پیر، 15 اکتوبر، 2018

میرا آخری اردو مضمون / تصنیف حیدر

یہ میرا اردو زبان میں آخری مضمون ہے۔آخری اس لیے کیونکہ اب میں اس زبان میں کچھ بھی لکھنے پر خود کو آمادہ نہیں پاتا ہوں۔میری آنکھ جن کتابوں کے درمیان کھلی تھی وہ زیادہ تر اردو کی تھیں۔میں نے جس سکول میں داخلہ لیا وہ اردو کا تھا اور جن لوگوں سے ابتدا میں ملنا جلنا رہا وہ اردو بولنے والے معاشرے کا حصہ تھے۔اس لیے یہ زبان میرے لہو میں ایسی رچ بس گئی کہ مجھے اس سے بہتر اپنے اظہار کا وسیلہ اور کوئی نہ مل سکا۔مگر میں اب اردو شاعری اور ادب دونوں سے قریب قریب اکتاچکا ہوں۔(فکشن کی بات الگ ہے کہ وہ کسی بھی زبان کا ہو، اس کا میرا ساتھ زندگی کے آخری لمحے تک رہے گا)۔آپ اس مضمون کو میرا خودکشی نامہ بھی کہہ سکتے ہیں۔میں اسباب پر گفتگو نہیں کرنا چاہتا کیونکہ وہ اتنے لجلجے اور گندے ہیں کہ اب ان کی طرف دیکھنے سے بھی مجھے گھن آتی ہے۔ہاں مگر کبھی کبھی سوچتا ہوں کہ اردو زبان اور اس کے بولنے والوں کا ایک تنگ دائرہ روزی روٹی کی عجیب سی ہوڑ میں پھنسا ہوا ہے۔میں نے بارہا یہ بات کہی ہے اور اپنے اس آخری مضمون میں ہندوستان میں رہنے والے اردو داں افراد سے بھی یہی بات کہوں گا کہ انہیں اپنے بچوں کو اس زبان سے نابلد ہی رکھنا چاہیے۔کلدیپ نیر نے اپنی سوانح میں لکھا ہے کہ حسرت موہانی نے انہیں تقسیم کے فورا بعد یہی مشورہ دیا تھا کہ اردو میں نہ لکھو۔ہندوستان میں اردو لکھنے والے کسی جمعہ اخبار میں شائع ہونے والے ضمیمہ کے پھٹے حال مضمون نگارسے زیادہ اور کچھ نہیں بن سکتے اور ان کی اتنی اوقات نہیں ہے کہ یہ خالد جاوید، صدیق عالم اور ذکیہ مشہدی کو بار بار پیدا کرسکیں۔بار بار تو چھوڑیے۔میں دعویٰ کرتا ہوں کہ اگر آپ مجھے بیس سے تیس سال کی عمر میں ہندوستان کا کوئی ایسا اہم نام بتادیں جو تخلیقی نثر پر دسترس رکھتا ہو تو میں ردی کے بھائو آپ کے ہاتھوں بکنے کو تیار ہوجائوں گا۔یونیورسٹیاں اور ان میں موجود اردو کے شعبوں کو دیکھ کر تو مجھے الٹی آتی ہے۔وہاں مدرسوں سے نکلنے والے قیٹ دماغ لوگ ٹھسے سے کرسیوں پر بیٹھے ہیں، وہ جن امتحانوں کو پاس کرکے یہاں تک پہنچتے ہیں ، ان کی کوئی تک ہی نہیں ہے۔یہ بے دماغ لوگ پروفیسر ہیں اور پروفیسر ہی ہوسکتے ہیں، جو کسی دوسری زبان میں لفظوں کے صحیح تلفظ تک سے واقف نہیں ہوتے۔میں نے جب ریختہ چھوڑا تھا تو سوال کیا تھا کہ آخر اردو بولنے والوں کی تنخواہ انگریزی بولنے والوں کی تنخواہ سے آدھی سے بھی کم کیونکر ہوتی ہے۔مگر وہ احتجاج بے وقوفی پر مبنی تھا، اردو والے اسی لائق ہیں۔ان کے یہاں علم کی تلاش، زیرکی اور دوسری زبانوں کے ادب سے واقف ہونے کا عنصر نہ ہونے کے برابر ہے۔میرا یقین نہ ہو تو کبھی کسی ادبی قسم کے 'سیمینار' یا 'سمپوزیم' میں تشریف لے جائیے۔پھر میں سوچتا ہوں کہ ہر زبان اور اس کے بولنے والے کسی نہ کسی طور پرایسے لوگوں کو ضرورdeserveکرتے ہیں جن سے دنیا میں ان کی بہترین نمائندگی ہو۔مگر اردو اس معاملے میں بھی قلیل دماغ لوگوں کی محتاج ہے جو عالمی اردو کانفرنس یا قطر، دبئی، لندن یا امریکہ میں ہونے والے مشاعروں کے آگے زبان نکالے گھومتے ہیں۔اردو کا کوئی بھی ادیب ، ادب کو لے کر اتنا کمیٹڈ ہے ہی نہیں کہ اس کے لیے کسی قسم کی قربانی دے سکے۔یہ اخباروں کا ادب لکھنے والے لوگ ہیں جو اتفاق سے رسالوں میں چھپنے لگے ہیں۔
اردو اب ان لوگوں کی زبان ہے جو ظاہری طور پر اپنے سفید کالروں پر لکھی گئی عبارت دنیا کو دکھاتے پھرتے ہیں اور اسی سفید کالر کے ساتھ دوسروں کی ذات (حتیٰ کہ مردہ افراد)پرکیچڑ اچھالنے کو اپنا پیدائشی حق سمجھتے ہیں۔یہ اپنے اپنے مسلکوں اور اپنے اپنے مفادات کی حفاظت کرنے والے لوگوں کی زبان ہے۔یہ ان لوگوں کی زبان ہے، جو لڑکیوں کو تنہائی میں ننگے، فحش اور گھٹیا پیغامات بھیجنے سے نہیں چوکتے، انہیں اپنے دل کے سطحی جذبات کچی پکی نظموں اور غزلوں کے لفافے میں قید کرکے بھیجتے ہیں اور مجھ جیسے لوگوں کی عریانیت پسندی پر کھلے دل سے معترض ہوتے ہیں اور مجھے توبہ کی طرف راغب کرنا اپنا فرض منصبی سمجھتے ہیں۔کسی مشہور ہالی ووڈ فلم میں ایک کمال کا جملہ سنا تھا۔'آپ کبھی کسی شخص کو نہیں جان سکتے، جب تک اس سے آپ کی لڑائی نہ ہوئی ہو۔'اس بات کی صداقت ایسے ظاہر ہوئی کہ میں نے جب بھی کسی شخص سے اپنی مرضی سے فاصلہ بنایا(لڑائی تو خیر مجھ سے ممکن نہیں)اس نے گندی اور گھنونی سازشوں کا ایک ڈھیر لگادیا۔میں نے یہاں یہ بھی کرشمے دیکھے کہ ایک دوسرے کو پیٹھ پیچھے نہایت غلیظ زبان میں برا بھلا بکنے والے لوگ، کیسے ضرورت پڑنے پر ایک دوسرے کو 'بھائی جان!' ، 'حضور والا' اور 'سرکارورکار' کہہ کر مخاطب کرتے نظر آئے۔یہ کہانیاں لکھنے والے، شاعری کرنے والے اور عالمی ادب کی بن دیکھی واہ واہ کرنے والے اصل میں اندر سے اتنے خالی ہیں کہ ان کے اندر توادب کی ہلکی سی گرم ہوا تک کا گزر نہیں، بس پیدائش سے اب تک ایک قسم کا ہرا پانی ہے، جو وقت کے ساتھ ساتھ سڑتا جارہا ہے۔
ذکر اگر شاعری کا ہوتو سوچ کر دیکھیے کہ اس زبان میں کس قسم کی شاعری ہورہی ہے۔یہاں لوگ غزل کہتے ہیں، اس کی بنیاد پر اپنی پہچان بناتے ہیں۔ٹچے اور چھچھورے قسم کے غزل گو شعرا کو جانے بھی دیجیے اور بڑے 'ادیبوں ' کو ہی دیکھیے تب بھی محسوس ہوتا ہے کہ ایک جامد قاموس سے نکلنے والی متواتر ایک ہی قسم کی لفظیات اور مضامین والی غزلیں ان لوگوں کی نہیں بلکہ ان کی نسلوں کی شناخت بن چکی ہیں۔یہ شاعری کے نام پر صدیوں سے لوگوں کو وہ بنا رہے ہیں، جو سڑک پر بنتے ہوئے انہی کو شرم آئے گی۔پھر ایسی شاعری کوئی کیوں اور کہاں تک پڑھے، جو اپنی طوالت میں شیطان کی آنت ہو اور اپنے تقدس میں خدا کا کلمہ۔بس اندھےبوروں کی طرح اس پر سر دھنتے رہیے تو ٹھیک وگرنہ سب بے کار۔
میری عمر بتیس سال ہے اور بتیس سال کی عمر تک اس بات کا اندازہ ہوجانا اتنا بھی برا نہیں کہ اردو ادب ، زیادہ تر شاعری سے عبارت ہے اور شاعری زیادہ تر بے وقوفی سے۔میں لوگوں کو اردو نہ پڑھنے کی تلقین کروں گا اور یہ بھی کہوں گا کہ وہ اگر اب اردو کا بھلا(کم از کم ہندوستان میں)چاہتے ہیں تودیوناگری رسم الخط کو زیادہ سے زیادہ عام کریں اور اسی میں لکھا اور پڑھا کریں۔تنو مند گوشت خور داڑھی والے ملائوں کو لات مار کر ایک دفعہ عقل سے کام لیجیے تو معلوم ہوگا کہ دیوناگری میں لکھنے سے آئندہ نسلوں کی دال روٹی کا بہتر انتظام ہوسکتا ہے۔بتیس سال کی عمر اس لحاظ سے بھی اتنی بری نہیں کہ انسان کسی دوسری زبان کی طرف دھیرے دھیرے ہی سہی ، بڑھ جائے۔وقت لگ سکتا ہے، خموشی کی بساط زیادہ لمبی اور توقف کی کھائی زیادہ گہری ہوسکتی ہے،مگر اب میں جس زبان کے قالب میں نظر آئوں گا وہ معاشی طور پر اتنی پست اور ذہنی طور پر اتنی پسماندہ نہیں ہوگی۔
ادبی دنیا یوٹیوب چینل پر کہانیوں کا سلسلہ جاری رہے گا۔مگر اگلے سال تک کچھ لوگوں کے لیے ہوئے پراجیکٹس مکمل کرنے کے بعد ممکن ہے کہ وہ بھی بند ہوجائے۔میں ادب کی دنیا سے ایک قاری کی حد تک شاید ہی کبھی غائب ہوسکوں مگر اب فلسفیانہ قسم کی ادبی تحریریں اور عاشقانہ قسم کی مجنونانہ شاعری رات کو اکثر ایک برے خواب کی طرح میری دیوار پر وحشت آمیز رقص کرتے دکھائی دیتے ہیں۔اگر ان سے چھٹکارا حاصل نہ کیا تو میری ذہنی حالت کے نہایت بگڑ جانے کا اندیشہ ہے اور میں ایک ذمہ دار گھریلوشخص کے طور پر یہ خطرہ مول لینے کے حق میں نہیں ہوں۔
مجھے اردو والوں سے کوئی شکایت نہیں۔انہوں نے بلراج مین را سے لے کر محمد سلیم الرحمٰن جیسے اہم ترین لکھنے والوں کی قدر نہیں سمجھی ۔میں تو خیر ایک نہایت حقیر ذرہ ہوں۔مگر اس بات کو سمجھنے کے لیے مجھے اسی برس کی لمبی قید کی ضرورت نہیں ہے۔میں اس بات سے دل برداشتہ تھا کہ کچھ لوگوں نے مجھ پر الزامات لگا کر مجھے بدنام کرنے کی کوشش کی۔مگر پھر میں نے سوچا کہ ہر زبان کے لکھنے والوں کے ضبط و تحمل اور ان کو نمایاں کرنے کے اپنے طریقے ہوتے ہیں۔یہاں لوگ اپنی مٹھیوں میں اپنی دل شکنیوں کو پانسے کے معدوم اعداد کی طرح چھپائے رکھتے ہیں کہ موقع ملتے ہی سانپ کی طرح کسی پر چھوڑیں گے اور اچھل اچھل کر تماشا دیکھیں گے۔میں اس تہذیب کے نمایاں ہوتے ہی بہت دنوں تک کسی ٹروما کی کیفیت میں رہا، عجیب بات یہ ہے کہ اس سے کچھ قبل ہی میرے اندر کا لکھاری اور شاعر دونوں تصنیف حیدر دم توڑتے جارہے تھے۔یہ آخری وار تھا اور نہایت کارگر ، چنانچہ ان تمام لوگوں کو اس بات کی مبارکباد ضرورملنی چاہیے کہ وہ اپنے کام میں یقینی طور پر سو فی صدی کامیاب رہے ہیں۔
میرے فیس بک پیج پر اردو لکھنے اور جاننے والوں کی تعداد کم سے کم ہوگئی ہے۔سید کاشف رضا اور واجد علی سید سے میں کتابوں کے بارے میں جانتا ہوں اس لیے وہ دونوں میرے پسندیدہ افراد ہیں۔رامش میری دوست ہے اور وجاہت مسعود اور محمد شعیب میرے وہ محسن ہیں ، جن کی وجہ سے میں اپنے پیغامات ، الفاظ کے میووں میں ملا کر آپ تک پہنچاتا آیا ہوں۔رمشٰی اشرف، کومل راجہ اور شامل شمس کی شخصیات اپنے طرز زندگی، خیالات اور تفکر کی وجہ سے مجھے بے انتہا پسند ہیں اور صبا حسین کے بغیر تو زندگی کا تصور ہی ممکن ہی نہیں ہے۔ چنانچہ ان کے علاوہ اگر باقی افراد مجھ سے یا میں ان سے دور ہوجائوں تو ایسا کوئی مضائقہ نہیں۔
اپناخیال رکھیں اور خوش رہیں، آباد رہیں۔
٭٭٭

منگل، 11 ستمبر، 2018

گیارہ سو لفظوں کی روداد/ تصنیف حیدر


ہم لوگ بھی عجیب لوگ ہیں، خاموش زندگی ایک کونے میں گزار رہے ہوتے ہیں اور اچانک ایک جھکڑ کہیں سے آتا ہے اور معلوم ہوتا ہے کہ کوئی آدمی ہماری مخالفت پر کمر بستہ ہے۔ ادھر سنا ہے کہ مبشر علی زیدی (وہی جو سو لفظوں کی کہانیاں لکھتے ہیں)سو لفظوں کا ہنٹر لےکر میری پیٹھ پر سواری کرتے نظر آئے ہیں۔ ان کی وال ان دنوں پچاس ہزار کے صدمے سے چور چور ہے۔کوئی انہیں دلاسہ دے رہا ہے، کوئی کہہ رہا ہے کہ بھول جائو۔ان میں کچھ ایسے لوگ بھی ہیں جو میری فیس بک وال پر بھی موجود ہیں اور مجھ سے یہ پوچھنے کی زحمت بھی گوارا نہیں کررہے کہ میاں تصنیف ! معاملہ کیا ہے۔جو لوگ مجھے جانتے ہیں، وہ اچھی طرح سمجھتے ہیں کہ میری زندگی ایک ننگا سچ ہے۔میں جتنی خوبی سے اپنی اچھائیوں کو تسلیم کرتا ہوں، اتنی ہی بے غیرتی سے اپنی برائیوں کو مان لینے میں کوئی برائی نہیں سمجھتا۔تو سب سے پہلی بات کہ کیا مبشر علی زیدی کے پچاس ہزار روپے میری وجہ سے ڈوبے؟ تو جوا ب یہ ہے کہ ہاں ایسا ہوا ہے اور اس بات کا جتنا مجھے افسوس ہے، اتنا شاید ہی کسی کو ہو۔
لیکن حیرت بس اس بات پر ہے کہ چار سال بعد اچانک یہ زخم کیوں تازہ ہوا۔میں دونوں قسم کے معاملات پر بات کروں گا، مگر نام لینے سے گریز کروں گا کہ اب میں وہ چار سال پرانا تصنیف نہیں ہوں، جو ادھر ادھر لڑتا بھڑتا پھرے۔ مبشر کا کہنا ہے، بقول میرے کچھ دوستوں کے کہ میں نے ان سے لچے طریقے سے بات کی۔ اول تو کی نہیں اور دوم یہ کہ اگر کی بھی تو صرف اتنی کہ انہوں نے کسی کا نام لے کر کہا کہ فلاں شخص نے انہیں 'چونا' لگایا ہے اور میں نے بھی انہیں 'چونا 'لگادیا۔ میں نے کہا کہ بھائی، آپ ادیب ہیں، یہ چونا وونا والی زبان نہ استعمال کیجیے۔ اب سنیے معاملہ شروعات سے، تاکہ جو بات آپ کو مبشر نے نہیں بتائی، جو سچ وہ اپنی کسی مصلحت کی بنیاد پر چھپا لے گئے، اسے بھی جان لیجیے۔
اس چھیچھا لیدر کے پیچھے جو کہ حضرت نے مچا رکھی ہے۔میری اتنی بے وقوفی ضرور ہے کہ اس زمانے میں میں نے اپنے ایک دوست کے بھروسے پر یہ ارادہ کیا کہ پاکستان کے ادیبوں کی کتابیں ہندوستان میں دیوناگری میں شائع کرائی جائیں اور اچھے ادب کو ان تک پہنچایا جائے۔ مبشر کی تحریر مجھے پسند آتی تھی۔(اب نہیں آتی، اور اس کی وجہ یہ نہیں کہ وہ میری مخالفت پر کمربستہ ہیں، بس جب سے میں سو لفظوں سے آگے بڑھا ہوں، سمجھ میں آیا ہے کہ لکھنے کے لیے تھوڑا بہت پڑھا لکھا ہونا ضروری ہے۔)خیرمیں نے اس سلسلے میں تین ادیبوں سے رابطہ کیا، جن میں سے دو کے نام میں نہیں بتائوں گا کیونکہ وہ اس معاملے میں کہیں موجود نہیں ہیں، انہیں میں مبشر بھی تھے۔ان کی مجھ سے ان دنوں فون پر اور فیس بک میسجز پر بات ہوتی تھی۔میں نے انہیں وہ رقم بتائی جو کہ میرے دوست نے مجھے بتائی تھی۔مبشر نے ہامی بھری اور رقم مجھے ایک دوسرے ادیب کے ہاتھ ڈالر کی شکل میں بھیج دی جو کہ ان دنوں ہندوستان آئےتھے۔ہم نے کروفر سے تیاریاں شروع کیں۔ 'کتاب شناسی' کا پروگرام تیار کیا گیا، موجودہ رقم میں سے جو فائدہ مجھے ہونے والا تھا، اس کی ایک اچھی خاصی رقم پروگرام پر خرچ کی اور اپنے وقت کے بہترین ادیبوں کو ان کتابوں کے اجرا کے موقع پر بلوایا گیا۔ اب چونکہ جن حضرت کو میں نے یہ کام دلوایا تھا، انہوں نے ایک کے علاوہ دوسری کتابیں شائع نہیں کی تھیں، تو وہ کہنے لگے کہ پروگرام کی تاریخ تو نہیں ٹالی جاسکتی۔آپ مسودہ دے کر ادیبوں سے بات کروالیں اور پھر اگلے ہی ہفتے کتابیں شائع ہوجائیں گی۔میں نے ان پر ویسا ہی اندھا یقین کرتا تھا، جیسا کہ میری ایک ادیب دوست مبشر پر کرتی ہیں کہ مبشر سب کچھ کرسکتے ہیں، مگر جھوٹ نہیں بول سکتے۔
پروگرام کے دوران کسی بات پر میرے چھوٹے بھائی سے پبلشر صاحب کی تو تو میں میں ہوگئی۔میں نے ہرچند معاملے کو رفع دفع کرنا چاہا۔اپنے چھوٹے بھائی کو ڈانٹا ڈپٹا اور پورے معاملے میں پبلشر صاحب کی ہی پچھ لیتا رہا۔(اس کے گواہ اس وقت وہاں موجو د کچھ لوگ بھی ہیں)مگر پبلشر صاحب ہتھے سے اکھڑ چکے تھے، انہوں نے یہ طے کرلیا کہ اب جو کچھ ہوجائے وہ میرا نام بدنام کرکے ہی رہیں گے اور یہ بھی نہ سوچا کہ تمام لوگوں سے میں نے بات کی تھی، اس لیے نام میرا اچھالا جائے گا۔سارا یقین تار تار کرکے حضرت نے نہ وہ کتابیں چھاپیں اور جو چھپ گئی تھیں، وہ مجھے دینے سے بھی انکار کردیا تاکہ میں ہر طرف سے پریشان و رسوا ہوتا رہوں۔اس دوران مبشر مجھ سے کتابوں کے بارے میں پوچھتے تو مجھے مجبورا کوئی بہانہ کرنا پڑتا۔تب تک میں سوچتا تھا کہ میں کسی طرح اپنے دوست کو اس کے وعدوں کا یقین دلاکر سمجھا بجھا لوں گا ،مگر بات بنی نہیں۔اور جب انہوں نے میرا فون ریسیو کرنا بھی بند کردیا تو میں نے اپنے ایک دوست سے کہا کہ ان سے کہیے کہ کم از کم مجھے پیسے ہی لوٹا دیں تاکہ میں وہ کتابیں چھاپ کر ان لوگوں کو بھیج تو سکوں جنہوں نے مجھ پر بھروسہ کرکے رقم دی ہے۔مگر حضرت نے ان سے صاف کہہ دیا کہ انہیں تو کوئی رقم ملی ہی نہیں۔اتنے صاف جھوٹ کے بعد پھر میں نے پبلشر صاحب سے کوئی رابطہ نہیں کیا اور نہ کوشش کی۔تب تک مبشر مجھ سے مطالبہ کرنا چھوڑ کر مجھے فیس بک سے ان فرینڈ اور بلاک کرچکے تھے۔میری ان سے کوئی بات نہیں ہوسکی۔مگر جب بھی کسی شخص نے جو ان کا اور میرا مشترکہ دوست تھا، اس حوالے سے پوچھا تو میں نے یہی کہا کہ ہاں غلطی میری ہے اور ان کا نقصان میری وجہ سے ہوا ہے، جس کی بھرپائی میں کبھی نہ کبھی ضرور کردوں گا۔
اب رہیں وہ باتیں جو مبشر نے اس قضیے میں بالکل نہیں بتائیں ، جن پر مجھے زیادہ حیرت ہوئی جب معلوم ہوا کہ مجھ سے رابطے کی کوشش کے بغیر انہوں نے میرے بارے میں ایک پوسٹ لکھ دی ہے۔وہ باتیں یہ ہیں کہ حضرت ان دنوں مجھے اردو ادب کا سب سے بڑا ادیب اور محسن فون پر ثابت کرتے رہتے تھے، انہوں نے مجھ سے یہ بھی درخواست کی کہ میں لوگوں کو یہ ہرگز نہ بتائوں کہ وہ خود اپنی رقم لگا کر یہ کتابیں شائع کروارہے ہیں۔وہ چاہتے ہیں کہ لوگوں پر یہ تاثر قائم ہو کہ ہندوستان میں ان کی کہانیوں کی شہرت کی وجہ سے ان کی کتابیں شائع ہورہی ہیں۔میں نے انہیں جب بتایا کہ میری کوشش ہے کہ ان کی مختصر کہانیوں کو میں شارٹ فلموں کا روپ دے سکوں تو وہ اتنے اکسائٹڈہوئے کہ مجھ سے کہا کہ وہ جیو نیوز پر یہ خبر چلوائیں گے کہ ہندوستان میں ایک پروڈکشن ہائوس نے ان کی کہانیوں پر فلمیں بنائی ہیں۔بعد ازاں انہوں نے مجھے ہندوستان کے ایک اور پبلشر کے ہاتھوں دھوکا کھانے کی روداد بھی سنائی تھی، جس کو پیسے دے کر وہ اس کے مشہور رسالے میں اپنی کہانیاں شائع کروانے کا اعتراف کرچکے تھے۔
مجھے ان کی ان سب باتوں سے کل بھی کوئی پریشانی نہیں تھی، آج بھی نہیں ہے۔شہرت کی خواہش کسے نہیں ہے۔اور جس کے پاس پیسے ہیں، وہ انہیں خرچ کرکے بھی شہرت خریدے تو کیا مسئلہ ہے۔مگر بات صرف اتنی ہے کہ میں انہیں برا آدمی نہیں سمجھتا ہوں۔ان کے نقصان کا ذمہ دار بھی خود کو مانتا ہوں اور سبھی کے سامنے اس بات کا اعادہ بھی کرتا ہوں کہ جب کبھی مجھ سے بن پڑا، میں ضرور ان کی کتاب ہندوستان سے دیوناگری میں شائع کروائوں گا۔وہ مجھ پر الزام لگاتے وقت یہ بھول رہے ہیں کہ وہ جس معاشرے میں سو لفظوں کی کہانیاں لکھتے ہیں ، وہاں کبھی کبھی مجھ جیسے ناتجربہ کار لڑکے ایسے بھیانک دھوکوں کا شکار ہوجاتے ہیں، جن سے ان کا نکل پانا ناممکن ہوتا ہے۔میرے ساتھ جو دھوکا ہوا، اس پر میں نے شور نہیں مچایا۔بلکہ پاکستان کے ایک اور دوسرے ادیب و شاعر ہیں، جن کی کتابیں شائع ہونے کے باوجود ان تک نہیں پہنچ پائی تھیں۔مگر جب ادبی دنیا کے ایک آڈیو پراجیکٹ کو سپانسر کرنے کی بات آئی اور میں نے وہ رقم ان کے نقصان کے طور پر کٹوانا چاہی تو انہوں نے ایک ایسا جملہ کہا جو ان کی شخصیت اور ظرف کو تازندگی میرے کاندھوں پر سوار رکھے گا اور وہ جملہ یہ تھا کہ تصنیف میاں! جو ہوگیا سو ہوگیا،آپ کہیں بھاگے نہیں جارہے، جب آپ اس لائق ہوں گے تو ہم آپ سے خود وہ رقم لے لیں گے۔'
کہانی سو لفظوں کی ہوسکتی ہے، زندگی سو لفظوں کی نہیں ہوتی۔اس میں بڑے پیچ ہیں۔لوگ پہلے بھی میرانام اچھال چکے ہیں، مجھے بدنام کرچکے ہیں، میرے بارے میں الٹا سیدھا بول چکے ہیں۔سو مجھے بدنامی سے کوئی خاصا فرق نہیں پڑتابلکہ ایک دلچسپ واقعہ اسی ذیل میں یہ بھی ہوا کہ ایک صاحب جنہوں نے ادبی دنیا کے لیے چھوٹی سی رقم بطور سپانسر دی تھی، مبشر کے سٹیٹس پر کود پڑے اور کہنے لگےکہ اس لڑکے سے میں نے بھی دھوکا کھایا ہے۔ اور ان کے بقول میں انہیں دھوکا دے کر بلاک کرچکا تھا۔کسی کے یہ بتانے پر جب میں ان کی پروفائل پر گیا تو دیکھا وہ تو میری فرینڈ لسٹ میں موجود ہیں اور ان کی کور فوٹو گنبد خضریٰ کے نور سے جگ مگ کررہی ہے۔میں نے انہیں میسج بھیج کر پوچھا کہ بھائی! میں نے کب آپ کو بلاک کیا ہے۔تو معصومیت سے کہنے لگے کہ میں کنہی اور صاحب کی بات کررہا تھا، مجھے تو پتہ نہیں تھا کہ وہ آپ کی بات کررہے ہیں۔اب مجھے نہیں پتہ کہ انہوں نے میرے علاوہ اور کتنے لوگوں کو ٹھیک اتنی ہی رقم سپانسر شپ کے طور پر دی ہے، جتنی مجھے بھیجی تھی۔ہوسکتا ہے کہ ایسے فیاض آدمی کے ساتھ کسی نے دھوکا کردیا ہو، کوئی بڑی بات نہیں۔کوئی گنبد خضریٰ کو چوبیس گھنٹے اپنی پروفائل پر سجا کر ایسا صاف جھوٹ تو ہرگز نہ بولے گا۔
یقین جانیے کہ میں مبشر کے سفید بالوں کی بھی بڑی قدر کرتا ہوں۔ان کی لکھی ہوئی کہانیاں بہت سے اہم موضوعات پر ہیں، وہ سچ اور جھوٹ کو سفید و سیاہ میں دیکھنے کے بجائےمعاملے کی تہہ تک جانا پسند کرتے ہیں اور سماج کے صحیح نباض اس لیے ہیں کیونکہ صحافی بھی ہیں۔مگر میں ان کی طرح اس شخص کا نام لینے سے پرہیز ہی کروں گا جس نے مجھے دھوکا دیا کیونکہ میں سمجھتا ہوں کہ انسان بعض دفعہ ایسی غلطیاں کرجاتا ہے، جس پر بعد میں کبھی نہ کبھی اسے افسوس ہوتا ہے۔اتنی کہانیاں پڑھنے، اتنے لوگوں کی زندگیوں میں جھانکنے کے بعد اگر میں یہ بھی نہ سمجھا تو کیا خاک سمجھا کہ انسان ہمیشہ اچھائیاں ہی نہیں کرتا، اس سے برائیاں بھی سرزد ہوجاتی ہیں۔مگر میں اس دن کے بارے میں سوچ کر تھوڑا سا فکر مند ضرور ہوں، جب میں اس نقصان کی تلافی کرچکا ہوں گا اور مبشر کی کتاب ہندوستان سے شائع کرواکر یہاں کسی سے اس پر بات کرواتے ہوئے فیس بک لائیو کروارہا ہوں گا، سوچتا ہوں کہ جب مبشر بھی میری طرح کسی گوشے میں بیٹھے اپنی اس حرکت پر شرمندہ ہورہے ہوں گے تو میرا افسوس ان کے تعلق سے تھوڑا گہرا ہوجاتا ہے۔

(یہ اس سلسلے میں میرا آخری اور حتمی جواب ہے، اب جسے یقین کرنا ہے کرے، نہیں کرنا نہ کرے۔میں دونوں طرح کے لوگوں کو برا نہیں سمجھتا، کیونکہ ان میں سے کچھ میرے خیر خواہ ہیں، کچھ مبشر کے اور ہم دونوں ہی کہیں نہ کہیں قلم سے وابستہ ہیں۔قلم جو زبان کی طرح الزام گڑھنے سے پہلے تھوڑا ہچکچاتا ضرور ہے۔)

رابطہ فارم

نام

ای میل *

پیغام *