہیں

قبول و ایجاب کی شریعت
درست۔۔۔لیکن!
بدن کی اپنی شریعتیں ہیں
حقیقتیں ہیں
سوال ہیں
اپنے فیصلے ہیں
تو فرض جیسی عبادتوں سی
محبتوں
اور حفظ۔۔۔جیسی
تلاوتوں سی۔۔۔لگاوٹوں سے
نہ کھلنے والی گرہ کے
انکار کو سمجھنے
جو گھپ اندھیروں میں
لمس کے
گہری خامشی میں بدن کی
تکرار سی ہے کوئی
اس ایک تکرار کو سمجھنے
یہ خواب گاہوں میں
فرض آداب زوجیت کی ترازوئوں میں
جو تل رہا ہے
اس ایک سودے کو
ایک بازار کو سمجھنے
جو آج تک کچھ سمجھ نہ پائے
وہ حرف اقرار کی
تہوں میں اتر کے
تفصیل حاشیہ میں قرار کرتے
حقیقتوں کے ورق الٹتے
بدن کی اپنی شریعتوں کے
رموز و اسرار کو سمجھتے
٭٭٭

جہیز میں کتاب تھی

جہیز میں کتاب تھی
کتاب میں
فرائض و حقوق زوجیت کے سب اصول تھے
نکتہ نکتہ بات تھی
بات تھی کہ اونٹنی کی پشت پر بھی
حکم ہو۔۔۔۔۔
تو بس رضا و رغبت ہی میں
بیبیوں کی بخشش و نجاب ہے
نہ میرا کوئی ذکر تھا
نہ میری کوئی بات تھی
اونٹنی کی پشت تھی
اونٹنی کی پشت پر لدی ہوئی
میری فکر و فہم کی
ایک اک کتاب تھی
٭٭٭

ہم نہیں مانتے

لاکھ اک دوسرے کی
بنت میں بنے
روح میں، سوچ میں، دھڑکنوں میں
تم اک دوسرے کی دھڑکتے رہو
ہم نہیں مانتے
دھڑکنوں کی سند
ہم نہیں مانتے
دل کے رشتوں کو جائز نہیں جانتے
جائو۔۔۔تاکید ہے
اپنے پنڈت کی، ملا کی یا پادری کی سند لائو
اک دوسرے کے لیے
ان کی تصدیق 'دوبول' کا
خود پہ انگوٹھا لگوائو
ورنہ
بلا ہم سے پوچھے
جو یوں جوڑ کے اپنی روحوں کو
تم نے گرہ اک لگائی ہے
ہم اس گرہ کو نہیں جانتے
دل کے رشتوں کو
جائز نہیں مانتے
٭٭٭


تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

اردو کی شہوانی شاعری/ڈاکٹر سید امجد حسین