منگل، 11 ستمبر، 2018

گیارہ سو لفظوں کی روداد/ تصنیف حیدر


ہم لوگ بھی عجیب لوگ ہیں، خاموش زندگی ایک کونے میں گزار رہے ہوتے ہیں اور اچانک ایک جھکڑ کہیں سے آتا ہے اور معلوم ہوتا ہے کہ کوئی آدمی ہماری مخالفت پر کمر بستہ ہے۔ ادھر سنا ہے کہ مبشر علی زیدی (وہی جو سو لفظوں کی کہانیاں لکھتے ہیں)سو لفظوں کا ہنٹر لےکر میری پیٹھ پر سواری کرتے نظر آئے ہیں۔ ان کی وال ان دنوں پچاس ہزار کے صدمے سے چور چور ہے۔کوئی انہیں دلاسہ دے رہا ہے، کوئی کہہ رہا ہے کہ بھول جائو۔ان میں کچھ ایسے لوگ بھی ہیں جو میری فیس بک وال پر بھی موجود ہیں اور مجھ سے یہ پوچھنے کی زحمت بھی گوارا نہیں کررہے کہ میاں تصنیف ! معاملہ کیا ہے۔جو لوگ مجھے جانتے ہیں، وہ اچھی طرح سمجھتے ہیں کہ میری زندگی ایک ننگا سچ ہے۔میں جتنی خوبی سے اپنی اچھائیوں کو تسلیم کرتا ہوں، اتنی ہی بے غیرتی سے اپنی برائیوں کو مان لینے میں کوئی برائی نہیں سمجھتا۔تو سب سے پہلی بات کہ کیا مبشر علی زیدی کے پچاس ہزار روپے میری وجہ سے ڈوبے؟ تو جوا ب یہ ہے کہ ہاں ایسا ہوا ہے اور اس بات کا جتنا مجھے افسوس ہے، اتنا شاید ہی کسی کو ہو۔
لیکن حیرت بس اس بات پر ہے کہ چار سال بعد اچانک یہ زخم کیوں تازہ ہوا۔میں دونوں قسم کے معاملات پر بات کروں گا، مگر نام لینے سے گریز کروں گا کہ اب میں وہ چار سال پرانا تصنیف نہیں ہوں، جو ادھر ادھر لڑتا بھڑتا پھرے۔ مبشر کا کہنا ہے، بقول میرے کچھ دوستوں کے کہ میں نے ان سے لچے طریقے سے بات کی۔ اول تو کی نہیں اور دوم یہ کہ اگر کی بھی تو صرف اتنی کہ انہوں نے کسی کا نام لے کر کہا کہ فلاں شخص نے انہیں 'چونا' لگایا ہے اور میں نے بھی انہیں 'چونا 'لگادیا۔ میں نے کہا کہ بھائی، آپ ادیب ہیں، یہ چونا وونا والی زبان نہ استعمال کیجیے۔ اب سنیے معاملہ شروعات سے، تاکہ جو بات آپ کو مبشر نے نہیں بتائی، جو سچ وہ اپنی کسی مصلحت کی بنیاد پر چھپا لے گئے، اسے بھی جان لیجیے۔
اس چھیچھا لیدر کے پیچھے جو کہ حضرت نے مچا رکھی ہے۔میری اتنی بے وقوفی ضرور ہے کہ اس زمانے میں میں نے اپنے ایک دوست کے بھروسے پر یہ ارادہ کیا کہ پاکستان کے ادیبوں کی کتابیں ہندوستان میں دیوناگری میں شائع کرائی جائیں اور اچھے ادب کو ان تک پہنچایا جائے۔ مبشر کی تحریر مجھے پسند آتی تھی۔(اب نہیں آتی، اور اس کی وجہ یہ نہیں کہ وہ میری مخالفت پر کمربستہ ہیں، بس جب سے میں سو لفظوں سے آگے بڑھا ہوں، سمجھ میں آیا ہے کہ لکھنے کے لیے تھوڑا بہت پڑھا لکھا ہونا ضروری ہے۔)خیرمیں نے اس سلسلے میں تین ادیبوں سے رابطہ کیا، جن میں سے دو کے نام میں نہیں بتائوں گا کیونکہ وہ اس معاملے میں کہیں موجود نہیں ہیں، انہیں میں مبشر بھی تھے۔ان کی مجھ سے ان دنوں فون پر اور فیس بک میسجز پر بات ہوتی تھی۔میں نے انہیں وہ رقم بتائی جو کہ میرے دوست نے مجھے بتائی تھی۔مبشر نے ہامی بھری اور رقم مجھے ایک دوسرے ادیب کے ہاتھ ڈالر کی شکل میں بھیج دی جو کہ ان دنوں ہندوستان آئےتھے۔ہم نے کروفر سے تیاریاں شروع کیں۔ 'کتاب شناسی' کا پروگرام تیار کیا گیا، موجودہ رقم میں سے جو فائدہ مجھے ہونے والا تھا، اس کی ایک اچھی خاصی رقم پروگرام پر خرچ کی اور اپنے وقت کے بہترین ادیبوں کو ان کتابوں کے اجرا کے موقع پر بلوایا گیا۔ اب چونکہ جن حضرت کو میں نے یہ کام دلوایا تھا، انہوں نے ایک کے علاوہ دوسری کتابیں شائع نہیں کی تھیں، تو وہ کہنے لگے کہ پروگرام کی تاریخ تو نہیں ٹالی جاسکتی۔آپ مسودہ دے کر ادیبوں سے بات کروالیں اور پھر اگلے ہی ہفتے کتابیں شائع ہوجائیں گی۔میں نے ان پر ویسا ہی اندھا یقین کرتا تھا، جیسا کہ میری ایک ادیب دوست مبشر پر کرتی ہیں کہ مبشر سب کچھ کرسکتے ہیں، مگر جھوٹ نہیں بول سکتے۔
پروگرام کے دوران کسی بات پر میرے چھوٹے بھائی سے پبلشر صاحب کی تو تو میں میں ہوگئی۔میں نے ہرچند معاملے کو رفع دفع کرنا چاہا۔اپنے چھوٹے بھائی کو ڈانٹا ڈپٹا اور پورے معاملے میں پبلشر صاحب کی ہی پچھ لیتا رہا۔(اس کے گواہ اس وقت وہاں موجو د کچھ لوگ بھی ہیں)مگر پبلشر صاحب ہتھے سے اکھڑ چکے تھے، انہوں نے یہ طے کرلیا کہ اب جو کچھ ہوجائے وہ میرا نام بدنام کرکے ہی رہیں گے اور یہ بھی نہ سوچا کہ تمام لوگوں سے میں نے بات کی تھی، اس لیے نام میرا اچھالا جائے گا۔سارا یقین تار تار کرکے حضرت نے نہ وہ کتابیں چھاپیں اور جو چھپ گئی تھیں، وہ مجھے دینے سے بھی انکار کردیا تاکہ میں ہر طرف سے پریشان و رسوا ہوتا رہوں۔اس دوران مبشر مجھ سے کتابوں کے بارے میں پوچھتے تو مجھے مجبورا کوئی بہانہ کرنا پڑتا۔تب تک میں سوچتا تھا کہ میں کسی طرح اپنے دوست کو اس کے وعدوں کا یقین دلاکر سمجھا بجھا لوں گا ،مگر بات بنی نہیں۔اور جب انہوں نے میرا فون ریسیو کرنا بھی بند کردیا تو میں نے اپنے ایک دوست سے کہا کہ ان سے کہیے کہ کم از کم مجھے پیسے ہی لوٹا دیں تاکہ میں وہ کتابیں چھاپ کر ان لوگوں کو بھیج تو سکوں جنہوں نے مجھ پر بھروسہ کرکے رقم دی ہے۔مگر حضرت نے ان سے صاف کہہ دیا کہ انہیں تو کوئی رقم ملی ہی نہیں۔اتنے صاف جھوٹ کے بعد پھر میں نے پبلشر صاحب سے کوئی رابطہ نہیں کیا اور نہ کوشش کی۔تب تک مبشر مجھ سے مطالبہ کرنا چھوڑ کر مجھے فیس بک سے ان فرینڈ اور بلاک کرچکے تھے۔میری ان سے کوئی بات نہیں ہوسکی۔مگر جب بھی کسی شخص نے جو ان کا اور میرا مشترکہ دوست تھا، اس حوالے سے پوچھا تو میں نے یہی کہا کہ ہاں غلطی میری ہے اور ان کا نقصان میری وجہ سے ہوا ہے، جس کی بھرپائی میں کبھی نہ کبھی ضرور کردوں گا۔
اب رہیں وہ باتیں جو مبشر نے اس قضیے میں بالکل نہیں بتائیں ، جن پر مجھے زیادہ حیرت ہوئی جب معلوم ہوا کہ مجھ سے رابطے کی کوشش کے بغیر انہوں نے میرے بارے میں ایک پوسٹ لکھ دی ہے۔وہ باتیں یہ ہیں کہ حضرت ان دنوں مجھے اردو ادب کا سب سے بڑا ادیب اور محسن فون پر ثابت کرتے رہتے تھے، انہوں نے مجھ سے یہ بھی درخواست کی کہ میں لوگوں کو یہ ہرگز نہ بتائوں کہ وہ خود اپنی رقم لگا کر یہ کتابیں شائع کروارہے ہیں۔وہ چاہتے ہیں کہ لوگوں پر یہ تاثر قائم ہو کہ ہندوستان میں ان کی کہانیوں کی شہرت کی وجہ سے ان کی کتابیں شائع ہورہی ہیں۔میں نے انہیں جب بتایا کہ میری کوشش ہے کہ ان کی مختصر کہانیوں کو میں شارٹ فلموں کا روپ دے سکوں تو وہ اتنے اکسائٹڈہوئے کہ مجھ سے کہا کہ وہ جیو نیوز پر یہ خبر چلوائیں گے کہ ہندوستان میں ایک پروڈکشن ہائوس نے ان کی کہانیوں پر فلمیں بنائی ہیں۔بعد ازاں انہوں نے مجھے ہندوستان کے ایک اور پبلشر کے ہاتھوں دھوکا کھانے کی روداد بھی سنائی تھی، جس کو پیسے دے کر وہ اس کے مشہور رسالے میں اپنی کہانیاں شائع کروانے کا اعتراف کرچکے تھے۔
مجھے ان کی ان سب باتوں سے کل بھی کوئی پریشانی نہیں تھی، آج بھی نہیں ہے۔شہرت کی خواہش کسے نہیں ہے۔اور جس کے پاس پیسے ہیں، وہ انہیں خرچ کرکے بھی شہرت خریدے تو کیا مسئلہ ہے۔مگر بات صرف اتنی ہے کہ میں انہیں برا آدمی نہیں سمجھتا ہوں۔ان کے نقصان کا ذمہ دار بھی خود کو مانتا ہوں اور سبھی کے سامنے اس بات کا اعادہ بھی کرتا ہوں کہ جب کبھی مجھ سے بن پڑا، میں ضرور ان کی کتاب ہندوستان سے دیوناگری میں شائع کروائوں گا۔وہ مجھ پر الزام لگاتے وقت یہ بھول رہے ہیں کہ وہ جس معاشرے میں سو لفظوں کی کہانیاں لکھتے ہیں ، وہاں کبھی کبھی مجھ جیسے ناتجربہ کار لڑکے ایسے بھیانک دھوکوں کا شکار ہوجاتے ہیں، جن سے ان کا نکل پانا ناممکن ہوتا ہے۔میرے ساتھ جو دھوکا ہوا، اس پر میں نے شور نہیں مچایا۔بلکہ پاکستان کے ایک اور دوسرے ادیب و شاعر ہیں، جن کی کتابیں شائع ہونے کے باوجود ان تک نہیں پہنچ پائی تھیں۔مگر جب ادبی دنیا کے ایک آڈیو پراجیکٹ کو سپانسر کرنے کی بات آئی اور میں نے وہ رقم ان کے نقصان کے طور پر کٹوانا چاہی تو انہوں نے ایک ایسا جملہ کہا جو ان کی شخصیت اور ظرف کو تازندگی میرے کاندھوں پر سوار رکھے گا اور وہ جملہ یہ تھا کہ تصنیف میاں! جو ہوگیا سو ہوگیا،آپ کہیں بھاگے نہیں جارہے، جب آپ اس لائق ہوں گے تو ہم آپ سے خود وہ رقم لے لیں گے۔'
کہانی سو لفظوں کی ہوسکتی ہے، زندگی سو لفظوں کی نہیں ہوتی۔اس میں بڑے پیچ ہیں۔لوگ پہلے بھی میرانام اچھال چکے ہیں، مجھے بدنام کرچکے ہیں، میرے بارے میں الٹا سیدھا بول چکے ہیں۔سو مجھے بدنامی سے کوئی خاصا فرق نہیں پڑتابلکہ ایک دلچسپ واقعہ اسی ذیل میں یہ بھی ہوا کہ ایک صاحب جنہوں نے ادبی دنیا کے لیے چھوٹی سی رقم بطور سپانسر دی تھی، مبشر کے سٹیٹس پر کود پڑے اور کہنے لگےکہ اس لڑکے سے میں نے بھی دھوکا کھایا ہے۔ اور ان کے بقول میں انہیں دھوکا دے کر بلاک کرچکا تھا۔کسی کے یہ بتانے پر جب میں ان کی پروفائل پر گیا تو دیکھا وہ تو میری فرینڈ لسٹ میں موجود ہیں اور ان کی کور فوٹو گنبد خضریٰ کے نور سے جگ مگ کررہی ہے۔میں نے انہیں میسج بھیج کر پوچھا کہ بھائی! میں نے کب آپ کو بلاک کیا ہے۔تو معصومیت سے کہنے لگے کہ میں کنہی اور صاحب کی بات کررہا تھا، مجھے تو پتہ نہیں تھا کہ وہ آپ کی بات کررہے ہیں۔اب مجھے نہیں پتہ کہ انہوں نے میرے علاوہ اور کتنے لوگوں کو ٹھیک اتنی ہی رقم سپانسر شپ کے طور پر دی ہے، جتنی مجھے بھیجی تھی۔ہوسکتا ہے کہ ایسے فیاض آدمی کے ساتھ کسی نے دھوکا کردیا ہو، کوئی بڑی بات نہیں۔کوئی گنبد خضریٰ کو چوبیس گھنٹے اپنی پروفائل پر سجا کر ایسا صاف جھوٹ تو ہرگز نہ بولے گا۔
یقین جانیے کہ میں مبشر کے سفید بالوں کی بھی بڑی قدر کرتا ہوں۔ان کی لکھی ہوئی کہانیاں بہت سے اہم موضوعات پر ہیں، وہ سچ اور جھوٹ کو سفید و سیاہ میں دیکھنے کے بجائےمعاملے کی تہہ تک جانا پسند کرتے ہیں اور سماج کے صحیح نباض اس لیے ہیں کیونکہ صحافی بھی ہیں۔مگر میں ان کی طرح اس شخص کا نام لینے سے پرہیز ہی کروں گا جس نے مجھے دھوکا دیا کیونکہ میں سمجھتا ہوں کہ انسان بعض دفعہ ایسی غلطیاں کرجاتا ہے، جس پر بعد میں کبھی نہ کبھی اسے افسوس ہوتا ہے۔اتنی کہانیاں پڑھنے، اتنے لوگوں کی زندگیوں میں جھانکنے کے بعد اگر میں یہ بھی نہ سمجھا تو کیا خاک سمجھا کہ انسان ہمیشہ اچھائیاں ہی نہیں کرتا، اس سے برائیاں بھی سرزد ہوجاتی ہیں۔مگر میں اس دن کے بارے میں سوچ کر تھوڑا سا فکر مند ضرور ہوں، جب میں اس نقصان کی تلافی کرچکا ہوں گا اور مبشر کی کتاب ہندوستان سے شائع کرواکر یہاں کسی سے اس پر بات کرواتے ہوئے فیس بک لائیو کروارہا ہوں گا، سوچتا ہوں کہ جب مبشر بھی میری طرح کسی گوشے میں بیٹھے اپنی اس حرکت پر شرمندہ ہورہے ہوں گے تو میرا افسوس ان کے تعلق سے تھوڑا گہرا ہوجاتا ہے۔

(یہ اس سلسلے میں میرا آخری اور حتمی جواب ہے، اب جسے یقین کرنا ہے کرے، نہیں کرنا نہ کرے۔میں دونوں طرح کے لوگوں کو برا نہیں سمجھتا، کیونکہ ان میں سے کچھ میرے خیر خواہ ہیں، کچھ مبشر کے اور ہم دونوں ہی کہیں نہ کہیں قلم سے وابستہ ہیں۔قلم جو زبان کی طرح الزام گڑھنے سے پہلے تھوڑا ہچکچاتا ضرور ہے۔)

کوئی تبصرے نہیں:

رابطہ فارم

نام

ای میل *

پیغام *