جمعرات، 24 نومبر، 2016

تاریخ سے اصل اقبال کی دریافت/سعید ابراہیم

تاریخ بہت بے رحم ہوتی ہے یہ ان قوموں کو کبھی معاف نہیں کرتی جو اس سے تمسخر کی مرتکب ہوتی ہیں۔ جو قومیں تاریخ کو مسخ کرتی ہیں تاریخ انہیں مسخ کر دیتی ہے۔ مشرقی پاکستان سے بنگلہ دیش تک کا سفر اس بات کا بین ثبوت ہے۔ حکمران سمجھتے ہیں کہ وہ تاریخ چھپانے‘ جھٹلانے اور مسخ کرنے پر قادر ہیں مگر یہ ان کی بہت بڑی بھول ہے۔ تاریخ کو نہ چھپایا جا سکتا ہے نہ جھٹلایا جا سکتا ہے اور نہ ہی مسخ کیا جا سکتا ہے۔ جن قوموں یا حکمرانوں نے ایسا کرنے کی جرات کی وہ آج تاریخ کے صفحات میں خود عبرت کے نشان کی صورت محفوظ ہیں۔ تاریخ کو مسخ کرنے کا عمل دراصل ان قوموں کا شیوہ ہے جو تاریخ کے کسی موڑ پر اپنی کمزوریوں کی بنا پر احساس کمتری میں مبتلا ہو جاتی ہیں۔ برصغیر کے مسلمان اسی وقت احساس کمتری کے مرض مبتلا ہو چکے تھے جب انگریز نے طاقت سازش اور خود یہاں کے مسلمان حکمرانوں کی کمزوریوں سے فائدہ اٹھا کر انہیں تخت حکمرانی سے اتار پھینکا تھا۔ مغلیہ دربار سے وابستہ بیکار اور عیاش جاگیردار طبقہ منہ کے بل گرا تو سب سے پہلے اس ’’مظلوم‘‘ طبقے کا درد سرسید احمد خان کے دل میں اٹھا اور انہوں نے اس طبقے کی عزت رفتہ کی بحالی کے لئے دن رات ایک کر دیا۔ اور جنگ آزادی )جسے سر سید احمد خان غدر کا نام دیتے ہیں یعنی غداری کا عمل( میں انگریز افسران کی جان بچانے کی خدمات کے عوض انہوں نے انگریز حکمرانوں سے اس طبقے کے لئے ایک طرف عزت اور عہدہ طلب کیا اور دوسری طرف انہیں انگریز کے دربار میں مغلیہ دربار والی شان و شوکت دوبارہ حاصل کرنے کے گر بتائے۔ سر سید نے 1878ء میں وائسرائے لٹن کی لجسلیٹو کونسل کارکن نامزد ہونے کے بعد کونسل میں ’’قانون جائیداد موقوفہ خاندانی اہل اسلام‘‘ کے نام سے ایک بل پیش کرنے کے لئے تیار کیا‘ جس کا مقصد مسلمان رئیسوں یعنی مغل دربار کی اشرافیہ کی باقیات کو تباہی و بربادی سے بچانا مقصود تھا۔ لیکن بوجوہ پیش نہ کر پائے۔
مندرجہ بالا حقائق کی نشاندہی کا مقصد سر سید مرحوم کی ذات کو نشانہ تنقید بنانا ہرگز نہیں ہے بلکہ یہ بتانا مقصود ہے کہ سر سید کی ذات میں ایسی باتیں بھی شامل ہیں جن کا سامنا کرتے ہوئے ہمیں شرم محسوس ہوتی ہے اور ویسے بھی پاکستان میں رائج نظریہ حکمرانی کو یہ حقائق ’’وارہ‘‘ نہیں کھاتے۔ سو ایک خاص مقصد کے تحت انہیں عوام سے چھپا کر تاریخ کو مسخ کیا جاتا ہے۔ شبلی نعمانی جیسے جید تاریخ دان جن کا شمار سر سید کے ارکان خمسہ میں ہوتا ہے اس نظریئے کے حامی تھے کہ مسلمانوں کو جوش دلانے کے لئے اگر تاریخ میں جھوٹ کی آمیزش کر دی جائے تو کوئی مضائقہ نہیں ہے۔
ہماری تاریخ میں ایک صاحب تھے مولوی محمد باقر نامی جو دہلی سے ’’اخبار الظفر‘‘ کے نام سے ایک پرچہ نکالتے تھے۔ انہوں نے 1857ء میں حقائق کے برخلاف فتح کی بشارتیں سنانے کے لئے جھوٹی خبریں اور قصے گھڑے حتیٰ کہ ایران سے مجاہدین کے لشکر کی آمد کی جھوٹی خبریں شائع کیں۔ اسی طرح کا ایک اور کردار ’’طلسم لکھنؤ‘‘ کے مدیر مولوی یعقوب انصاری کا ہے جن کے نزدیک جہاد میں مسلمانوں کا حوصلہ بڑھانے کے لئے جھوٹی اور من گھڑت خبریں شائع کرنا جائز تھا۔ اسی حوالے سے ایک اور دلچسپ کردار جو سامنے آتا ہے وہ جمیل الدین خان ہجر کا ہے۔ یہ صاحب دہلی سے شائع ہونے والے ’’صادق الاخبار‘‘ کے مدیر تھے۔ انہوں نے بھی تاریخ میں جھوٹ کی آمیزش کے نظریئے کو آگے بڑھاتے ہوئے بہادر شاہ ظفر کے حق میں غیرحقیقی دعوؤں پر مبنی خبریں شائع کیں۔ انگریزوں کی شکست اور بادشاہ کی فتح کی غلط خبریں شائع کیں اور یہاں تک لکھ دیا کہ پنجاب سے تمام گوروں کا صفایا کر دیا گیا ہے۔ مزید لکھا کہ روس کی چار لاکھ فوج مجاہدین کی مدد کے لئے پہنچ رہی ہے اور ایرانی بھی ہماری مدد کو آنے والے ہیں۔
اگر ذرا غور سے دیکھیں تو تاریخ کو چھپانے اور مسخ کرنے کا یہ عمل مغلیہ دربار کے زوال سے شروع ہو کر کارگل کے معرکے تک پھیلا ہوا ہے۔ ہم نے اپنے احساس کمتری کو احساس برتری کے لبادے میں چھپانے کے لئے نہ تو واقعات کو معاف کیا اور نہ ہی شخصیات کو۔ وہ چاہے سر سید ہوں‘ اقبال ہوں‘ قائداعظم ہوں یا لیاقت علی خان ہم نے سب کا ایک ایسا غیر حقیقی تصور بنانے کی کوشش کی جس کی تاریخ تائید کرنے سے صاف قاصر ہے۔ سیدھی سی بات ہے کہ یہ لوگ مسلمانوں کے سیاسی لیڈر تھے مگر پیغمبر ہرگز نہیں تھے ۔مگر ہمارا المیہ دیکھئے کہ ہم نے اپنے اجتماعی احساس کمتری سے جان چھڑانے کے لئے ان لوگوں کو ہر طرح کی انسانی غلطی اور خامی سے مبرا بنانے کی ٹھان لی۔ یہ بات ایک جانب تو عام مسلمان کی نفسیاتی تسکین کا باعث تھی اور دوسری طرف ہمارے حکمران طبقے کو بھی کچھ ایسے بت درکار تھے جن کے نام پر وہ عوام کو بیوقوف بنا سکیں اور یوں پاکستان بننے کے بعد ان زعماء کا ایک غیرحقیقی تصور اجاگر کرنے اور عوام کے ذہنوں پر مرتسم کرنے کا عمل حکمرانوں کی زیرنگرانی زوروشور سے شروع ہو گیا جو آج تک بڑی ڈھٹائی سے جاری و ساری ہے۔ ہمارے خیال میں اب وقت آ گیا ہے کہ ہم بحیثیت قوم اپنے ماضی اور حال کے حقیقی خدوخال کا پوری ایمانداری سے جائزہ لیکر خود کو جھوٹی جذباتیت سے آزاد کروائیں۔ اور اب ویسے بھی تاریخ خود کو زیادہ دیر تک چھپانے کی مہلت نہیں دیگی۔ تاریخ کے ہر نازک موڑ پر نئے جھوٹ گھڑنا اور انہیں پراپیگنڈے کی حد تک پھیلانا ہماری ایک قومی روایت رہی ہے آج پھر ہم تاریخ کے ایک نازک موڑ پر کھڑے ہیں اور یہی وہ موقع ہے جہاں ہمیں یہ طے کرنا ہے کہ ہم کب تک جھوٹی تاریخ کی کچی بنیادوں پر پاؤں جمانے کی کوشش کرتے رہیں گے۔
جیسا کہ میں نے اوپر بیان کیا کہ ہمارے سیاسی زعماء انسان تھے پیغمبر نہیں۔ سو ہمیں تاریخ میں جھانک کر دیکھنا ہے کہ ہمارے یہ زعماء کیا ویسے ہی تھے جیسا کہ ہمیں نصاب‘ اخبارات اور ٹی وی ریڈیو پر بتایا جاتا ہے یا ان کی ذات کے بارے میں کچھ حقائق ایسے بھی ہیں جو ہمارے حکمران محض اس لئے چھپاتے ہیں کہ عوام کو ہیرو پوجا کے مقدس جال میں الجھا کر جذباتیت کے گڑھے میں گرائے رکھیں تاکہ عوام کو حکمرانوں کے اصل چہرے اور مفادات کا پتہ نہ چل سکے۔
علامہ اقبال مسلم تاریخ کا ایک محترم نام ہیں مگر کیا اقبال حقیقی معنوں میں ویسے ہی تھے جیسے ہمیں میڈیا اور نصاب میں دکھائے، بتائے اور سنائے جاتے ہیں۔ آیئے آج تاریخ کے صفحات سے اصل اقبال کو دریافت کرنے کی ایک سعی کرتے ہیں۔ اس کے لئے سب سے پہلے یہ دیکھتے ہیں کہ خود اقبال اپنے بارے میں کیا کہتے ہیں۔ علامہ21 مارچ 1931ء کو لاہور میں منعقد آل انڈیا مسلم کانفرنس کے اجلاس میں اپنے خطبے میں کہتے ہیں
’’میں آپ کو ایک ایسے شخص کے انتخاب پر مبارکباد نہیں دے سکتا جس کی حقیقت ایک منصوبے باندھنے والے تخئیل پسند انسان سے زیادہ نہیں۔ کسی ایسے مطمئع نظر کا انکشاف کرنا جو دنیاوی حد بندیوں سے آزاد ہو ایک کام ہے اور یہ بتانا کہ کس طرح وہ مطمئع نظر زندگی بخش حقائق میں تبدیل ہو سکتا ہے بالکل دوسرا کام ہے۔ وہ آدمی کہ جس میں یہ جرأت ہو کہ وہ اوّل الذکر کام سے موخر الذکر کام کی طرف اپنے آپ کو منتقل کرے۔ اسے بار بار ان حد بندیوں کا جائزہ لینا ہوگا اور بسا اوقات ان کے سامنے جھکنا پڑے گا جنہیں وہ اب تک نظر انداز کرنے کا عادی رہا ہے۔ ایسے آدمی کو بدقسمتی سے مسلسل ذہنی کشمکش میں زندگی بسر کرنی پڑتی ہے اور اس پر باآسانی تناقص بالذات کا الزام عائد کیا جا سکتا ہے‘‘۔ اس اقتباس کو پڑھنے کے بعد سوال اٹھتا ہے کہ کیا اقبال تناقص بالذات کا شکار تھے تو اس کا جواب ہمیں ان کی شاعری اور حقیقی زندگی سے ڈھونڈنا ہوگا۔
جہاں تک اقبال کی شاعری کا تعلق ہے وہ جگہ جگہ نظریاتی تناقصات کا شکار نظر آتی ہے۔ مذہبی نظریات کے اعتبار سے آپ کی شاعری کے تین ادوار ہیں یعنی پہلے دور میں واحد الوجود کا پرچار ملتا ہے دوسرے دور میں آپ واحد الشہودی نظریات کا پرچار کرتے ہیں اور آخری دور میں پھر سے وحدت الوجودی بن جاتے ہیں۔ وہ اپنی تمام شاعری میں ایک سیلانی الطبع شخص کے طور پر نظر آتے ہیں۔ سیاسی نظریات کے حوالے سے بھی جگہ جگہ تضادات کا شکار نظر آتے ہیں۔ ان کے نزدیک مسولینی بھی قابل تعریف ہے اور مارکس اور لینن بھی۔ مارکس کے بارے میں تو یہاں تک کہہ گزرتے ہیں کہ
نیست پیغمبر و لیکن دربغل دار و کتاب
اسی طرح سے کبھی جمہوریت کی تعریف کرتے ہیں اور کبھی اسے برا بھلا کہتے ہیں۔ ایک جگہ لکھتے ہیں
سلطانئ جمہور کا آتاہے زمانہ
جو نقش کہن تم کو نظر آئے مٹا دو
اور دوسری جگہ فرماتے ہیں
جمہوریت اک طرز حکومت ہے کہ جس میں
بندوں کو گنا کرتے ہیں تولا نہیں کرتے
اقبال نے اپنی شاعری میں اتنے متضاد خیالات پیش کئے ہیں کہ ان کا ایک سکیچ بنانا ناممکن ہے۔ اقبال بیک وقت آمریت پسند بھی ہیں اور جمہوریت پسند بھی۔ وہ سوشلسٹ بھی ہیں اور مسلمان بھی۔ لہذا اقبال پاکستان میں بننے والی ہر حکومت کے لئے گیدڑ سنگھی کا کام دیتے رہے ہیں اور دیتے رہیں گے۔ کیونکہ ان کی شاعری سے ہر طرح کے طرز حکومت کے لئے سند دستیاب ہو جاتی ہے۔
اقبال کا المیہ یہ ہے کہ ناصرف ان کی شاعری تضادات کا شکار ہے بلکہ ان کی حقیقی زندگی اور شاعری میں بھی بے حد بعد پایا جاتا ہے۔ اور یہ شعر اس بات کی وضاحت کے لئے کافی ہے کہ
اقبال بڑا اپدیشک ہے من باتوں میں موہ لیتا ہے
گفتار کا یہ غازی تو بنا کردار کا غازی بن نہ سکا
اقبال نے واقعی درست فرمایا وہ لفظوں کی گھن گھرج سے تو خوب واقف تھے مگر ان کی اپنی حقیقی زندگی اس گھن گھرج سے محروم تھی اپنی پوری شاعری میں خودی کا سبق دینے والے اقبال جب 17 اکتوبر 1925ء کو گورنر پنجاب کے معاون افسر جے پی تھامسن کو مہاراجہ ہری سنگھ کے دربار میں ملازمت کے لئے درخواستی خط لکھتے ہیں توہماری نصابی کتابوں اور میڈیا پر نظر آنے والا اقبال شرم سے منہ چھپانے لگتا ہے۔ اقبال لکھتے ہیں:
’’میں آپ کو یہ خط ایک ایسی ضرورت سے لکھ رہا ہوں جس کا فوری تعلق میری اپنی ذات سے ہے اور مجھے امید ہے کہ ایسے وقت میں میری مدد فرمائیں گے جب کہ مجھے اس کی سخت ضرورت ہے۔ لاہور ہائی کورٹ میں جو جگہ خالی ہوئی تھی اس کے متعلق حکومت کے فیصلے کی خبر تو آپ کو مل چکی ہوگی۔ میری یہ بدقسمتی ہے کہ لوگوں نے مجھے اس سلسلہ میں ملوث کیا۔ مسلم پریس نے یہاں جتنا احتجاج کیا ہے یا آئندہ کرے گا‘ اس سے مجھے بہت زیادہ نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے۔ مجھے معلوم ہوا ہے کہ چیف جج کا خیال ہے کہ چند اشخاص جن میں میرا نام بھی شامل ہے اس احتجاج کی پشت پناہی کر رہے ہیں حالانکہ میرے خیال میں ان کو یہ معلوم ہونا چاہئے کہ جس قسم کی سازشوں میں مجھے ملوث کیا جا رہا ہے میرا ان سے دور کا بھی تعلق نہیں۔ بہرحال ان حالات میں میرے لئے یہاں پر ایک وکیل کی حیثیت سے کام کرنا بے حد مشکل ہو جائے گا‘ خاص کر جب کہ مجھے ماضی میں بھی کئی طریقوں سے نقصان پہنچ چکا ہے۔ اس کے علاوہ چند دیگر ناقابل اظہار اسباب کی بنا پر جن کا اس خط میں تذکرہ مناسب نہیں‘ میں اس ماحول سے قطعی بیزار ہو چکا ہوں اور دل چاہتا ہے کہ سب کچھ چھوڑ کر کہیں دور چلا جاؤں۔ مجھے یقین ہے کہ آپ کے قلم کی ایک جنبش مجھے ان تمام مشکلات سے نجات دلا سکتی ہے۔ اس وجہ سے اور آپ کی فیاضی اور ہمدردی پر یقین رکھتے ہوئے میں آپ کی سرپرستی کا خواہاں ہوں۔ کیا یہ ممکن ہے کہ آپ مجھے کشمیر کی سٹیٹ کونسل میں کوئی منصب دلوا سکیں۔ شاید آپ کو علم ہو کہ کشمیر میرا آبائی وطن ہے اور کشمیر کے لئے میرے دل میں ایک خاص لگن موجود ہے۔ یہ ممکن ہے کہ (کشمیرکا) نیا مہاراجہ (ہری سنگھ) اپنی حکومت میں کچھ تبدیلیاں لانے کی سوچ رہا ہو۔ اگر ایسا ہے تو مجھے یقین ہے کہ اس معاملہ میں سلسلہ جنبانی کرنے کا یہ بہترین موقع ہے۔ اگر آپ مجھے تھوڑا سا سہارا دے سکیں تو یہ میرے لئے روحانی اور دنیاوی طور پر ایک بہت بڑی نعمت ثابت ہوگی اور میں آپ کے اس لطف و کرم کا ہمیشہ ممنون رہوں گا۔۔۔ اگرچہ اس معاملہ میں مجھے آپ کی ذات پر مکمل اعتماد ہے لیکن میں یہ بات آپ تک پہنچانا ضروری سمجھتا ہوں کہ پالن پور کے نواب صاحب جو ہری سنگھ کے قریبی دوستوں میں سے ہیں میرے بھی دوست ہیں‘‘۔(پاکستان کی سیاسی تاریخ جلد۵، مسلم پنجاب کا سیاسی ارتقا، زاہد چوہدری، صفحہ 247,248)
اس خط کو پڑھنے کے بعد لگا یہ خیال پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ وہی اقبال ہیں جنہوں نے جاوید نامہ میں اپنے بیٹے کو یہ نصیحت فرمائی تھی کہ
ترا طریق امیری نہیں فقیری ہے
خودی نہ پیچ غریبی میں نام پیدا کر
اور مزید حیرت وہ قصیدے پڑھ کر ہوتی ہے جو انہوں نے انجمن حمائت اسلام کے سترہویں اجلاس میں لیفٹیننٹ گورنر پنجاب میکورتھ ینگ اور ڈائریکٹر ایجوکیشن ولیم بل جیسے انگریزوں کی شان میں ’’خیرمقدم‘‘ کے نام سے پڑھے۔ نمونے کے طور پر (اختصار کے لئے ) صرف ایک شعر حاضر ہے
دعا نکلتی ہے دل سے حضور شاد رہیں
رہیں جہان میں عظمت طراز تاج و سریر(1)
ایک شعر حضرت بل کی شان میں یوں فرمایا
بڑھے جہان میں قبال ان مشیروں کا
کہ ان کی ذات سراپا ہے عدل کی تصویر(2)
(1-2 باقیات اقبال، آئینہ ادب،لاہور، 1978)
پنجاب کے بدنام ترین انگریز گورنر سر مائیکل ایڈوائر کی شان میں لکھا جانے والا قصیدہ بھی پڑھنے کے لائق ہے۔ یہ وہی شخص تھا جس نے جنگ عظیم اول کے لئے زبردستی پنجاب سے جوان بھرتی کئے جس کے خلاف پنجاب کے کئی اضلاع میں کسانوں نے بلوے اور ہنگامے کئے۔ معلوم نہیں اقبال ’’پنجاب کا جواب‘‘ نامی یہ قصیدہ نما نظم لکھ کر کن مظلوموں یا کم از کم مسلمانوں کی نمائندگی کر رہے تھے۔
اے تاجدار خطہ جنت نشان ہند
روشن تجلیوں سے تری خاوران ہند
محکم ترے قلم سے نظام جہان ہند
تیغ جگر شکاف تری پاسبان ہند
ہنگامہ وغا میں میرا سر قبول ہو
اہل وفا کی نذر محقر قبول ہو
تلوار تیری دہر میں نقاد خیر و شر
بہروز‘ جنگ توز‘ جگر سوز‘ سیز در
رایت تری سپاہ کا سرمایہ ظفر
آزادہ‘ پرکشادہ‘ پری زادہ‘ یم سپر
سطوت سے تیری پختہ جہاں کا نظام ہے
ذرے کا آفتاب سے اونچا مقام ہے
وقت آ گیا کہ گرم ہو میدان کارزار
پنجاب ہے مخاطب پیغام شہریار
اہل وفا کے جوہر پنہاں ہوں آشکار
معمور ہو سپاہ سے پنہائے روزگار
تاجر کا زر ہو اور سپاہی کا زور ہو
غالب جہاں میں سطوت شاہی کا زور ہو
ہندوستاں کی تیغ ہے فتاح ہشت باب
خونخوار‘ لالہ بار‘ جگردار برق تاب
بے باک‘ تابناک‘ گہرپاک‘ بے حجاب
دلبند‘ ارجمند‘ سحرخند‘ سیم ناب
یہ تیغ دل نواز اگر بے نیام ہو
دشمن کا سر ہو اور نہ سودائے خام ہو
اخلاص بے غرض ہے‘ صداقت بھی بے غرض
خدمت بھی بے غرض ہے‘ اطاعت بھی بے غرض
عہد وفا و مہر و محبت بھی بے غرض
تخت شہنشہی سے عقیدت بھی بے غرض
لیکن خیال فطرت انساں ضرور ہے
ہندوستاں پہ لطف نمایاں ضرور ہے
جب تک چمن کے جلوہ گل پر اساس ہے
جب تک فروغ لالہ احمر لباس ہے
جب تک نسیم صبح عنا دل کو راس ہے
جب تک کلی کو قطرہ شبنم کی پیاس ہے
قائم رہے حکومت آئیں اسی طرح
دیتا رہے چکور سے شاہیں اسی طرح
(پاکستان کی سیاسی تاریخ جلد۵، مسلم پنجاب کا سیاسی ارتقا، زاہد چوہدری، صفحہ 244,242)
اقبال نے یہ نظم نواب ذوالفقار علی خان کی وساطت سے گورنر کی فرمائش پر تحریر کی تھی اور یہ وہی نواب ذوالفقار ہیں جن سے تعلق خاطر کی بنا پر اقبال کو سر کا خطاب ملا تھا۔
تاریخ بہت ظالم ہوتی ہے اسے لاکھ چھپایا جائے لیکن ایک نہ ایک دن وہ خود کو بے نقاب کرنے کا راستہ ڈھونڈ لیتی ہے اب ہم ایک ایسی بات کا تذکرہ کرنے جا رہے ہیں جو شاید بہت سے لوگوں کو (جن کاا قبال کے متعلق علم اور تصور صرف میڈیا اور نصاب کی حد تک محدود ہے) چونکا کر رکھ دے بلکہ شاید دکھ میں مبتلا کر دے مگر کیا کیا جائے تاریخ بہت ظالم ہوتی ہے اور حقائق بہت کڑوے اور تلخ۔۔۔ محض جھوٹ سننے کی خواہش سے سچ بدل نہیں جائے گا۔ تاریخ ہمیں یہ بتاتی ہے کہ حضرت علامہ اقبال تقریباً 1930ء تک احمدیت سے خاصے متاثر رہے بلکہ یہاں تک کہ آپ نے مرزا غلام احمد کی بیعت بھی کی۔ اور ان کے بڑے بیٹے آفتاب نے کئی سال تک قادیان میں تعلیم حاصل کی۔
’’خواجہ نذیر احمد اور مرزا بشیر الدین محمود کے بیان کے مطابق اقبال کے والد شیخ نور محمد نے فرقہ قادیانی کے بانی مرزا غلام احمد کی بیعت کی تھی۔۔۔ خواجہ نذیر احمد کا مزید بیان یہ ہے کہ خود علامہ اقبال نے بھی 1897ء میں گورنمنٹ کالج لاہور سے بی اے پاس کرنے کے بعد مرزا غلام احمد کی بیعت کی تھی اور وہ 1930ء تک مرزا کو مذہبی مجدد سمجھتے رہے تھے‘‘ (مسلم پنجاب کا سیاسی ارتقاء۔ پاکستان کی سیاسی تاریخ جلد نمبر5۔ زاہد چودھری(
1901ء میں انہوں نے مسلم یونیورسٹی علی گڑھ میں ایک تقریر میں یوں اظہار خیال کیا
’’پنجاب میں اسلامی سیرت کا ٹھیٹھ نمونہ اس جماعت کی شکل میں ظاہر ہوا جسے فرقہ قادیانی کہتے ہیں‘‘۔
لیکن 1930ء کے بعد علامہ کے خیالات میں تبدیلی واقع ہونا شروع ہو گئی تھی گویہ تبدیلی مذہبی سے زیادہ سیاسی تھی اور اس کے پس منظر میں ایک تو احرار کی طرف سے اٹھنے والا مخالفت کا طوفان تھا اور دوسری طرف سر ظفر اللہ خان (قادیانی) سے سیاسی مفاد کا ٹکراؤ۔۔ حالانکہ مرزا صاحب نے تو 1901ء میں ہی اپنے ظنی نبی ہونے کا دعویٰ کر دیا تھا۔ تو اقبال کو اپنے خیالات بدلنے میں تیس برس کا عرصہ کیوں لگا؟ اس کا ایک جواب خواجہ نذیر احمد دیتے ہیں ’’1931ء میں مرزابشیرالدین محمود سے اختلاف پیدا ہونے کے بعد جب ڈاکٹر اقبال نے احمدیوں کے خلاف کتاب لکھی تو میرے والد خواجہ کمال الدین نے اس سے پوچھا کہ ’’اویار تیری بیعت دا کی ہویا‘‘۔ اس پر علامہ کا جواب یہ تھا کہ ’’اوہ ویلا ہور سی ایہہ ویلا ہور اے‘‘
علامہ اقبال نے مرزا صاحب کے دعویٰ نبوت کے تقریباً 33 سال بعد ایک طویل مضمون میں قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کا مطالبہ کیا۔ یہ جولائی 1934ء کا ذکر ہے جب وزیر ہند لارڈ زئلینڈ نے سر ظفر اللہ خان (پاکستان کے پہلے وزیر خارجہ) کی کارکردگی سے متاثر ہو کر انہیں سر فضل حسین کی جگہ وائسرے کی ایگزیکٹو کونسل کی مستقل رکنیت کی پیشکش کی۔ چونکہ اقبال خود اس نشست کے امیدوار تھے لہذا معترضین کو یہ کہنے کا موقع ملا کہ اس موقع پر قادیانیوں کی مخالفت مذہبی بنیاد پر نہیں بلکہ سیاسی مفاد کی وجہ سے تھی۔ اور اس مضمون کا مطلب یہی نکلتا تھا کہ ظفر اللہ خان مسلمانوں کا نمائندہ نہیں ہے۔ (حوالہ کے لئے ’’مسلم پنجاب کا سیاسی ارتقاء۔ ص 272-73)
میڈیا سے ایک بات کا تواتر سے (پراپیگنڈے کی حد تک) ذکر کیا جاتا ہے کہ علامہ تصور پاکستان کے خالق تھے۔ اس بات کا جواب ہمیں علامہ کے اس خط سے باآسانی مل جاتا ہے جو انہوں نے 4 مارچ 1934ء کو ای جے تھامپسن کے نام لکھا جس میں انہوں نے شدت سے چودھری رحمت علی کی ’’پاکستان سکیم‘‘ سے لاتعلقی بلکہ برات کا اظہار کیا۔ لکھتے ہیں
’’مائی ڈیر مسٹر تھامپسن۱
مجھے اپنی کتاب پر آپ کا ریویو ابھی ابھی موصول ہوا ہے۔ یہ بہت عمدہ ہے اور میں ان باتوں کے لئے آپ کا بہت ممنون ہوں جو آپ نے اس میں میرے متعلق بیان کی ہیں۔ لیکن آپ نے ایک غلطی کی ہے جس کی میں فوری نشاندہی کرنا ضروری سمجھتا ہوں کیونکہ یہ ایک فاش غلطی ہے۔ آپ نے میرے بارے میں کہا ہے کہ میں اس سکیم کا حامی ہوں جسے ’’پاکستان‘‘ کہا جاتا ہے۔ جبکہ پاکستان میری سکیم نہیں ہے۔ میں نے اپنے خطبے میں جو تجویز پیش کی تھی وہ ایک مسلم صوبہ کے بارے میں تھی جو شمالی مغربی ہندوستان کے مسلم اکثریتی آبادی پر مشتمل تھا۔ میری سکیم کے مطابق یہ نیا صوبہ مجوزہ انڈین فیڈریشن کاحصہ ہوگا۔ پاکستان سکیم میں مسلم صوبوں پر مشتمل ایک علیحدہ فیڈریشن کا قیام تجویز کیا گیا ہے جو ایک علیحدہ ڈومینین کی حیثیت سے انگلستان کے ساتھ براہ راست تعلق رکھے گی۔ اس سکیم نے کیمبرج میں جنم لیا ہے۔ اس سکیم کے مصنفین کا خیال ہے کہ ہم جو گول میز کانفرنس کے مندوبین ہیں‘ ہم نے مسلم قوم کو ہندوؤں یا نام نہاد انڈین نیشنلزم کی قربان گاہ پر بھینٹ چڑھا دیا ہے۔
خیراندیش محمد اقبال
(پاکستان کی سیاسی تاریخ جلد۵، مسلم پنجاب کا سیاسی ارتقا، زاہد چوہدری، صفحہ 418,261 )
دلچسپ بات یہ ہے کہ علامہ پاکستان سکیم کی مخالفت 1934ء میں کر رہے ہیں اور وہ بھی انتہائی شدت سے جبکہ ان وہ مشہور و معروف خطبہ الہٰ باد جس سے تصور پاکستان اخذ کیا جاتا ہے وہ انہوں نے 1930ء میں یعنی 4 سال پہلے دیا تھا۔
ناطقہ سربگریباں ہے اسے کیا کہئے
اس خط سے تو صاف ظاہر ہے کہ علامہ ایک متحدہ ہندوستان کے دائرے میں رہتے ہوئے مسلمانان ہند کو زیادہ سے زیادہ خودمختاری دلوانے کے خواہش مند تھے۔ اور اس خودمختاری کے عوض متحدہ ہندوستان کے دفاع کی ذمہ داری بھی مسلمانوں کے کاندھوں میں ڈال دیتے ہیں۔ وہ انگریز اور ہندو کو بتاتے ہیں کہ اسی خودمختاری کے نتیجے میں انہیں پنجاب سرحد اور بلوچستان سے ہندوستان کی کل فوج کا 62 فیصد سے زیادہ حصہ مسلم فوج کی صورت میں دستیاب ہوگا جو تمام ہندوستان کو غیرممالک کی چیرہ دستیوں سے محفوظ رکھ سکے گا۔ مزید یہ کہ وہ ہندوؤں اور انگریزوں کو یہ یقین دہانی بھی کرواتے ہیں کہ مسلمانوں کی ریاستوں میں شرح سودپر کوئی پابندی نہیں ہوگی۔ کیونکہ ’’مسلم دور حکومت میں ہندوستانی مسلم ریاستوں نے شرح سود پر کوئی پابندیاں نہیں لگائیں‘‘ اقبال کا تصور پاکستان مزید ان جملوں سے واضح ہوتا ہے کہ ’’میرے نزدیک سب سے بہتر صورت یہ ہوتی کہ صرف برطانوی ہندوستان کے علاقوں پر مشتمل وفاق قائم کر کے ابتدا کی جاتی...... مسلمانوں کو اس وقت تک فائدہ نہیں ہو سکتا کہ جب تک انہیں ہندوستان کے گیارہ صوبوں میں سے پانچ میں تمام اختیارات مالبقی کے ساتھ اکثریت کے حقوق حاصل نہ ہوں اور وفاقی مجلس قانون ساز میں انھیں 33 فیصد نشستیں نہ ملیں...... ہمارا مطالبہ یہ ہونا چاہئے کہ ان مسلم ریاستوں کے علاوہ جو فیڈریشن میں شریک ہوں‘ ہمیں آل انڈل فیڈرل اسمبلی میں 33 فیصد نشستیں حاصل ہوں۔
آپ خطبہ الہٰ باد پورے کا پورا پڑھ لیجئے مجال ہے جو آپ کو آزاد اور خودمختار پاکستان کے حوالے سے ایک جملہ بھی دستیاب ہو جائے۔ مگر ہمارا یہ گلہ علامہ سے نہیں ہے بلکہ ان لوگوں سے ہے جو تسلسل کے ساتھ علامہ کا ایک غیر حقیقی اور خلاف تاریخ امیج بنانے اور قوم کو منوانے پر مصر ہیں۔
علامہ کے بارے ایک اور بات کہی جاتی ہے کہ ان کے دل میں پوری مسلم امہ کا درد تھا۔ وہ پان اسلام ازم کے حامی تھے اسی لئے انہوں ’’سارے جہاں سے اچھا ہندوستاں ہمارا‘‘ جیسی شاعری سے انکار کر کے وطن کو بت قرار دے دیا تھا اور مسلمانوں کی اجتمائیت کے متعلق اس خواہش کا اظہار فرمایا
ایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کے لئے
نیل کے ساحل سے لیکر تابخاک کا شغر
لیکن جب ہم مسلمانوں کے اتحاد کی اس قدر شدید خواہش رکھنے والے شاعر کو سیاست کے محاذ پر یہ کہتے سنتے ہیں کہ متحدہ ہندوستان مسلمان بیرونی مسلمان حملہ آوروں سے بھی حفاظت کریں گے پان اسلام ازم کا تصور اور خواہش بغلیں جھانکنے لگتی ہے۔ اپنے خطبہ الہٰ باد میں کہتے ہیں
’’مجھے یقین ہے کہ وفاقی حکومت کے قیام کی صورت میں مسلم وفاقی ریاستیں ہندوستان کے دفاع کی خاطر غیرجانبدار بری اور بحری فوجوں کو قائم کرنے پر بخوشی رضامند ہو جائیں گی...... مجھے کامل یقین ہے کہ ہندوستان کے وفاق پر مبنی ایک غیرجانبدار ہندوستانی فوج کے قیام سے مسلمانوں کی حب الوطنی میں اضافہ ہوگا اور اس سے اس بدگمانی کا بھی ازالہ ہو جائے گا کہ بیرونی حملہ کی صورت میں مسلمان‘ حملہ آور مسلمانوں کے ساتھ مل جائیں گے‘‘
اس تمام خطبے سے ایک بات عیاں ہے کہ علامہ کے ذہن میں ایک کلی طور پر آزاد اور خودمختار پاکستان کا کوئی تصور نہیں تھا بلکہ ان کی خواش محض اتنی تھی کہ مسلمانوں کو ہندوستانی وفاق میں رہتے ہوئے اپنے ذاتی معاملات طے کرنے کی آزادی دیدی جائے اور آل انڈیا وفاقی اسمبلی میں 33 فیصد نشستیں الاٹ کر دی جائیں۔ جہاں تک فوج کا تعلق ہے وہ وفاق کی ہوگی اور مسلم ریاستیں ہندوستان کا اس حد تک دفاع کرنے پر رضا و رغبت تیار ہونگی کہ اگر حملہ آور مسلمان ہونگے تو ان سے لڑنے اور انہیں شکست دینے سے گریز نہیں کریں گی۔ اب آپ ہی بتایئے کہ اس خطبے میں سے اقبال کا ’’موجودہ تصور پاکستان‘‘ کس طرح سے دریافت کیا جائے یا ان کا پان اسلام ازم ڈھونڈا جائے۔ کہنے کو تو اور بھی بہت کچھ ہے کہ ایسی باتوں سے تاریخ بھری پڑی ہے۔ مگر کیا کریں ہم جھوٹ کے اسقدر عادی ہو چکے ہیں کہ سچ ہماری سماعت میں خراشیں ڈال دیتا ہے اور ہم شدت درد سے چیخنے اور چلانے لگتے ہیں۔ اور ویسے بھی ایسا سچ لکھنے سے کئی لوگوں کے مفادات خطرے میں پڑ جاتے ہیں۔
آخر میں یہی عرض کروں گا کہ یہ اقبال کا قصور نہیں کہ وہ ایسے کیوں تھے بلکہ یہ ہمارے مفادپرست طبقوں کا قصور ہے کہ انہوں نے اقبال کو وہ کیوں بنا دیا جو وہ نہیں تھے۔ ہمارے لئے بہتر یہی ہوگا کہ ہم اپنے مفاد کے لئے انسانوں اور لیڈروں کو پیغمبر بنانا چھوڑ دیں ورنہ ایک وقت ایسا آئے گا کہ ہمارا انسانوں سے اعتماد اٹھ جائے گا۔
***

8 تبصرے:

گمنام کہا...

بہت عمدہ۔ چشم کشا۔ لیکن واقعات کے حوالے بھی مل جاتے تو ہم ان کو آگے بھی استعمال کرنے کے قاپل ہوسکتے

Hammad Hussain کہا...

جہاں تک جهوٹ کی بات ہے دس سال سے میں امارات میں مختلف خطے کے لوگوں کے ساته کام کر رہا ہوں
دس سال میں مین نے دیکها ہے سب سے سب سے زیادہ جهوٹ مسلمان بولتے ہیں اور مسلمانوں میں پاکستانی مسلمان سب سے سر فہرست ہیں. میں کبهی اپنے انڈین ہندو کرسچن کولیگز سے مزاق میں بهی جهوٹ بولوں تو وہ فوری یقین کر لیتے ہین. اور یہ واقعی حقیقت ہے جب تک ہم اپنی روزمرہ کی زندگی میں دانستہ نادانستہ جهوٹ شامل نہ کریں کهانا ہضم نہیں ہوتا.

Naeem Subhani کہا...

تصنیف سید صاحبہ آپ نے یہ کوئی انصاف والی بات نہیں کی. آپ کو اور کوئی کتاب نہیں ملی تھی اقبال صاحب پر جو آپ نے
یہ تصدیق کے بجائے من و عن ڈال دی. اقبال صاحب کی شاعری ان کی شخصیت کا منہ بولتا ثبوت ہے.چند لوگ سید ابراہیم جیسے جو ان کی خوشبو کو بھی نہیں پہنچ سکتے ، وہ پھر اپنی بےبسی کا اظہار اس نفرت بھرے انداز میں کرتے ہیں. لیکن حیرت تو آپ پر ہے جو آپ نے اس نفرت کو پھیلانے میں اس کی مدد کی .

kha pohegam کہا...

بۃت عمدہ تحریر

راحیل فاروق کہا...

بلاشبہ اقبالؒ یہی تھے۔ نہ کم نہ زیادہ۔ اور میری سمجھ میں نہیں آتا کہ اس رنگ میں ان کی عظمت کیونکر گھٹ سکتی ہے جو ہم ان پر اپنے تخیلات کے لبادے چڑھانے کی ضرورت پیش کریں۔

مشفقی سعید ابراہیم کی خدمت میں آداب۔ اوپر کسی نے لکھا ہے کہ حوالے ہونے چاہئیے تھے۔ گو سعدی صاحب نے اکثر جگہ پر اس کا اہتمام کیا ہے مگر اچھا ہوتا کہ جو چند جگہیں چھوٹ گئی ہیں اتمامِ حجت کے لیے ان کے حوالہ جات بھی مذکور ہوتے۔

شعیب کیانی کہا...

بہت عمدہ مضمون۔
دلائل اور حوالہ جات کے ساتھ ایک مدلل تنقید۔
ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہم اپنی تاریخی شخصیات کو فوق البشر کوئی چیز بنا دیتے ہیں جس سے غلطی ہو ہی نہیں سکتی حالانکہ ہر شخص تضادات کا مرکب ہے۔

Abdul Majid کہا...

میرا خیال ہے کہ علامہ صاحب نے افلاطونی غار سے نکل کر دیکھنے زحمت ہی گوارا نہیں کی اور یہی سمجھتے رہے کہ ہم اگر خود نہ کرسکیں تو فرشتوں کے ذریعے دنیا فتح کر سکتے ہیں ۔ان کی تعلیمات کو عملی شکل دینے کے لئے ہم برسوں سے کوشاں ہیں جس کا ثبوت ہم نے کئی جنگوں میں فراہم کیا اور پینسٹھ کی جنگ میں تو ہمارے اخبارات نے اس کی پرزور تائید کی ۔

Mian Subhani کہا...

So informative. Thanks for this effort

رابطہ فارم

نام

ای میل *

پیغام *